Al-Risala · August 1990

خبر نامه اسلامی مرکز ۴۲

Al-Risala, August 1990, pp. 45–47

By Maulana Wahiduddin Khan

شائقین کے اصرار پر تذکیر القرآن کو کیسٹ پر لانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی آواز میں اس کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انشاء اللہ پوری تفسیر کو اسی طرح کیسٹ پر منتقل کیا جائے گا۔

نسیم زہرا صاحبہ پاکستان کی انگریزی جرنلسٹ ہیں۔ وہ نیمشن اور فرنٹیئر پوسٹ وغیرہ اخبارات میں لکھتی رہتی ہیں۔ ۸ جون ۱۹۹۰ء کو وہ اسلامی مرکز میں آئیں اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ان کے سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمان اور عالم اسلام کے حالات کے بارے میں تھے۔ آخر میں انھیں انگریزی الرسالہ اور بعض انگریزی مطبوعات دی گئیں۔

کالی کٹ (کیرالا) کے ایک صاحب نے اسلامی مرکز کی دو کتابوں کا ملیالم زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ کتابیں ہیں: مذہب اور جدید چیلنج، اسلام اور عصر حاضر۔ پہلی کتاب کو وہ چھپواچکے ہیں دوسری کتاب چھپوانے والے ہیں۔ ان کا پتہ یہ ہے: Mohammed Kodiyathur, Purayil Manzil, Kodiyathur 673602 الرسالہ انگریزی کی دعوتی افادیت ہر ایک تسلیم کرتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کا ایک دعوتی پرچہ صرف خریداری کی بنیاد پر نہیں نکلایا جا سکتا۔ چنانچہ الرسالہ انگریزی مسلسل خسارہ پر چل رہا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اس کو لوگوں کا مالی تعاون حاصل ہو۔ اگر لوگوں کا تعاون حاصل نہ ہو تو الرسالہ انگریزی کی زندگی شدید طور پر خطرہ میں پڑ جائے گی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ مشن اور تبلیغی جماعت دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ سے زبر دست فائدے ہوئے ہیں۔ تبلیغ کا طریقہ عوام کو متاثر کرنے کے لئے بہت کارآمد ہے۔ مگر وہ ذہین طبقہ کو اپیل نہیں کرتا۔ دوسری طرف الرسالہ شن ذہین طبقہ کے لئے بے حد اثر انگیز ثابت ہو رہا ہے مگر عوام تک اس کی پہنچ نہیں۔ مگر جب یہ دونوں کو ملا دیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے لئے مددگار (supplementary force) بن جاتے ہیں۔ الرسالہ کو تبلیغ سے تقویت ملتی ہے اور تبلیغ کو الرسالہ سے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ یہ طریقہ اختیار کر کے دونوں طبقوں میں وہ مؤثر دینی کام کر رہے ہیں۔ اس تجربہ کو ہر جگہ دہرانے کی ضرورت ہے۔

مولا نا اکبر الدین قاسمی (حیدر آباد) لکھتے ہیں: دار العلوم سبیل السلام (حیدر آباد )جو ایک دینی عربی اقامتی درس گاہ ہے جہاں دورہ حدیث کے علاوہ متخصص فی الدعوۃ جیسے شعبے قائم ہیں۔ اس درس گاہ کے علیا جماعتوں کے نصاب تعلیم میں خارجی مطالعے کے طور پر طلبہ کے لئے مولانا وحید الدین خاں کی کتاب " مذہب اور جدید چیلنج" کو شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ہندوستان کے دینی ادارہ جات کے نصاب تعلیم میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے شمول کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو عرب ممالک کی جامعات میں پہلے سے موجود ہے۔ ڈاکٹر انور عباس صاحب نے بتایا کہ وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات تین انگریزوں ڈاکٹر صاحب نے ان سے اسلام پر گفتگو کی اور پھر ان کا پتہ لیا تا کہ ان کے نام الرساله انگریزی اور اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں بھیج سکیں ۔ اس طرح کی مثالیں کثرت سے سامنے آئی ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ انگریزی اور مرکز کی انگریزی کتابوں نے لوگوں کے اندر ایک نیا دعوتی اعتماد پیدا کیا ہے۔ وہ مغربی لوگوں سے یا جدید تعلیم یافتہ اصحاب سے دعوتی ملاقات کرتے ہیں اور ان کو الرسالہ انگریزی یا مرکز کی انگریزی مطبوعات پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

عبید اللہ احمد صاحب (محبوب نگر) عرصہ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ نئے ذہن کے لوگوں کے سامنے اسلام کو پیش کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک امریکن نوجوان سے اس نے اسلام کے بارہ میں کچھ نئے قسم کے سوالات کئے۔ عبید اللہ صاحب نے الرساله کے بعض مضامین کی مدد سے اس کا جواب دیا۔ وہ متاثرہ ہو گیا اور اسلامی مرکز میں اگر انگریزی الرسالہ اور مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات اپنے لئے حاصل کیں۔

الرسالہ کا تعمیری فکر تیزی سے عوام و خواص کے درمیان پھیل رہا ہے۔ لوگوں کے خیالات کی اصلاح ہورہی ہے۔ اپنے اپنے انداز میں لوگوں نے الرسالہ کی بات کو دہرانا شروع کر دیا مثال کے طور پر ہفت روزہ نقیب (۴ جون ۱۹۹۰) کے ایک مضمون کا عنوان ہے : تبدیلی نظام یا تبدیلی قلب ۔ اس طرح اکثر مقررین و محررین الرسالہ کی بولی بولنے لگے ہیں۔

کئی نئی کتابیں زیر تیاری ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب حدیث پر ہے، دوسری کتاب سیرت پر ، اور تیسری کتاب دورِ جدید میں اسلام کی دعوت کے امکانات پر۔

ایک صاحب نے بتایا کہ میں غیر مسلموں کے درمیان رہتا ہوں۔ وہ اکثر اسلام کے بارہ میں سوال کرتے ہیں۔ ان کا جواب دینے کے لئے میں نے مرکز کی کتابوں کو بہت زیادہ مفید پایا اس سلسلہ میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم کو اسلامی جہاد کے اوپر اعتراض تھا۔ میں نے ان کو ایک مشہور مصنف کی کتاب دی جو جہاد فی سبیل اللہ کے نام سے چھپی ہے۔ اس کو پڑھ کر اس غیر مسلم کی غلط فہمی میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اس کتاب کے مطابق تو اسلام کا مقصد تمام قوموں سے لڑ کر عالمی اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ پھر تو اسلام ایک ایمپریلزم ہے۔ اس کے بعد میں نے الرسالہ کے مضامین کے ذریعہ انھیں سمجھایا تو وہ

سلطان احمد رام جی (ہونڈرہ ،۱۳ جون ۱۹۹۰ء کو مرکز میں آئے)۔ انھوں نے بتایا کہ ”میں کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اور پانچ پرچہ کی ایجنسی بھی چلاتا ہوں۔ میرے پاس کوئی بڑی ڈگری مگر الرسالہ میرے لئے سب سے بڑا گائیڈ ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہر ایک کے لئے مفید ہے۔ الرسالہ پڑھنا ہماری خوراک ہے۔ یہ الرسالہ کی تعلیم کا طفیل ہے کہ میں فساد سے دور رہ کر اپنے بچوں کو پڑھارہا ہوں۔ ۱۹۸۹ میں میرا لڑکا دسویں درجہ (سائنس گروپ) میں پورے بنگال میں فرسٹ آیا ہے۔ بھٹو نے کہا تھا کہ گھاس کھاؤ مگر ایٹم بم بناؤ۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ گھاس کھاؤ مگر بچوں کو پڑھاؤ۔ الرسالہ مسلمانوں میں برداشت پیدا کر رہا ہے اور برداشت ہی میں ساری ترقی ہے: اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ سے تعمیری فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

عادل آباد میں ایک ہندو پوسٹ ماسٹر وائی کے رام لوب ہیں۔ وہ اردو جانتے ہیں۔ وہ الرسالہ کو باقاعدہ خرید کر پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی کئی کتابیں پڑھ چکے وہ الرسالہ کے مشن سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے غیر مسلم صاحبان ہیں جو پابندی کے ساتھ الرسالہ اردو یا انگریزی کا ماہ بماہ مطالعہ کرتے ہیں۔

Printed page