He died on way to hospital.
Al-Risala, August 1990, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس خبر کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں۔ یہی تمام انسانوں کی ہر آدمی کہیں جا رہا ہے، مگر ہر آدمی راستے میں مر جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے خوابوں کی ایک دنیا بنانا چاہتا ہے، مگر کسی آدمی کا خواب پورا نہیں ہوتا، اور وہ حسرت و یاس کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔
اعظم گڑھ میں ایک راجہ ہر کھ چند تھے ۔ ۱۹۴۷ کے پہلے کے دور میں انھوں نے شہر میں ایک محل نما کوٹھی بنانا شروع کیا۔ برس ہا برس تک اس میں کام ہوتا رہا۔ مگر ان کی زندگی میں کوٹھی مکمل نہ ہو سکی۔ وہ اس کو مکمل صورت میں دیکھے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنا ایک دل پسند" مکان" بنا رہا ہے۔ جس آدمی کے پاس ذاتی مکان نہیں وہ دوسرے کے مکان پر غاصبانہ قبضہ کر کے صاحب مکان بن جانا
مگر آخر میں ہر آدمی بے مکان رہ جاتا ہے۔ کسی کا مکان کھڑا ہونے کے بعد بھونچال کے ذریعہ توڑ دیا کسی کو موت کا فرشتہ اس کے مکان سے جدا کر دیتا ہے۔ ہر آدمی راستے میں ختم ہو رہا ہے ۔ کوئی بھی اپنی پسندیدہ منزل پر نہیں پہنچتا۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ راستے میں مرے۔ یہاں کسی بھی شخص کو اس کی مطلوبہ منزل نہیں مل سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا راستہ ہے۔ یہ دنیا منزل نہیں۔ انسان کی منزل آخرت میں ہے ۔ عقل مند وہ ہے جو دنیا کو راستہ سمجھے اور آخرت کو اپنی منزل بنائے۔ یہی وہ شخص ہے جو آخر کار اپنی پسندیدہ منزل تک پہنچے گا۔