Al-Risala · August 1990

انصاف کا طریقہ

Al-Risala, August 1990, pp. 9–3

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ کے ابتدائی زمانہ میں جب قریش کی زیادتیاں بہت بڑھ گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ مکہ کو چھوڑ کر حبش چلے جاؤ۔ حبش میں ایک بادشاہ ہے جس کے یہاں کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ تم لوگ اس کے ملک میں چلے جاؤ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دے (ان بارض الحبشة مَلكاً لا يظلم احد عنده فالحقوا ببلاده حتى يجعل الله لكم فرجاً ومخرجاً مما انتم فيه ، ۱۷)

چنانچہ صحابہ ایک سو سے زیادہ تعداد میں اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گیے۔ قریش مکہ کو معلوم ہوا تو انھوں نے مشورہ کرکے اپنے دو آدمیوں، عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ کو حبش روانہ کیا۔ وہاں انھوں نے بادشاہ کے درباریوں کو تحفے دے کر اس پر راضی کر لیا کہ بادشاہ کے یہاں وہ لوگ ان کی سفارش کریں گے۔ اس کے بعد مکہ کا وفد حبش کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں داخل ہوا۔ نے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ آبائی دین چھوڑ کر آپ کے ملک میں آ گئے ہیں۔ اب ان کے خاندان اور قبیلہ کے لوگوں نے ہم کو یہاں بھیجا ہے کہ ہم انھیں ان کے گھروں کی طرف واپس لے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں اور ان کو ہمارے سپرد تمام درباریوں نے اس مطالبہ کی تائید کی۔

مکہ کا وفد یہ چاہتا تھا کہ صرف ان کے کہنے پر بادشاہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دے اور خود مسلمانوں کو بلا کر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ کرے۔ جب انھوں نے بادشاہ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو بادشاہ بگڑ گیا۔ اس نے کہا، خدا کی قسم نہیں، میں ہرگز ان کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا جب تک ایسا نہ ہو کہ میں ان کو اپنے یہاں بلاؤں اور ان سے بات کروں اور دیکھوں کہ ان کا معاملہ کیا

موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ نجاشی کے امراء نے مکہ کے وفد کے مطالبہ کی تائید کی اور بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کو فورا ان کے حوالے کر دے۔ مگر نجاشی نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک میں ان کی بات سن نہ لوں اور یہ جان لوں کہ وہ لوگ کس چیز پر

ہیں رو ذکر موسی بن عقبۃ ان أُمَرَاءَهُ أَشَارُوا عليه بان يرد هم اليهم۔ فقال لا والله حتى اسمع کلامہم واعلم على آی شئی هم عليه (۱۸۰)

اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ جو مسلمان ہمارے ملک میں آئے ہیں، ان کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ وہ لوگ دربار میں داخل ہوئے تو وہاں کے عام آداب کے خلاف انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ نجاشی ایک عیسائی بادشاہ تھا۔ سابقہ عقیدہ کے مطابق، وہ حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔ مگر گفتگو کے دوران جب حضرت عیسی کا ذکر ہوا تو صحابہ کے نمائندہ جعفر بن ابی طالب نے صاف کہہ دیا کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے، وہ خدا کے بیٹے نہ تھے۔ نجاشی نے پوری بات معلوم کرنے کے بعد مکہ کے وفد کے ہدیہ اور تحفہ کو واپس کر دیا۔ ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے ملک کو لوٹ جاؤ، میں ان مسلمانوں کو ہرگز تمہارے سپرد کرنے والا نہیں۔ وہ میرے ملک میں جب تک چاہیں گے رہیں گے۔ (سیرۃ ابن کثیر، المجلد الثانی، صفحہ ۲۲) یہی انصاف کا صحیح طریقہ ہے۔ انصاف یک طرفہ کارروائی کا نام نہیں۔ انصاف دونوں فریق کے بعد منصفانہ فیصلہ دینے کا نام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تصدیق کے مطابق ، نجاشی کا عمل بلا شبہ انصاف کا معیاری نمونہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے جو دو فریقوں سے تعلق رکھتا ہو تو ایسے موقع پر ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ کر دینا سراسر ظلم ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی شخص کے لیے درست نہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہو۔

شاہ نجاشی نے بعد کو اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے نجاشی کا نمونہ ایک عادل اور مسلم بادشاہ کا نمونہ ہے۔ نجاشی اس معاملہ میں نہ اہل مکہ کے تحفوں اور نذرانوں سے متاثر ہوا، نہ اس نے اپنے مصاحبوں اور قریبی لوگوں کے مشورہ اور سفارش کو مانا۔ حتی کہ شاہ نجاشی نے اس کی پروا بھی نہیں کی کہ مسلمانوں نے خود اس کی بھی وہ تعظیم و تکریم نہیں کی جس کا وہ عادی تھا۔ اور اس طرح گویا وہ بر سر دربار اس کی توہین کے مرتکب ہوئے ۔ مزید یہ کہ انہوں نے بادشاہ اور ساری قوم کے مذہبی عقائد کی تردید کی اور اس کو غلط بتایا۔

ان سب ناموافق پہلوؤں کے باوجود نجاشی نے کسی بات کی کوئی پروا نہیں کی۔ معاملہ کے صرف عدل وانصاف کے پہلو کو دیکھا، دوسرے تمام ذاتی یا غیر ذاتی پہلوؤں کو اس نے یکسر نظر انداز کردیا۔ اس نے دونوں فریقوں کی بات سن کر معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی۔ اور پھر جو انصاف کا تقاضا تھا، اس کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یہ واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاہ نجاشی کے اندر جو ہر انسانیت پوری طرح موجود خدا نے جس فطرت پر اس کو پیدا کیا تھا، اس فطرت کو اس نے اپنی اصل حالت پر باقی رکھا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ حق جب اس کے سامنے آیا تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگی۔ بظاہر وہ اس کے تصورات کے خلاف تھا، مگر اس نے کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اس کی صداقت کا اعتراف کیا۔ وہ فوراً اس کے آگے جھک گیا۔

اپنی ان خصوصیات کی بنا پر وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر کرے۔ اس کو ایمان کی توفیق دے کر اس کو آخرت کی ابدی نعمتوں کا مستحق بنائے۔ سے ثابت ہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کے حق میں اللہ تعالی سے خصوصی دعائیں کیں۔

سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی عدل کے مطابق فیصلہ کرے، خواہ اس کے لیے اس کے اوپر کوئی دباؤ نہ ہو، خواہ عادلانہ فیصلہ کرنا اس کے نفس اور اس کے مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو۔ یہی وہ بلند روحیں ہیں جن کو قیامت میں عرش خداوندی کے سایہ میں جگہ دی جائے گی۔ الہی عدل کی بین الاقوامی استقامت :

قیمت ۲۰ روپیہ قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں

Printed page