Al-Risala · August 1990

قیامت کا طوفان

Al-Risala, August 1990, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۹ مئی ۱۹۹۰ کو دہلی میں ایک سخت آندھی آئی۔ اس کی رفتار ۷۰ کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ۴۵ منٹ تک چلتی رہی۔ کتنے درخت اکھڑ گئے۔ بے شمار شاخیں ٹوٹ کر گر پڑیں۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ وہ ہے جو نیچے کی تصویر میں نظر آ رہا ہے۔ ایک بھاری درخت ٹوٹ کر ایک موٹر کار کے اوپر گر پڑا۔ اس کے نیچے کار کی باڈی پچک گئی۔

آندھی قدرت کا ایک عام مظہر ہے جس کا مشاہدہ تمام لوگوں کو بار بار ہوتا رہتا ہے۔ عام طور پر یہ آندھیاں ایک خاص حد کے اندر رہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے کچھ وقتی نقصان تو ہوتا ہے مگر اس کا نقصان مکمل تخریب تک نہیں پہنچتا۔

علمی نقطہ نظر کہتا ہے کہ جو آندھی ۷۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے، وہ ۵۷، سو یا ۵۷ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چل سکتی ہے۔ اسی طرح جو آندھی ہماری زمین پر ۴۵ منٹ

تک چلتی رہتی ہے، اس کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ۴۵ سودن تک مسلسل اپنی تمام ہلاکت خیزیوں کے ساتھ جاری رہے۔

اس طرح یہ آندھی قیامت کے امکان کو بتاتی ہے۔ وہ قیامت کے طوفان کی پیشگی اطلاع پچھلے زمانوں میں جو قو میں انکار حق کے نتیجہ میں ہلاک کی گئیں، ان کی صورت یہی تھی کہ آندھی یا بارش یا زلزلہ جو عام حالت میں کم تر شدت کے ساتھ آتے ہیں، ان کو زمین کے کسی حصہ میں زیادہ شدت کے ساتھ بھیج دیا گیا۔

قیامت گویا شدید تر درجہ کی عالمگیر آندھی ہوگی۔ اس کی رفتار اور مدت دونوں اتنی زیادہ ہوگی کہ درخت اور مکانات تو درکنار ، پہاڑ بھی اس کے آگے ٹھہر نہ سکیں گے۔ تمام زندہ اور غیر زندہ چیزیں اس کی زد میں آجائیں گی۔ اس کی بے پناہ شدت زمین کی سطح کی ہر چیز کو تہ و بالا کر دے انسانی تمدن کے تمام نشانات اس طرح مٹ جائیں گے جیسے کہ وہ تنسکوں سے بھی زیادہ بے حقیقت تھے۔

آج کی آندھی ایک موٹر کار کو لگتی ہے، قیامت کی آندھی پورے انسانی تمدن کو کچل ڈالے آج کا بھونچال ایک شہر کو تل پٹ کرتا ہے ، قیامت کا بھونچال پورے عالم کو تل پٹ کر دے آج کی موت ایک آدمی کی جان لیتی ہے۔ قیامت کی موت تمام انسانوں کو موت کی ہلاکت سے دوچار ہونے پر مجبور کر دے گی۔ آج خدا کا فیصلہ جزئی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، کل خدا کا فیصلہ اپنی کلی صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔

یہ قیامت جب آئے گی تو وہ اس بات کا اعلان ہوگی کہ موجودہ دنیا کی امتحان کی مدت اب دنیا کا مالک امتحان کی دنیا کو توڑ کر دوسری کامل دنیا بنائے گا جہاں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے۔ آج کے چھوٹے طوفان آئندہ آنے والے بڑے طوفان کی پیشگی خبر دے رہے ہیں۔ لوگ اس انتباہ سے جاگ اٹھیں وہی آنکھ اور کان والے ہیں۔ اور جو لوگ قدرت کے اس انتباہ کے باوجود نہ جاگیں ، وہ اندھے اور بہرے ہیں۔ ان کے لئے ابدی بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

Printed page