اصل مسئلہ
Al-Risala, August 1990, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسطینی تحریک انتفاضہ (uprising) کے بارہ میں بہت سی کتابیں چھپی ہیں۔ سے ایک ۱۷۵ صفحہ کی وہ عربی کتاب ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے : علی طريق الانتفاضة المباركة ، بقلم منير سعيد، دار النفائس ، الكويت ، ١٤١٠ھ اس کتاب کے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلم عورت مدینہ کے ایک یہودی بازار میں تھی۔ ایک یہودی نے اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش عورت نے فریاد کرتے ہوئے کہا : وا اسلاماہ (ہائے اسلام ) قریب کے ایک مسلمان نے اس کو سنا اور فوراً ہی تلوار لے کر یہودی کی گردن ماردی۔
اسی طرح عموریہ میں ایک مسلم عورت کو رومیوں نے گرفتار کر لیا۔ اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا : وامعتصماه (ہائے معتصم ) ایک مسلمان نے اس پکار کو سنا اور اس کو بغداد کے خلیفہ معتصم تک پہنچایا ۔ خلیفہ معتصم فوراً فوج لے کر روانہ ہوا اور عموریہ پہنچ کر مسلم خاتون کو رہائی دلائی ۔ تاریخ اسلامی کے ان دو واقعات کو نقل کرنے کے بعد صاحب کتاب لکھتے ہیں: كم انطلقت صيحات الاستغاثة کتنی ہی بار فلسطین میں اور لبنان کے خیمہ گاہوں والا ستنجاد من افواه الثكارى واليتامىٰ میں اور مختلف ملکوں میں، بیواؤں اور یتیموں اور والشيوخ والاطفال فى فلسطين وفي مخيمات بوڑھوں اور بچوں کے منہ سے فریاد اور اعانت لبنان وفي شتي بلاد المسلمين دون ان تلقى طلبی کی پکار بلند ہوئی۔ مگر مسلمانوں کی طرف سے من المسلمين استجابة ۔ لم يتحرك في الامة انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ امت میں کوئی رہنما قائد ولا زعيم ولا فريق ولا عميد اور کوئی لیڈر اور کوئی جماعت اور کوئی حاکم لنجدة هؤلاء المستغيثين وكأن المسلمين ان کی مدد کے لیے حرکت میں نہیں آیا۔ گویا کہ رویئے في ارجاء الارض لا يعنيهم امر إخوانهم زمین کے مسلمانوں کے لیے ان کے بھائیوں کا (صفحه ۶۰-۶۱) معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
صاحب کتاب کے یہ آخری الفاظ بالکل خلاف واقعہ ہیں۔ حقیقت عین اس کے برعکس
اصل واقعہ یہ ہے کہ فلسطین میں اور دوسرے ملکوں میں مظلوم مسلمانوں (عورتوں اور مردوں) کی پکار پر بے شمار لوگ اٹھے۔ ۱۹۴۸ میں حسن البنا مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت کے ساتھ اٹھے اور لبیک یا فلسطین کا نعرہ لگاتے ہوئے یہودیوں کے خلاف جہاد کیا۔ ۱۹۶۵ میں جمال عبدالناصر نے حکومت کی پوری طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ مگر یہ ساری کوششیں غیر موثر ثابت ہوئیں۔ اسی طرح ساری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت میں جہاد کیا اور اسی راہ میں اپنی جانیں دیدیں۔
مدینہ میں یا عموریہ میں مظلوم خاتون کی مدد کے لیے جو قربانی دی گئی ، وہ مقدار کے اعتبار سے اس سے بہت کم ہے جو موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مظلوم عورتوں اور مردوں کے لیے دی گئی مگر نتیجہ بالکل مختلف ہے۔ مدینہ میں اور عموریہ میں نسبتاً کم قربانی سے جو مقصد حاصل کر لیا گیا تھا، وہ موجودہ زمانہ میں زیادہ قربانی کے باوجود حاصل نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ نہایت سادہ ہے۔ مدینہ اور عموریہ کا اقدام ضروری تیاری کے بعد کیا گیا تھا، جب کہ موجودہ زمانہ کے اقدامات ضروری تیاری کے بغیر کیے جاتے رہے ۔ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مکمل کامیابی ہوئی، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اپنے اقدام میں مطلق کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔
صاحب کتاب اور اس قسم کے دوسرے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کا آغاز " مدینہ " اور عموریہ " سے کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں ۔ انھیں اپنی سوچ کا آغاز " مکہ " سے کرنا چاہیے ۔ " مدینہ " اور " عموریہ " تو تاریخ کا اختتام تھا ، وہ تاریخ کا آغاز نہ تھا۔ تاریخ کا آغاز تو مکہ سے ہوا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زوال کی بنا پر تاریخ دوبارہ پیچھے طرف لوٹ گئی آج ہم اپنی تاریخ کے آغاز میں ہیں، ہم اپنی تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ اس لیے وہ ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ ناکامی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ تھا۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے لوٹ کر مکہ کے ابتدائی دور میں جانا ہوگا۔ سے جب ہم مکہ کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہم کو ” مدینہ “ اور عمورہ “ سے بالکل
دوپہر کے وقت جب گرمی خوب تیز ہو جاتی تو وہ ان مسلمانوں کو مکہ کی گرم زمین پر لٹا کر تکلیف دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے :
صبراً آل ياسر فان موعدكم الجنة آل ياسر صبر کرو، تمہاری وعدہ گاہ جنت ہے ۔
یاسر کی ماں کو اسی طرح عذاب دے کر انھوں نے مار ڈالا ۔ مگر وہ کسی حال میں اسلام کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوئیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ مدینہ اور عمورہ کے واقعہ کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا جب تک مکہ کے مذکورہ واقعہ کو اس سے ملا کر نہ دیکھا جائے ۔ کیا وجہ ہے کہ مدینہ میں جس قسم کے واقعہ پر اقدام کیا گیا۔ میں اسی قسم کے شدید تر واقعہ پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مکہ کا زمانہ تیاری اور استحکام کا زمانہ تھا۔ تیاری اور استحکام کے زمانہ میں اقدام غیر مؤثر ہوتا ۔ اس لیے مکہ میں صبر کیا گیا۔ صبر دراصل تیاری اور استحکام کی قیمت ہے۔ جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں صبر نہ کریں وہ بعد کے مرحلہ میں تیاری اور استحکام کے درجہ کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔
مکہ میں ناقابل برداشت کو برداشت کیا جاتا ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ مدینہ میں ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کی حاجت نہ رہے۔ جو لوگ مرحلہ تیاری والی قربانی نہ دے سکیں وہ مرحلہ استحکام والی منزل کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔
یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے ۔ صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں مسلمان دوبارہ اپنی تاریخ کے آغاز میں پہونچ گیے تھے ۔ اب ضرورت تھی کہ دوبارہ ان کے درمیان تیاری کا وہی عمل جاری کیا جائے جو مکہ میں جاری کیا گیا تھا ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ انہوں نے اپنے آپ کو تاریخ کے اختتام والے مرحلہ میں فرض کر کے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ ایسے ناکافی اقدامات پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے لیے بھی مفید نہ ہو سکتے تھے ، پھر وہ موجودہ مسلمانوں کے لیے کیوں کر مفید ہوتے ۔ ہے جس نے ان کے عملی اقدامات کو بے فائدہ اور غیر مؤثر بنا دیا ۔