آسان حل
Al-Risala, August 1990, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں جن پیغمبروں کا ذکر ہے ان میں سے ایک حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔ ان کا زمانہ غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق، وہ جنوبی فلسطین کے قدیم شہر عوض (Uz) میں رہتے تھے۔ حضرت ایوب کا ذکر قرآن میں ان مقامات پر آیا ہے: النساء ۱۶۳، الانعام ۸۴، الانبیاء ۸۳، ص ۴۱۔ اس کے علاوہ بائبل میں ایوب (Job) کے نام سے ایک مفصل کتاب ہے۔ آپ کے حالات کی تفصیل تفسیر کی کتابوں اور بائبل میں دیکھی جاسکتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت ایوب علیہ السلام پہلے نہایت خوشحال اور تندرست تھے۔ بعد آپ کے حالات بدلے۔ دولت ختم ہوگئی۔ آپ کو سخت قسم کی بیماری لگ گئی جس میں آپ کے سارے بدن میں پھوڑے ہی پھوڑے ہوگئے۔ ایسے حالات میں آدمی کبھی کبھی جھنجھلا اٹھتا ہے۔ کی کیفیت میں ایک روز اپنی بیوی کے بارہ میں ان کی زبان سے نکل گیا کہ میں اچھا ہوگیا تو تم کو ایک سو کوڑے ماروں گا۔ یہ بات آپ نے خدا کی قسم کھاکر فرمائی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی۔ آپ بالکل تندرست ہوگئے ۔ مال و دولت بھی دوبارہ حاصل ہوگیا۔ اب یہ مسئلہ تھا کہ قسم پورا کرنے کے لئے آپ کو اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنا چاہئے، ورنہ آپ شرعی اعتبار سے حانث قرار پائیں گے۔ دوسری طرف آپ کا ضمیر یہ کہتا تھا کہ میں نے اپنی ذاتی کیفیت کے تحت بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تھی۔ ورنہ حقیقۃ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے بلکہ اس کو اس قسم کی سخت سزادی جائے۔
قرآن کے مطابق، اس وقت آپ پر یہ حکم اترا کہ تم ایک سو سینکوں کا ایک مُٹھا اپنے ہاتھ میں لو اور اس سے اپنی بیوی کو مار دو۔ اس سے تمہارا عہد پورا ہو جائے گا اور تم قسم میں بھی جھوٹے ثابت نہ ہوگے (ص :۴۴) اس حکم کے مطابق حضرت ایوب نے جھاڑو کی مانند ایک سو سینکوں کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک بار اپنی بیوی کو ہلکے طور پر مار دیا۔ اس طرح اللہ نے ان کے ضمیر کو مطمئن کر دیا۔ اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ اور وہ ہے بوقت ضرورت کسی عمل کو حقیقی
صورت کے بجائے علامتی صورت میں انجام دینا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عمل کو اس کی حقیقی صورت میں انجام دینا کسی شخصی یا اجتماعی سبب سے غیر معقول بن جاتا ہے۔ دوسری طرف بظاہر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا کہ اس کو سرے سے چھوڑ یا جائے۔ ایسے وقت میں شریعت میں یہ طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ اس فعل کو علامتی طور پر انجام دے لیا جائے۔
اس اصول کے توصیبی انطباق کی ایک دلچسپ مثال مجھے ۱۹۸۸ء میں یمن کے سفر میں دیکھنے کو ملی۔ قدیم زمانہ میں یمن میں یہ رواج تھا کہ ہر شخص اپنے پاس ایک تلوار رکھتا تھا۔ صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں تلوار رکھنے کا یہ رواج ان کے یہاں محض سادہ رواج نہ رہا بلکہ وہ مردانگی کی علامت بن گیا ۔ کوئی شخص اپنے ساتھ تلوار نہ رکھے تو لوگوں کی نظر میں وہ حقیر بن جاتا تھا۔ تلوار رکھنے کا یہ رواج قبائلی دور کی یادگار ہے۔ اس زمانہ میں تحفظ ہر شخص کی ایک ذاتی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ منظم ریاستوں کا زمانہ ہے۔ اب تحفظ ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے، اور اس کے لئے ہر ملک میں اعلیٰ پیمانہ پر پولیس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ حالات کی اس تبدیلی نے اب ہر وقت تلوار لٹکائے رکھنے کو ایک بے فائدہ بوجھ بنا دیا ہے۔
اس بنا پر یمن کی نئی نسل نے یہ کہنا شروع کیا کہ اب ہمیں تلوار رکھنے کے طریقہ کو ختم کر دینا تاہم صدیوں کے رواج کا زور اس کے کلی ترک میں مانع تھا۔ کچھ لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ تلوار کے استعمال کو یکسر ختم نہ کیا جائے، البتہ اس میں یہ تبدیلی کر لی جائے کہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال شروع کر دیا جائے۔
جدیدیمن میں اب اسی کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ وہ لوگ اب ماضی کی طرح اپنے ساتھ بڑی بڑی تلواریں نہیں لئے رہتے۔ اس کے بجائے وہ تلوار کی شکل کی چھوٹی سی چیز (ابنبیہ) اپنے پاس رکھتے اس کی دھار کند ہوتی ہے اور وہ غلاف کے اندر رکھی جاتی ہے۔ اس طرح ان کا احساس مردانگی بھی مجروح نہیں ہوا اور رواج بھی بظاہر باقی رہا۔ تفصیل کے لئے: الرسالہ اپریل ۱۹۸۹ء، صفحه ۲۵ )
یہ بات مجھے اس وقت یاد آئی جب ۱۵ اپریل ۱۹۹۰ء کے اخبارات میں نے ایک خبر پڑھی، ٹائمس آف انڈیا انڈیا(۱۵ اپریل ۱۹۹۰ء، کا صفحہ ۳ دیکھئے ۔ اس پر ایک نمایاں تصویر ہے جس میں دو آدمی اپنے
ہاتھ میں تلوار اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں سکھ ایم پی، مسٹر سمرن جیت سنگھ مان اور مسٹر دمن سنگھ ہیں جو پنجاب سے اکالی دل کے ٹکٹ پر ایم پی منتخب ہوئے ہیں۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سکھ ایم پی ۴ اپریل کو پارلیمنٹ (لوک سبھا) پہنچے تا کہ حلف برداری کی رسم ادا کر سکیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر سرین بی رسے کی ہدایت پر واچ اینڈ وارڈ کے اسٹاف نے دونوں صاحبان کو گیٹ نمبر ایک پر روک لیا اور ان کو اندر جانے نہیں دیا۔ نامہ نگار کے الفاظ میں، وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دئے گئے۔ کیونکہ کہ ان کا اصرار تھا کہ وہ اپنی لمبی تلوار کے ساتھ اندر جائیں گے :
They were barred from entering parliament house for their insistence on carrying their long sword to take the oath. سکھ ممبران نے اس کے خلاف پارلی منٹ کے سامنے دھرنا دیا۔ مذکورہ تصویر اسی دھرنا کے وقت لی گئی تھی۔
سکھ لوگ اپنے مذہب کی رو سے اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ تلوار (کرپان) رکھیں. تلوار ان کے لئے مذہبی نشان (religious emblem) کی حیثیت رکھتی ہے۔ سکھوں میں سے جو لوگ تلوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں، وہ صدیوں کے رواج کے مطابق اس کو اتنا ضروری سمجھتے ہیں کہ تلوار کو چھوڑ نا ان کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے خود مذہب کو چھوڑ دینا۔ اس لئے ان کو اس پر آمادہ کرنا بے حد مشکل ہے کہ وہ اپنے ساتھ تلوار نہ رکھیں ۔
قدیم زمانہ میں اس مذہبی رواج کی اہمیت تھی مگر اب یہ رواج غیر ضروری بن چکا ہے۔ ساتھ وہ زمانہ کی اسپرٹ کے خلاف بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ حضرات کے ساتھ بار بار یہ مسئلہ مختلف صورتوں میں پیش آ رہا ہے۔ ایسے سکھ بھائیوں کو بہت سے لوگ اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے کہ آج کی دنیا میں وہ غیر موزوں (misfit) ہو گئے ہوں۔
اب اس مسئلہ کا ایک قابل عمل حل یہ ہے کہ سکھ بھائی مذکورہ اصول کو اپنے لئے اختیار کر لیں۔ یعنی وہ اس پر راضی ہو جائیں کہ آئندہ وہ حقیقی تلوار کے بجائے علامتی تلوار کا استعمال کریں گے۔ مسیحی حضرات اس اصول کو پہلے ہی اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق، مسیح علیہ السلام ۔
کوصلیب (cross) پر پھانسی دی گئی تھی۔ بطور واقعہ ہم اس کو درست نہیں سمجھتے۔ تاہم اس سے قطع نظر، کہنا یہ ہے کہ مسیحی حضرات نے اپنے اس عقیدہ کے تحت صلیب کو اپنا مذہبی نشان بنا لیا ان کے یہاں اس کا خاص احترام پایا جاتا ہے۔
مسیحی حضرات کے یہاں صلیب کے مختلف استعمالات ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے جسم پر اس کو لٹکاتے ہیں۔ قد آدم صلیب کو اپنے اوپر لٹکانا بڑا عجیب ہوتا ہے۔ اس لئے انھوں نے صلیب کو علامتی طور پر (as a symbol) استعمال کرنے کا اصول اختیار کیا۔ وہ صلیب کی صورت کے چھوٹے چھوٹے نمونے بناتے ہیں اور ان کو اپنے اوپر لٹکا لیتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ سکھ بھائی ایجی ٹیشن کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ اس معاملہ میں مذکورہ اصول کو اختیار کر لیں۔ وہ پوری تلوار کا عام استعمال ترک کر دیں اور چھوٹے سائز کی ہوتی تلوار بنا کر اس کو استعمال کرنا شروع کر دیں۔ اس طرح سکھ بھائی مذہبی دیوانگی (fanaticism) کے الزام سے بچ جائیں گے۔ اس تدبیر سے ان کا مذہبی رواج بھی باقی رہے گا ، اور وہ اپنے آپ کو زمانہ کے ساتھ ہم آہنگ بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ مذہب حقیقۃً ایک اسپرٹ کا نام ہے نہ کہ کسی فارم کا۔ اگر اہل مذہب کسی مخصوص فارم پر بہت زیادہ اصرار کرنے لگیں تو وہ دنیا والوں کی نظر میں ایک ناقابل فہم عجوبہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی چیز بن جاتے ہیں جو زمانہ کے ساتھ پر امن طور پر چلنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ نمبر ا ایمان نمبر ۲ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدان عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)