شوشہ نہ کہ حقیقت
Al-Risala, July 1990, pp. 44–47
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خبر پڑھی۔ یہ خبر انگریزی اخباروں میں مختصر طور پر اور قومی آواز (یکم فروری ۱۹۹۰) میں زیادہ تفصیل کے ساتھ جین مت کے مشہور پیشوا اچاریہ منی سوشیل کمار و شو ہندو پریشد کے سات بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کے جھگڑے کو پر امن طور پر طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے افراد شریک ہیں۔
"منی سوشیل کمار جی ۲۴ جنوری ۱۹۹۰ کو اپنی کمیٹی کے ۱۳ ممبروں کے ساتھ اجودھیا پہنچے۔ اجودھیا کی "متنازعہ عبادت گاہ" کا تقریباً ایک گھنٹہ تک تفصیلی معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران کمیٹی کے افراد نے اس پر خصوصی توجہ دی کہ عمارت کے دروازہ پر لگے ہوئے کتبہ میں لفظ "مسجد" موجود نہیں۔ جین منی اچاریہ سوشیل کمار اور ان کی ٹیم یہاں خیرسگالی کے لیے اور حقائق معلوم کرنے کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بابری مسجد کے بیرونی اور اندرونی حصہ کو دیکھا۔ متنازعہ عمارت کے دروازہ پر لگے ہوئے پتھر میں فارسی زبان کے کتبہ کا جین منی اور ان کی ٹیم نے خصوصی معائنہ کیا۔ مبینہ طور پر اس کتبہ میں لفظ "مسجد" کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ جین منی نے اپنے ساتھ آنے والے ماہرین سے سوال کیا کہ اس کتبہ میں مسجد کا لفظ نہیں ہے ۔ اس کی کیا وضاحت کی جاسکتی ہے۔ نے اس نکتہ کو اہمیت دی۔
رائے قائم کرنے کا یہ انداز نہایت غلط ہے۔ یہ حقائق کو چھوڑ کر شوشہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے یہ انداز موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ عام ہے۔ وہ مسلمانوں میں بھی اتنا ہی زیادہ پایا جاتا ہے جتنا غیر مسلموں میں۔
اس ذہنیت کا سب سے زیادہ مظاہرہ اختلافی معاملات میں ہوتا ہے۔ زید کو اگر بکر کی ذات سے اختلاف و عناد پیدا ہو جائے تو اس کے بعد بکر کی زندگی کے تمام قابل ذکر پہلو اس کے لیے ناقابل ذکر اور غیراہم بن جائیں گے۔ اب زید کی نظر میں ساری اہمیت صرف ایک فرضی شوشہ کو ہو جائے گی جو اتفاق سے وہ بکر کی زندگی میں پالے۔
یہ طریقہ جس طرح، بابری مسجد کے معاملہ میں غلط ہے اسی طرح وہ دوسرے معاملات میں بھی غلط ہے۔ مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی برا ہے جتنا ہندوؤں کے لیے۔
صدر اسلامی مرکز نے مارچ ۱۹۹۰ میں کچھ بیرونی ملکوں کا سفر کیا۔ اس سفر کے ذیل میں بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوئی اور خطابات کے مواقع ملے۔ سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
انگلینڈ کی برمنگھم یونیورسٹی میں ایک شعبہ ساؤتھ ایشین ریسرچ اسٹیڈیز کے نام سے قائم ہے۔ اس کے ایک انگریز پروفیسر سی ڈبلیو نارتھ (C.W. North) ۸ مارچ ۱۹۹۰ کو اسلامی مرکز میں آئے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی تبادلہ خیال وہ کئی گھنٹے مرکز میں رہے۔ جاتے ہوئے انھیں مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات دی گئیں۔ غیرمسلم صاحبان کثرت سے اسلام کو سمجھنے کے لئے مرکز سے رجوع کر رہے ہیں۔ مثلاً ۱۱ اپریل ۱۹۹۰ کو مسٹر پاریش ناتھ ڈائرکٹر ڈبلیو پیس پتریکا (لیڈ)، صدر اسلامی مرکز سے ملے اور اسلام کے مختلف پہلوؤں کے متعلق معلومات کیں۔ ان کو الرسالہ انگریزی کے کئی شمارے برائے مطالعہ دئے گئے۔ مسٹر ڈبلیو ڈھلیکار (بودھ گیا، بہار) نے الرسالہ انگریزی کا ایک شمارہ پڑھا۔ اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ اس کو مستقل اپنے مطالعہ میں رکھیں۔ وہ الرسالہ انگریزی کی بابت اپنے خط میں لکھتے ہیں:
I found indeed, it is very interesting and very helpfull for the present day جاپانی اخبار سیکائی نیو (Sekai Nippo) کے نمائندہ مسٹر کو نیو نیشی (Kunio Nishi) ۳۰ مارچ ۱۹۹۰ کو دوسری بار مرکز میں آئے اور اپنے اخبار کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں تھے۔ جناب اقبال احمد صاحب (مراد آباد) نے بتایا کہ انھوں نے اپنے چھوٹے صاحبزادہ کو جامعہ طیبہ (دہلی) میں داخل کرایا۔ وہاں ان کو ہاسٹل کا کمرہ بھی مل گیا۔ مگر صاحبزادہ کا دل نہیں لگا اور ایک مہینہ کے بعد وہ اپنا سامان لے کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ میرا دل وہاں پڑھنے میں نہیں لگتا۔ اقبال احمد صاحب نے ان سے کچھ اور نہیں کہا۔
انہوں نے اپنی الماری سے الرسالہ کا ایک شمارہ (مئی ۱۹۸۲) نکالا اور کہا کہ اس کو پڑھ ڈالو اور کئی بار پڑھو۔ چند دن تک صاحبزادہ اس پرچہ کو پڑھتے رہے ۔ اس کے بعد خود کہا کہ میں دہلی جا رہا ہوں۔ وہ دوبارہ آکر محنت سے پڑھنے لگے۔ اس طرح بہت سے لوگ الرسالہ کے ذریعہ اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں۔
۶- عرب ملکوں میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ غیر مسلم لوگ رہتے ہیں جو پٹرول اور دوسرے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اطلاع ملی ہے کہ ان لوگوں کے درمیان انگریزی الرسالہ اور مرکز کی دوسری انگریزی مطبوعات کے ذریعہ اسلام کی دعوت پہنچائی جا رہی ہے۔ سے لوگوں نے اس کے بعد اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ لوگ مزید انگریزی لٹریچر کی مانگ کر رہے ہیں۔
۷- الرسالہ کے مضامین مسلم اخبارات و رسائل کے علاوہ غیر مسلم پریس میں بھی برابر چھپ رہے مثلاً نئی دہلی کا انگریزی پرچہ لوکائن بلیٹن (مئی ۱۹۹۰) نے الرسالہ انگریزی کا ایک آرٹیکل دوبارہ پورے حوالہ کے ساتھ چھاپا ہے۔ اس طرح الرسالہ کی آواز وسیع تر حلقہ میں پہنچ رہی ہے۔
۸- کئی لوگوں نے بتایا کہ ان کے لڑکے یورپ اور امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا وہاں کام کرتے ہیں، وہ ہندوستان میں انگریزی الرسالہ خریدتے ہیں اور اس کو پڑھنے کے بعد یورپ اور امریکہ میں اسے اپنے لڑکوں کو بھیج دیتے ہیں۔ ایسا بہت سے لوگ کر رہے ہیں۔ اس طرح الرسالہ کا پیغام اپنے خریداروں کے ذریعہ بہت سے ملکوں میں پہنچ رہا ہے۔ ۹- اپریل ۱۹۹۰ میں صدر اسلامی مرکز کی دو تقریریں آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئیں ۔ ایک تقریر ۱۹ اپریل کو اور دوسری تقریر ۲۶ اپریل کو ۔ دونوں تقریریں اخلاقی اور اصلاحی نوعیت کی تھیں۔ ان کو الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ان تقریروں کے عنوانات یہ تھے : انتقام نہیں، اور حقیقت پسندی۔
۱۰- بدر الدین احمد صاحب (مراد آباد) اپنے کاروبار کے سلسلہ میں اکثر سفر کرتے ہیں۔ کے ساتھ بیگ میں الرسالہ کے کچھ شمارے بھی ضرور ہوتے ہیں۔ وہ راستہ میں لوگوں کو
الرسالہ پڑھاتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کئی واقعے بتائے۔ مثلاً وہ مراد آباد سے دہلی آ رہے تھے۔ راستہ میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی جو ایک ہائر سکنڈری اسکول میں استاد ہیں۔ انھوں نے ان کو الرسالہ جنوری ۱۹۹۰ دیا اور ا کہ پہلے اس کا مضمون ایک نمونہ (صفحہ ۲۳) ، پڑھئے انھوں نے پڑھنے کے بعد کہا کہ " میں نے آج تک کسی عالم کو نہ پڑھا اور نہ دیکھا جو مسلمانوں کو اس طرح کی باتیں بتائے۔ یہ ایک منفرد رسالہ ہے۔ اب تک میں اس سے واقف نہ تھا۔ اب میں اس کو برابر پڑھوں گا۔ اس طرح وہ تقریبا دس سال سے کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو الرسالہ کا قاری بنایا ہے۔ مسافروں کو بھی پڑھاتے ہیں اور مسلم مسافروں کو بھی۔ غیر اردو دانوں کو پڑھ کر وہ
ایک صاحب الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بچے انگریزی درس گاہوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ اردو سمجھتے ہیں مگر وہ اردو پڑھ نہیں سکتے۔ انھوں نے بتایا کہ جب الرسالہ آتا ہے تو میں اپنے بچوں کو بٹھاتا ہوں اور ان کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ کے دوسرے بہت سے قاری بھی اپنے گھروں میں ایسا ہی کر رہے ہیں۔
مولا نا مقبول احمد مفتاحی (اجرا ء ، مدھوبنی)، جامع مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر ہفتہ وہ جمعہ کے خطبے سے پہلے آدھ گھنٹہ تقریر کرتے ہیں۔ اس میں زیادہ تر الرسالہ سے اصلاحی باتیں لے کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ مختلف مقامات پر مسجدوں کے ذریعہ الرسالہ کا تعمیری پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: آپ کی کئی کتابیں میں نے پڑھ لیں۔ ان سے بہت متاثر ہوں۔ جیسی ایمان افروز اور ولولہ انگیز کتاب آج تک میری نظر سے نہیں گزری۔ اس کو پڑھ کر معلوم ہوا کہ اسلام کا مطلب کیا ہے۔ اور وہ اپنے ماننے والے کو کیا بنا دیتا ہے۔ اس کو سمندر کا اضطراب اور ساحل کا سکوت عطا کرتا ہے۔ الرسالہ برابر مل رہا ہے۔ پڑھ کر عجیب روحانی کیف محسوس کرتا ہوں ۔ فکر و تدبر کی نئی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ سچ ہے از دل خیزد بردل (بدر جمال اصلاحی ، سرائمیر، اعظم گڑھ)