سفرنامہ ۔ قسط ۳
Al-Risala, August 1990, pp. 30–44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں حال میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام اسلام اور فرانس (de I'Islam en France) ہے۔ اس کتاب کے مصنف ایک فرانسیسی بران تیان (Brand Tiyan) ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ فرانس میں اسلام اٹھارویں صدی عیسوی میں داخل اب فرانس میں مسلمانوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس نے مزید لکھا ہے کہ اسلام کے خلاف چرچ کا پروپیگنڈہ اب بعد از وقت ہو چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ فرانس کے اسکولوں اور کالجوں میں اسلام کو داخل نصاب کیا جائے اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعہ اسلام کا صحیح تعارف کرایا جائے۔
یہاں ایک عربی کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے مصنف کا نام فہمی حدیدی ہے۔ کتاب کا نام القرآن والسلطان ہے۔ وہ دار الشروق بیروت سے ۱۹۸۱ میں چھپی ہے اور ۴۴۴ صفحات پر مشتمل مصنف لکھتے ہیں، غاية الامر ان المسلمين يسمون امة الاجابة وغيرهم يسمون امة الدعوة (۱۸۹) یعنی اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو امت اجابت کہا گیا ہے اور ان کے علاوہ کو امت دعوت۔
مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان یہی اصل تقسیم ہے۔ بقیہ تمام تقسیمات اضافی ہیں۔ مثلاً "دار الحرب" کی اصطلاح اضافی حالت کو بتاتی ہے نہ کہ مستقل حالت کو۔ عام حالات میں تمام غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے لئے امت دعوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یعنی ان کے سلسلہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کے اوپر اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ اگر کوئی قوم یک طرفہ طور پر مسلمانوں پر حملہ کر دے، اور اعراض اور صبر کی تمام تدبیروں کے باوجود جنگ سے بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو اس وقت اہل اسلام بطور دفاع جنگ کریں گے۔
ایک عرب نوجوان نے بتایا کہ ان کی شادی حال میں ایک عرب خاتون سے ہوئی ہے۔ عرب نوجوان نے اپنی تعلیم یافتہ اہلیہ کو راقم الحروف کے کچھ مضامین پڑھنے کے لئے دئے۔ میں اسلام کی سیاسی تعبیر پر اور اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں چلانے والوں پر تنقید تھی ۔ خاتون الاخوان المسلمون کے طرز فکر سے متاثر تھیں۔ چنانچہ انھوں نے راقم الحروف کے مضامین کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ تاہم مذکورہ عرب نوجوان ان کو میری تحریریں پڑھانے کی کوشش کرتے رہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اب ان کی اہپیہ کا ذہن بالکل بدل گیا ہے ۔ اور اسلامی مرکز کے فکر سے مکمل اتفاق کر رہی ہیں ۔
کچھ عربوں نے یہ تجویز پیش کی کہ تعلیم یافتہ عرب خواتین کا ایک اجتماع کیا جائے اور میں انہیں خطاب کروں ۔ میں نے منع کر دیا ۔ میں نے کہا کہ میں اپنے ملک میں بھی خواتین کے اجتماعات کو خطاب کرنا پسند نہیں کرتا ۔ اب تک میری عام پالیسی یہی ہے ۔
" خواتین کا اجتماع " موجودہ صورت میں مجھے اسلامی روح کے مطابق نظر نہیں آتا ۔ ہے کہ خواتین سے خطاب کرنے کی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو ملتی ہے ، مگر صحابہ کرام کے یہاں نہیں ملتی ۔ مجھے اب تک اس کی مثالیں نہیں ملی ہیں کہ صحابہ عورتوں کا اجتماع کر کے ان سے خطاب کرتے ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اس کی مثال ملنا اور صحابہ کے یہاں اس کی مثال نہ ملنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ طریقہ صرف پیغمبر کے لئے خاص تھا ، بعد کے لوگوں کو ایسا کرنا مناسب نہیں ۔ بعد کے لوگوں کے لئے یہ ہے کہ وہ مردوں میں کام کریں اور مرد اپنے اپنے گھروں میں اپنی خواتین پر کام کریں ۔
اس قسم کا فرق دوسرے امور میں بھی پایا جاتا ہے ۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت ایمان لیتے تھے ۔ مگر صحابہ و تابعین نے بیعت ایمان نہیں لی ۔ وہ صرف کلمہ شہادت پڑھا کر لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے تھے ۔
۲۳ مارچ ۱۹۹۰ کو طرابلس سے واپسی ہوئی ۔ طرابلس سے کراچی تک کا سفر لی آئی اے کی فلائٹ ۷۱۴ کے ذریعے ہوا ۔ راستہ میں اخبار جسارت ( ۲۳ مارچ ۱۹۹۰) پڑھا ۔ یہ اخبار جماعت اسلامی کے فکر کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس کے صفحہ اول پر ۲۳ مارچ (یوم پاکستان کی مناسبت سے مینار پاکستان کے پاس ہونے والے ایک جلسہ کا اعلان تھا ۔ جلی حرفوں میں یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے : اب لینا ہے کشمیر ، ٹوٹے شملہ کی زنجیر پاکستانی کشمیر کے مسلمان شملہ معاہدہ کو زنجیر بنا کر اس کو توڑنے کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ طرف ہندوستانی کشمیر کے مسلمان شیخ عبداللہ کو غدار ٹھہرا کر ان کا گھر جلا رہے ہیں اور ان کی قبر کھودنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
ان واقعات پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ غالباً یہی مطلب اس حدیث کا جس میں کہا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں امت کے بعد کے لوگ اپنے پچھلے کے لوگوں پر لعنت کریں گے (لعن آخر هذه الامة اولها)، اس روایت میں امت کے اول حصہ سے صحابہ و تابعین کا زمانہ مراد نہیں کیوں کہ دور اول کے لوگ تو بعد والوں کے لئے فخر بن چکے ہوں گے۔ پھر وہ ان پر لعنت کیسے کرسکتے ہیں۔ اس میں لعنت کا مطلب سادہ معنوں میں تنقید بھی نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ تنقید تو خود صحابہ کے معیاری دور میں جاری تھی۔ پھر تنقید کو نا محمود چیز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں زوال کے دور میں پیدا ہونے والے قومی مزاج کی بات کہی گئی دور زوال میں مسلمانوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ان کی اپنی کمزوریوں کے نتیجہ میں ان کے لئے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو بتاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے خلاف دھوم مچا کر ایک "انقلاب" لاتے ہیں۔ بعد کو جب یہ نام نہاد انقلاب ان کے مسائل کو حل نہیں کرتا تو ان کے درمیان دوسرے لیڈر ابھرتے ہیں، جو پہلے لیڈر کو بر ابتا کر دوبارہ ایک اور منفی قیادت ظہور میں لاتے ہیں۔ یہی مطلب ہے حدیث کے ان الفاظ کا کہ امت کا آخر اپنے اول کو ملعون ٹھہرائے گا۔ راستہ میں جہاز دمشق میں اترا۔ اچانک اپنے آپ کو دمشق میں پا کر اس علاقہ کے بارہ میں بہت سی باتیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔
دمشق غالباً دنیا کا سب سے زیادہ پرانا شہر ہے جو سمندر سے تقریباً ۵۰ میل دور آباد ہے۔ قدیم زمانہ سے وہ مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب کہ وہ رومی (باز نطینی) قبضہ میں تھا، یہاں کے اکثر باشندے عیسائی ہوگئے۔ جو پیٹر کا مندر گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ ہے کہ یہ جگہ اب جامع اموی میں شامل ہے۔ مسلم خلیفہ نے یہ جگہ عیسائیوں سے خرید کر حاصل کی تھی: The Christian cathedral was purchased by the caliphate and turned into a mosque. (5/447)
۶۳۵ء میں دمشق عربوں کے قبضہ میں آیا۔ ۵۰۷-۶۴۱ء کے درمیان وہ اسلامی خلافت کا ۱۵۱۶ء میں ترکوں نے اس پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد نے چار سو سال تک وہ ان کے قبضہ میں ۱۸۹۴ء میں دمشق اور بیروت کے درمیان ریلوے۔ لائن بچھائی گئی ۔ ۱۹۰۸ء میں دمشق اور مدینہ
کے درمیان ریلوے لائن قائم کی گئی۔ ۱۹۴۶ میں اس کو مغربی قبضہ سے آزادی حاصل ہوئی۔ موجودہ دمشق تقریباً ایک سومربع کلومیٹر کے رقبہ میں آباد ہے۔ دمشق کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس کے مشرق میں وسط شہر سے تقریباً ۱۹ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ۱۹۷۱ کی مردم شماری کے مطابق، شہر کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً سوا لاکھ فلسطینی مہاجرین شامل ہیں۔ آبادی میں ۹۱ فیصد مسلمان، ۸ فی صد عیسائی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ یہودی بھی یہاں آباد ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے ان کے لئے جاڑے اور گرمی میں پرامن تجارتی سفروں کا انتظام کیا (قریش (1)، یہاں گرمی کے زمانہ کے سفر سے مراد قریش کا وہ تجارتی سفر ہے جو گرمی کے موسم میں مکہ سے دمشق وغیرہ کی طرف ہوتا تھا جو کہ حجاز کی نسبت سے ٹھنڈے علاقے تھے۔ قدیم زمانہ میں دمشق ایک عرصہ تک بین اقوامی تجارت کا مرکز رہا ہے۔ موجودہ دمشق کو بین اقوامی تجارتی نقشہ میں کوئی قابل ذکر مقام حاصل نہیں۔ البتہ وہ اپنے تاریخی آثار کی بنا پر بین اقوامی سیاحوں کی کشش کا مرکز ضرور ہے۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ دمشق کی اہمیت آج کے انسان کے لئے صرف اپنے ”ماضی“ کی بنا پر ہے، وہ اپنے ”حال“ کے اعتبار سے لوگوں کے لئے اہم نہیں۔ یہی آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا معاملہ ہے۔ مسلمان اب دنیا کے لئے گزری ہوئی تاریخ کا موضوع ہیں، جدید انسان کے لئے وہ حال اور مستقبل کے عنوان کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دمشق کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ روایات کے مطابق، یہی وہ مقام ہے جہاں خروج دجال کے وقت حضرت مسیح دوبارہ اتریں گے۔ یہ روایت مسلم، ابوداؤد ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ میں آئی ہے۔ یہاں ہم صحیح مسلم سے متعلقہ الفاظ نقل کرتے ہیں: قال مسلم في صحیحه عن النواس بن سمعان قال : ذكر رسول الله ﷺ الدجال فينا هو كذلك إذ بعث الله (المسيح بن مريم) عليه السلام. فيترل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على أجنحة ملكين، إذا طأطأ رأسه قطر، وإذا رفعه تحدر منه كجمان اللؤلؤ، ولا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات، وَنَفَسُهُ ينتهي حيث ينتهي طرفه، فيطلبه حتى يدركه بباب لد، فيقتله، ثم يأتي عيسى عليه السلام قوماً. قد عَصَمَهُمُ الله منه فيمسح عن وجوههم، ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة. حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ اسی دوران اللہ مسیح بن مریم کو بھیجے گا، وہ سفید مینار کے پاس دمشق کے مشرقی حصہ میں اتریں گے، دو زرد کپڑے کے درمیان، دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ
رکھے ہوئے ۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرہ ٹپکے گا اور جب وہ سر کو اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی مانند آنسو، گریں گے ۔ جس منکر تک بھی ان کی سانس کی ہوا پہنچے گی وہ مر جائے گا ، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی۔ حضرت مسیح دجال کا پیچھا کریں گے ، یہاں تک کہ وہ اس کو لُدّ کے دروازہ پر پکڑ لیں گے ، پھر وہ اس کو قتل کر دیں گے ۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے گروہ کے پاس آئیں گے جس کو اللہ نے ان سے بچایا ہوگا۔ وہ ان کے چہروں کا مسح کریں گے اور جنت میں ان کے درجات کو بتائیں گے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح جامع دمشق کے منارہ پر اتریں گے۔ مگر یہ بات الفاظِ حدیث میں موجود نہیں۔ صبح کی نماز کے وقت اترنے کا ذکر تو روایات میں ملتا ہے مگر مسجد کے منارہ پر اترنے کا ذکر کسی روایت میں نہیں۔ اصل یہ ہے کہ امویہ میں دمشق کی جامع اموی میں پتھروں کے ذریعہ ایک سفید مینار بنایا گیا ، کیوں کہ سابقہ مینار آگ لگنے کی وجہ سے گر گیا تھا۔ اس پر کچھ لوگوں نے گمان کر لیا کہ یہی وہ " سفید مینار " ہے جس کے اوپر حضرت مسیح قیامت کے قریب اتریں گے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، ۵۸۳ )، حالاں کہ حدیث میں جو لفظ ہے وہ صرف " مشرقی دمشق کے سفید مینارہ کے پاس " ہے نہ کہ " مسجد کے سفید مینارہ پر"۔
عیسائی حضرات کے یہاں بھی اس قسم کا ایک عقیدہ ہے جس کو ان کی مذہبی اصطلاح میں پاروسیا (Parousia) کہا جاتا ہے۔ یہ یونانی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی آمدثانی (Second Coming) کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقت حضرت مسیح دوبارہ انسانوں کے درمیان آئیں گے ۔ بائبل میں ہے : یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے ، اسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے (رسولوں کے اعمال ۱: ۱۱)۔ تا ہم حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے بارہ میں عیسائی حضرات کا عقیدہ بہت زیادہ واضح مثلاً اس کی ایک تعبیر یہ کی گئی ہے کہ حضرت مسیح بہ شکل روح دوبارہ دنیا میں آچکے ہیں ، وہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں ۔ اور ہر مسیحی کو اس کی چیزوں میں برکت عطا کرتے ہیں ۔ مولانا شمس الدین ندوی سے ملاقات ہوئی۔ وہ دمشق میں دو سال تک رہے ہیں اور شام کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ انھوں نے شام کے مسلمانوں کے اخلاق کی بہت
تعریف کی اور ان کے بہت سے اخلاقی واقعات بتائے جو ہندوستان جیسے ملکوں مين ناقابل تصور ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ شام میں اگرچہ سخت حکومت قائم ہے مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہاں بہت امن اور جان و مال کا کوئی خطرہ کسی آدمی کو میں رہتا۔
ٹیکسی والا اگر کچھ پریشان کرے تو صرف یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں شرطہ (پولیس) کو ٹیلی فون ایک شریر آدمی نے سڑک پر کسی لڑکی کو چھیڑ دیا۔ ایک آدمی آتا ہے جو بظاہر عام لباس میں وہ چھیڑنے والے کی سرزنش کرتا ہے۔ وہ شخص اس آدمی سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ آدمی صرف اتنا کہہ دے کہ تعرف میں انا (تعرف من أنا، یعنی تم جانتے ہو کہ میں کون اتنا کہتے ہی شریر آدمی دہشت زدہ ہو کر رک جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ شام کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بار وہ چند اور طالبعلموں کے ساتھ شام کے دیہات نہیں گئے۔ ایک زمیندار نے اپنے باغ میں انھیں ہر قسم کے پھل کھلائے۔ گھر پر دعوت کی۔ کہا کہ آپ لوگ کئی دن ٹھہرئے۔ جب وہ لوگ ٹھہرنے پر راضی نہیں ہوئے تو ریل کا فرسٹ کلاس کا کرایہ اور ہر ایک کو ۵۰۰ لیرا دے کر رخصت کیا۔
۲۴ مارچ کو صبح ۷ بجے ٹھیک وقت پر جہاز کراچی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ پاکستان ائیرویز پر جب بھی میں نے سفر کیا ہے، میں نے پایا ہے کہ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ اس کے برعکس ایئر انڈیا کم از کم میرے تجربہ میں وقت کے معاملہ میں پاکستان ائیر لائنز سے پیچھے ہے۔ اس سفر میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کا ساتھ تھا۔ ان کی امامت میں تین نمازیں (مغرب، عشاء، فجر) ہوائی جہاز کے اندر جماعت کے ساتھ ادا کی۔ جہاز میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا بڑا عجیب معلوم ہوا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ نے سوچا کہ زمین بھی تو ایک اڑتا ہوا مقدرتی جہاز ہے۔ مگر زمین کے جہاز میں بچپن سے سوار ہونے کی وجہ سے استجاب کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جہاز کے اندر آدمی اپنے شعور کے تحت چڑھتا ہے، اس لئے جہاز کی نماز استجاب کی کیفیت پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کراچی میں سوسائٹی آف فریشنز کے تحت ایک سمپوزیم ہوا۔ اس کا عنوان تھا : ”بے صبر معاشو اور قومی اتحاد کے مسائل‘‘ اس موضوع پر مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے
ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا : افق پر زیادہ روشنی نہیں ہے۔ لیکن بقا کی موہوم امید موجود ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ ہم ..... (جنگ ۲۴ مارچ ۱۹۹۰)
" بے صبر امعاشرہ موجودہ زمانہ کے مسلم معاشرہ کے لئے صحیح ترین لفظ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے ، اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے صبر کو کھو دیا ہے۔
زندگی کار از صبر ہے۔ صبر کا مطلب ہے، موجودہ صورت حال میں جو مواقع حاصل نہیں ہیں، ان پر صبر کرتے ہوئے ممکن مواقع کے میدان میں جدوجہد کرنا۔ مگر مسلمان ممکن مواقع کے استعمال پر قناعت نہیں کر پاتے۔ وہ ناممکن مواقع کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ مسلمان نہ ممکن مواقع کو استعمال کر پاتے ہیں اور نہ ناممکن مواقع کو۔ پاکستان میں مہاجر اور غیر مہاجر نے ایک دوسرے کے مقابلہ میں صبر کو کھو دیا ہے۔ میں ہندو اور مسلمان، مسلم ملکوں میں اسلامی جماعتیں اور مسلم حکمران، فلپائن جیسے ملکوں میں مسلم اقلیت اور مقامی حکومت ، ایک دوسرے کے خلاف بے صبر ہورہے ہیں۔ یہی بے صبری موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا اصل سبب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کار از صبر ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ناگواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک خاندان کے مختلف افراد کے درمیان بھی بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ یہ خدا کا قانون ہے۔ صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک قیامت نہ آجائے۔ اس لئے اس پر صرف صبر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
پاکستان کے مہاجر اب ایک علیحدہ قومیت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مہاجر قومیت کے ایک شارح مولانا وصی مظہر ندوی نے لکھا ہے کہ :
" بھارت سے آنے والے مسلمان ۴۰ سال کے عرصہ میں قدیم باشندگان سندھ کے ساتھ گھل مل نہ سکے۔ اب خواہ اس صورت حال کی ذمہ داری خود آنے والوں پر ہو یا سندھ کے پرانے رہنے والوں کی قیادت پر ہو۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ مہاجرین سندھ کے معاملات میں وہ اندازہ نہیں
رکھتے جو اندازِ فکر پرانے سندھی بھائیوں کا ہے۔ اس وجہ سے مہاجرین اب نفسیاتی طور پر ایک علیحدہ وجود بن چکے ہیں۔ اور اگر ان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو اس کے نتائج سندھ اور پاکستان کے حق میں بے حد خطرناک نکل سکتے ہیں: (ہفت روزہ تکبیر، ۱۲ مارچ، ۱۹۸۷، صفحہ ۸) حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہاجر اور سندھی کے درمیان جو شدید مسئلہ پیدا ہو گیا ہے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عین وہی ہے جو ہندوستان میں مسلم اور ہندو کی صورت میں پایا جاتا دونوں جگہ عدم برداشت نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے، اور برداشت کا اصول اختیار کر کے ہی اس کو حل کیا جا سکتا ہے۔
مہاجر جب پاکستان گئے وہ اس احساسِ فخر کے ساتھ گئے کہ ہم پاکستان کے خالق ہیں۔ یہ کہ سندھ کے اقتصادی وسائل پر زیادہ تر انہیں مہاجرین کا قبضہ ہو گیا۔ اس نے ایک طرف مہاجرین میں احساسِ برتری کو ابھارا اور دوسری طرف مقامی سندھی مسلمانوں میں احساسِ کمتری کی صورت میں ردِ عمل پیدا ہوا۔ مہاجرین کی نوجوان قیادت نے اس مسئلہ کو پرتشدد قسم کی مہاجر قومی تحریک کے ذریعہ حل کرنا چاہا۔ یہ پٹرول پر آگ ڈالنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ مسئلہ پہلے سے زیادہ شدید صورت اختیار کر گیا۔
میرے نزدیک اس کا حل صرف یہ ہے کہ مہاجرین سندھی مسلمانوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کریں۔ "وہ مہاجر قومیت" کا علیحدگی پسند نظریہ چھوڑ کر سندھیوں سے مل کر بھائی بھائی بن جائیں۔ دوسری ہر تدبیر صرف الٹ نتیجہ پیدا کرنے والی ثابت ہوگی۔ اخبار جسارت کے اندر کے صفحہ پر ایک مضمون (مسلمانانِ برصغیر کی منزل مراد) درج تھا۔ مضمون کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا: "تحریک پاکستان کا ایک طویل پس منظر ہے۔ جو لوگ قیام پاکستان کو چند برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ جدوجہد صدیوں پر محیط ہے۔ دوسری طرف روزنامہ جسارت ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء کے صفحہ اول پر جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا جان محمد عباسی کی تقریر چھپی ہوئی تھی۔ انھوں نے پاکستانی عوام سے کہا: "قوم کی اکثریت نے نفسیاتی خواہشات سے مغلوب ہو کر اسلام سے نابلد قیادت منتخب کر کے اپنے تمام اختیارات انسانی خون سے سیاسی پیاس بجھانے والوں کے سپرد کر کے اپنی تباہی
و بر بادی کو خود دعوت دی ہے۔
میں نے سوچا کہ صدیوں کی اسلامی جدوجہد کے بعد تو یہ نتیجہ سامنے آیا ہے۔ اگر کہیں ہمارے اکابر کی یہ جدوجہد صرف چند برسوں پر محیط ہوتی تو اس کا نتیجہ کتنا بھیانک ہوتا۔ کراچی کے اخبار جنگ (۲۳ مارچ ۱۹۹۰) کے ایڈیٹوریل کے صفحہ پر ایک ادارتی نوٹ کا عنوان تھا: "بھارت میں مسلم کشی کی نئی سازش" اس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ "بھارت میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا ہے: اس سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ "نئی دہلی میں نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک کے قریب انتہا پسند ہندوؤں نے ایک نئے مندر کی تعمیر شروع کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کو اشتعال دلایا جا سکے۔
میں اسی "نظام الدین" میں رہتا ہوں جس کی بابت یہ خبر دی گئی تھی کہ وہاں نیا مندر بنا کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قدرتی طور پر مجھے تجسس ہوا کہ معلوم کروں کہ یہ نیا مندر نظام الدین میں کہاں بن رہا ہے۔ چنانچہ میں نے دہلی پہنچ کر معلوم کرنا شروع کیا۔ کہ یہ "نیا مندر" بنانے کا مسئلہ نہ تھا۔ بلکہ قبرستان اور شمشان بھومی کا مسئلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس موقع پر فرقہ پرست ہندوؤں نے زیادتی سے کام لیا۔ مگر انھیں اس زیادتی کا موقع خود مسلمانوں کی نادانی نے فراہم کیا تھا۔
کراچی میں میرا قیام مسٹر طارق (فضلی سنٹر لمیٹڈ) کے یہاں تھا۔ ان کے والد جناب فضل الرحمن صاحب (وفات ۸ فروری ۱۹۸۹) کو الرسالة مشن سے نہایت گہرا تعلق تھا۔ نے ہماری تمام مطبوعات کو اپنے یہاں سے شائع کیا۔ اب ان کے صاحبزادے جناب طارق رحمن صاحب ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہاں جناب عبد الرحمن چھا بڑا صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے فاران کلب انٹرنیشنل کا سنٹر دکھایا جو کراچی میں زیر تعمیر ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی تعمیری مزاج رکھتے ہیں اور سیاست وغیرہ سے دور رہ کر تعمیری انداز میں ملی خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران ایک واقعہ کا ذکر آیا جس میں افتتاحی تقریب کا کیک کاٹنے پر دشمنوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ میں کاٹوں۔ عبد الرحمن چھا بڑا صاحب نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ کو
حل کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین نمونہ موجود ہے۔ وہ یہ کہ دونوں آدمی ایک ساتھ چھری کا دستہ پکڑتے اور دونوں مل کر کیک کاٹ دیتے جیسا کہ آپ نے حجر اسود کو نصب کرنے کے لئے کیا اور جھگڑا ختم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ استنباط نہایت با معنی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کے لئے نمونہ ہے خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا معاملہ۔
پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہر بات کا نمونہ موجود ہے، حتی کہ کسی تقریب کی کیک کاٹنے کے معاملہ کے لئے بھی۔ یہی مطلب ہے اسلام کے مکمل دین ہونے کا۔ نہ یہ کہ مکمل قانون نافذ کرنے کے نام پر حکمرانوں سے ٹکر اؤ شروع کر دیا جائے۔
کراچی میں مسٹر طارق رحمن نے بتایا کہ انشاء اللہ مارچ ۱۹۹۰ سے الرسالہ کا پاکستان ایڈیشن چھپنا شروع ہو جائے گا۔ ان کے والد مرحوم فضل الرحمن صاحب الرسالہ کے بہت قدرداں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں دعوتی اور تعمیری ذہن پیدا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ الرسالہ کو پاکستان سے شائع کیا جائے۔ وہ کئی سال تک اس کا ڈکلیریشن حاصل کرنے کی کوشش مگر فوجی قوانین کی وجہ سے وہ ڈکلیریشن حاصل نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ۸ فروری ۱۹۸۹ کو ان کا انتقال ہو گیا۔
مرحوم کے بعد ان کے صاحبزادہ طارق رحمن صاحب نے کوشش جاری رکھی۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی ان کے لئے معاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ وہ ڈکلیریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران جناب عبد القادر صاحب (کراچی) نے بھی الگ سے الرسالہ کے لئے ڈکلیریشن حاصل تاہم مشورہ سے یہ طے ہوا کہ جناب طارق رحمن صاحب پاکستان ایڈیشن کا انتظام کریں۔ چنانچہ وہ مارچ ۱۹۹۰ میں انشاء اللہ اس کا پہلا پرچہ شائع کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ایڈیشن کسی حذف یا اضافہ کے بغیر الرسالہ کے دہلی ایڈیشن کی نقل ہوگا۔ اس معاملہ میں فارسی کاقدیم مثل پوری طرح صادق آتا ہے کہ پدر نہ کند پسر تمام کند۔
ایک صاحب نے کہا کہ پاکستان مسائل کو ختم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا، مگر پاکستان بننے کے بعد یہاں نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ مثلاً دیکھئے، جو جنگ پہلے ہند و اور مسلمان کے درمیان جاری تھی، وہ اب مسلمان اور مسلمان کے درمیان جاری ہوگئی۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ ہے کہ وہ مسائل کے لئے لڑتے ہیں۔ حالانکہ ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مسائل پر صبر کرکے دعوت اور اشاعت اسلام کا کام کریں۔ مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی ، اس لئے خدا کا انعام بھی ان پر نازل نہ ہوسکا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ جن باتوں پر انہیں صبر کرنا تھا ان باتوں پر وہ جہاد کر رہے ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ مادی اور سیاسی اور سماجی مسائل رہتے ہیں۔ ان مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتاہے۔ اگر آپ ان مسائل کو نظر انداز نہ کریں تو آپ اپنے اصل منصبی فرض کو انجام نہیں دے سکتے۔ مسائل کا حل اپنے فرض منصبی کو انجام دینے میں ہے نہ کہ خود مسائل سے
مسلمانوں کو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ وہ "مسائل" سے نظریں ہٹائیں اور اپنی ساری توجہ "فرض" کے اوپر لگا دیں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کریں گے ، ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے۔ اس کی زندہ مثال ہے۔ پاکستان کے تجربہ کے بعد بھی مسلمان اگر بدستور اپنے آپ کو مسائل میں الجھائے رہیں تو اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہوگی۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ پاکستان میں اسلام کا نام جتنا زیادہ لیا جاتا ہے اتنا اور کہیں نہیں لیا جاتا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ پاکستان میں اسلام کی جتنی زیادہ خلاف ورزی کی جاتی ہے اتنی کہیں اور نہیں کی جاتی۔ اس عجیب ظاہر ہ کا سبب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا سبب وہ نام نہاد اسلام پسند ہیں جنھوں نے پچاس برس تک یہ نمونہ پیش کیا گویا اسلام کی خلاف ورزی کا دوسرا نام اسلام ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے حامیوں کو لیجئے ۔ ان لوگوں نے پہلے کہا کہ اسلام کا نظام ایک درخت کی طرح فطری عمل کے تحت ظہور میں آتا ہے ، اس کے بعد مطالبات کے ذریعہ اسلام کوقائم کرنے کا نعرہ لگانے لگے۔ انھوں نے پہلے جلوس کے طریقہ کو غلط بتایا ، بعد کو خود غلاف کعبہ اور دوسرے ناموں پر جلوس کے ہنگامے برپا کرنے لگے۔ انھوں نے اسلام کو محمد نز م کہنے کی بعد کو خود نظام اسلام کو نظام مصطفی کہنا شروع کر دیا۔ انھوں نے صدارت کے عہدہ کے لئے مس فاطمہ جناح کو کھڑا کیا اور عورت کو صدر حکومت بنانے کے حق میں دلائل دئے ، اب بے نظیر
بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو یہی لوگ عورت کی حکمرانی کو ناجائز بتا رہے ہیں۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ جمہوریت اسلام کے خلاف ہے ، بعد کو وہ خود" بھائی جمہوریت" کے علمدار بن گئے۔ پہلے انھوں نے اعلان کیا کہ اسلام ایک اصول کا نام ہے نہ کہ قومیت کا ، اب وہ اپنی پوری تحریک قومی انداز پر چلا رہے ہیں جس کا الزام اس سے پہلے وہ مسلم لیگ کو دیتے تھے۔
پاکستان بننے کے بعد اگر یہ اسلام پسند ظاہر نہ ہوتے بلکہ یہاں کے معاملات کو اپنی فطری رفتار سے چلنے دیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی دینی اور اخلاقی حالت کہیں زیادہ بہتر ہوتی ۔ مگر ان نام نہاد اسلام پسندوں نے جس طرح اسلام کو کھیل بنایا ، اس نے لوگوں کو اسلام کی خلاف ورزی پر جری کر دیا۔ انھوں نے اسلامی اصول کے تقدس کو توڑ دیا۔ اب وہ تمام دینی اور اخلاقی حدیں ٹوٹ گئیں جو روایات کے زور پر قائم چلی آ رہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں اسلام کے سب سے بڑے قاتل وہ لوگ ہیں جو اپنے کو مکمل اسلام کا علم بردار بتا کر اسلام کو سیاسی نعرہ کا عنوان بنائے ہوئے ہیں۔
"تکبیر" کراچی کا ایک مشہور اردو ہفت روزہ ہے۔ اس کی چار قسطوں (م دسمبر ۱۹۸۹ تا ۲۵ جنوری ۱۹۹۰ء) میں ایک جائزہ چھپا ہے۔ اس کا موضوع ہے " سندھ میں ہندوؤں کا کردار۔ مفصل جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ (پاکستان) میں اس وقت تقریباً چودہ لاکھ ہندو آباد ہیں۔ تقسیم کے بعد ان ہندوؤں نے عارضی طور پر اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ تعلیم اور تجارت کے شعبوں میں مشغول ہو گئے۔
پاکستانی جائزہ نگار مسٹر ظہیر احمد کے الفاظ میں " سندھ کے ۴ لاکھ ہندو اب پسماندہ یا غیر ترقی یافتہ نہیں ہیں، بلکہ ترقی اور معیشت کی نبض پر بعض جگہ ان کا ہاتھ اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ دور رفتہ کا گمان ہوتا ہے۔ معاشی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ ہندو اب سندھ میں سیاسی کردار بھی سنبھال رہا ہے۔ اور تقریباً تیس برس کی منصوبہ بندی اسے ایک اہم موڑ پر لے آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہندو نے اپنے کردار کو تبدیل کر لیا۔ وقتی طور پر ہندو کا سیاسی کردار ختم ہو گیا۔ وہ اپنے سابقہ کردار کے سبب نفرت سے بچنے کے لئے پس پشت چلا گیا۔ تعلیم کے میدان، ملازمتوں اور تجارت میں اس
نے اپنے استحکام کے لئے خاموش اور ٹھوس کام کاا۔ اس نے اس طرح اپنے آپ کو اس پوزیشن میں کرلیا کہ وہ اپنی مستحکم معاشی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں قدم جمائے اور پھر ان دو محاذوں سے سماجی اور سیاسی تحریکوں کو کنٹرول کرے (دسمبر ۱۹۸۹ء)
رپورٹ میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ”۳۰ سالہ خاموش تعمیری عمل کا نتیجہ ہے کہ آج سندھ کے ہندو اپنے علاقہ میں تعلیم، سیاست، زراعت، تجارت، صحافت، ایڈمنسٹریشن، غرض ہر چیز پر اپنے عددی تناسب سے بہت زیادہ قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے علاقہ میں بھارتی کرنسی کے استعمال کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں“ (صفحہ ۱۶، ۴ جنوری ۱۹۹۰ء۔
عجیب بات ہے کہ اس پورے مضمون میں وہی احتجاجی زبان استعمال کی گئی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے بیانات اور تقریروں میں نظر آتی ہے۔ پورے مضمون میں کوئی ایک سطر بھی ایسی نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ مضمون نگار نے اس تجربہ سے کوئی سبق نکالا ہو۔ میں نے اس احتجاجی رپورٹ کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا۔ پھر تو پاکستانی لیڈروں کو اپنا پاکستان آسمان میں بنانا
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ء کی شام کو پی آئی اے کی فلائٹ ۲۹۲ کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ کراچی ایئرپورٹ پر بہت سے مسلمان نظر آئے جو عمرہ کرنے جارہے تھے۔ ان کے جسم پر صرف دوغیر سلے ہوئے کپڑے تھے جن کو احرام کہا جاتا ہے۔ ایک نیچے تہمد کی طرح، دوسرا اوپر چادر کی یہ عین وہی کپڑا تھا جو ہندوؤں کے مذہبی لوگ پہنتے ہیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ مسلم کپڑے کا رنگ سفید تھا اور ہندو کپڑے کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ ایئرپورٹ کا مسلم عملہ ان احرام پوشوں کو ’بابا‘ کہتا تھا اور آجا ئیں بابا‘ کے لفظوں میں انھیں پکار رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ ہندو مذہب اور مسلم مذہب میں اگر کچھ اختلاف کی باتیں ہیں تو اس کے ساتھ ان میں کچھ اتفاق کی باتیں بھی ہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ آپس کے تعلقات میں ”کلمۂ سواء“ کو بنیاد بنایا جائے۔ یعنی اختلاف کو سنجیدہ غور وفکر کے خانہ میں رکھ کر اتفاق کو عمومی تعلق کی بنیاد بنایا جائے۔ فکری اختلاف کے باو جود عملی موافقت کی یہی وہ اصول ہے جس کو رواداری
کہا جاتا ہے، اور مشترک سماج میں رواداری ہی کامیاب زندگی کا واحد رستہ ہے۔ کراچی سے جہاز کا وقت ۶ بجے تھا۔ ابتدائی طور پر ایئر پورٹ نے اطلاع دی تھی کہ جہاز اپنے ٹھیک وقت پر روانہ ہوگا۔ مگر آخر وقت میں کسی نامعلوم سبب سے اس کی روانگی ملتوی ہوگئی۔ اس قسم کا انتظار بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ چنانچہ مجھ کو سخت جھٹکا لگا۔ اضمحلال کی کیفیت طاری اس کے بعد ذہن اگلی دنیا کی طرف منتقل ہوگیا۔ دنیا کے دکھ کو سوچ کر آخرت کا دکھ یاد آنے دل نے کہا : خدا اپنے اس عاجز بندے پر رحم فرمائیے۔ کاش مجھے بخش دیا جائے ، ۔ دنیا کا ستایا ہوا آخرت میں نہ ستایا جائے۔
۲۴ مارچ ۱۹۹۰ کی شام کو دہلی ایئرپورٹ پر اترا۔ دل نے کہا کہ خدایا آپ نے ایک سفر کرایا اور خیریت کے ساتھ واپس گھر پہنچادیا۔ اسی طرح آخرت سے دنیا میں آنا بھی ایک سفر اس سفر کو بھی خیریت کے ساتھ پورا فرمائیے اور آخرت کی منزل پر اپنی رحمتوں کے ساتھ پہنچادیجئے۔ حسب معمول میں گرین چینل سے گزر کر باہر جانے لگا۔ دروازہ پر "گیٹ مین" نے روکا۔ اور مجھ سے پوچھ گچھ کرنے لگا۔ میں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ خاموشی کے ساتھ دروازہ پر کھڑا اتنے میں کسٹم آفیسر نے دیکھ لیا کہ گیٹ مین مجھ سے غیر ضروری قسم کی پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ نے دور ہی سے کہا: ”با باجی کو جانے دو۔ گیٹ مین نے کہا کہ جب صاحب کہہ رہے ہیں تو آپ جائیے۔ باہر نکلا تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک صاحب مجھ سے لپٹ کر بے اختیار رونے وہ دیر تک کچھ کہے بغیر روتے رہے۔ مولانا انیس لقمان ندوی اور ڈاکٹر ثانی انھیں وہاں جو میری آمد کی وجہ سے ایئر پورٹ پر آئے تھے، انھوں نے بتایا کہ ہم لوگ ایئر پورٹ پر انتظار میں الالرسالہ اپریل ۱۹۹۰ ہمارے ہاتھ میں تھا۔ اس کو دیکھ کر مذکورہ صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا یہ تازہ رسالہ ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے بیگ سے ”اسلامی زندگی“ نکالی اور کہا کہ راستہ میں پڑھنے کے لئے میں نے اس کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ کہ وہ جودھپور کے جناب محمد خالد صاحب ہیں وہ چار سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ بھائی آج سعودی عرب سے آنے والے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ ایئر پورٹ آئے ہوئے تھے۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں اللہ کے بہت سے بندے ہیں جو راقم الحروف سے اس قسم کا
حسنِ ظن رکھتے ہیں ۔ دل سے دعا نکلی کہ خدا یا ، یہ سفر جو میں نے کیا ہے، اس کو میں اپنی قیمت پر نہیں کر سکتا تھا، دوسروں کی ادا کی ہوئی قیمت پر یہ طویل سفر طے ہوا ۔ اسی طرح میں اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں داخلہ کا استحقاق نہیں رکھتا ۔ جو لوگ مجھ سے حسنِ ظن رکھتے ہیں ، ان کے حسن ظن کی قیمت پر مجھ کو جنت میں داخل کر دیجئے ۔