منیجر۔ مکتبہ الرسالہ
Al-Risala, September 1990, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
بالا صاحب دیورس راشٹریہ سوم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے سرسپر چالک ہیں ۔ وہ اس ملک میں ہندوازم کے احیاء کے سرگرم اور مشہور علم بردار ہیں ۔
انگریزی اخبار ٹائetimes آف انڈیا (۱۶ نومبر ۱۹۸۷) کی رپورٹ کے مطابق، بالا صاحب دیورس نے جے پور میں ایک انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو کے دوران، اخباری رپورٹر کے مطابق، انھوں نے اقرار کیا کہ ہندوازم میں بہت سی کمیاں ہیں ، جی کہ چھوت چھات اور ذات پات کا رواج : He. however. admitted that there were many flaws in Hindusim such as the prevalence of untouchability and casteism (p.1)
اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ ہندوازم کا احیاء کر نا چاہتے ہیں وہ کس چیز کا احیاء کر نا چاہتے ہیں۔ ہے کہ جب ہندوازم کا احیاء ہو گا تو اسی چیز کا احیاء ہوگا جو کہ ہندوازم میں پائی جارہی ہے۔ کسی اور چیز کا احیاء نہیں بن سکتا۔
چھوت چھات کے سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ محض ایک سماجی رواج نہیں ہے۔ جڑ یہ ہے کہ چھوت چھات اور ذات پات کی تعلیم خود ہندوازم کی مقدس کتابوں میں موجود ہے۔ جب ہندوازم کا احیاء کیا جائے گا تو اس کے یہ اجزاء بھی لازمی طور پر زندہ ہوں گے۔ ان کو ہندوازم کی احیاء کی اسکیم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
آپ اگر ۱۹۳۵ کے انگریزی ایکٹ کو زندہ کریں تو اسی کے ساتھ برطانوی بالادستی بھی لگی ہوئی یہ ناممکن ہے کہ ۱۹۳۵ کا ایکٹ زندہ کیا جائے اور اس سے عملاً موجودہ ہندوستانی دستور برآمد ہو جس میں اس ملک کا اقتدار اعلیٰ کامل طور پر ملک کے عوام کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔ جب کہ ۱۹۳۵ کے ایکٹ میں ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ کو برٹش ایمپائر کا حق بتایا گیا تھا۔ ہندو مصلحین اس معاملہ میں ایک ناقابل حل تضاد کا شکار ہیں ۔ اگر وہ ہندوازم کا نعرہ نہ لگائیں تو ان کو اندیشہ ہے کہ ہندو کسی اور مذہب یا تہذیب میں ضم ہو جائیں گے ۔ اور اگر وہ ہندوازم کے نام پر انھیں ابھاریں تو اونچی ذات اور نیچی ذات جیسے جھگڑے سے نئی طاقت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،
کیوں کہ یہ چیزیں ہندو ازم کے ایسے لازمی اجزاء ہیں جن کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر گی لال جین اور دوسرے ہندو دانشوروں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ہندو احیا پرستوں کے پاس کوئی مثبت بنیاد نہیں جس پر وہ قوم کو کھڑا کر سکیں ۔ ان کے پاس صرف ایک منفی بنیاد (مسلم دشمنی) ہے جس پر وہ قوم کو کھڑا کر سکتے ہیں ۔ مگر وہ کوئی پسندیدہ بنیاد نہیں ۔ مسٹر جین نے بجا طور پر اس کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں، اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں ۔
اس دو گونہ مشکل کا حل صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ ہندو مصلحین قومی طرزِ فکر کو چھوڑ کر حق پسندانہ طرز فکر کو اختیار کریں ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ اس راستہ کو پالیں گے جس میں صداقت بھی ہو، اور جو ہر قسم کے تضادات سے خالی بھی ہو ۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ تعصب کی زمین پر کھڑا ہو ۔ دوسرے یہ کہ وہ حقیقت پسندی کی زمین پر کھڑا ہو ۔ تعصب کی زمین وقتی طور پر کچھ لوگوں کو کھڑے ہونے کی زمین دے سکتی ہے ۔ مگر اس میں نہ پائیداری ہے اور نہ اس سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس حقیقت پسندی کی زمین میں پائیداری بھی ہے اور وہ ہر قسم کے تضادات سے پاک بھی ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ تعصب اور تنگ نظری کے طریقے سے بچے اور حقیقت پسندی کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی تعمیر کرے ، کیوں کہ بالآخر جس چیز کو کامیابی ملنے والی ہے وہ حقیقت پسندی ہے نہ کہ تعصب اور تنگ نظری ۔
امریکہ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں۔
Mr. Khaja Kaleemuddin 1439 Ocean Ave, Apt. 4C New York N.Y. 11230 Tel. 718-258 3455