ایک تجربہ
Al-Risala, September 1990, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
جناب محفوظ علی خاں صاحب (پیدائش ۱۹۵۱ء) دہلی میں پلاسٹک انڈسٹریز کا کام کرتے یکم مئی ۱۹۹۰ء کی ملاقات میں انھوں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بتایا۔ دہلی کے شمالی حصہ میں گُھونڈلی نام کا ایک علاقہ ہے۔ یہاں زیادہ تر ہندو گوجر رہتے ہیں۔ ایک گوجر کا ایک بڑا مکان ہے جو ساڑھے پانچ سو مربع گز میں واقع ہے۔ اس میں تقریبا ً دَس مسلمان کرایہ دار ہیں۔ محفوظ علی خاں صاحب کے پاس بھی تقریباً ۲۰ سال سے اس کے تین کمرے کرایہ پر ہیں۔ مکان کے مالک نے اس کو دوسرے گوجر کے ہاتھ بیچ دیا۔ اب سابقہ مالک اور نئے مالک نے مل کر کرایہ داروں پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اس کو خالی کر دیں۔ انھوں نے ان لوگوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دیں۔
ایک روز تقریباً ۱۰۰ گوجر جمع ہو کر آئے اور کہا کہ مکان خالی کرو ورنہ ہم ڈنڈے کے زور پر تم لوگوں کو یہاں سے نکال دیں گے۔ حتیٰ کہ انھوں نے اشتعال انگیز باتیں کیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان قوم غدار ہے، مسلمان احسان فراموش ہوتے ہیں، وغیرہ۔
محفوظ علی صاحب اور دوسرے مسلمانوں نے کہا کہ ہم خالی کرنے کے لئے تیار ہیں مگر یہاں ہمارے تجارتی معاملات ہیں۔ ان کو نپٹانے میں وقت لگے گا۔ ہم کو ایک سال کی مہلت دو۔ کے بعد ہم ضرور خالی کر دیں گے۔
گوجر لوگ مہلت دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ نہیں مان رہے ہو تو ہم پنڈت لوگوں کو بلاتے ہیں۔ یہ "پنڈت" دراصل ایک بڑا خاندان ہے جو یہاں رہتا ہے۔ وہ لوگ پراپرٹی ڈیلر ہیں اور پیسہ والے ہیں۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ عام طور پر ان کو گوڑ کہا جاتا ہے۔ وہ معاشی اور سیاسی دونوں لحاظ سے طاقتور ہیں۔
گوجروں کے بلانے پر کچھ گوڑ (پنڈت) موقع پر آئے۔ انھوں نے دونوں طرف کی باتیں سنیں۔ آخر میں انھوں نے گوجروں سے کہا کہ کرایہ دار لوگ اگر ایک سال کا وقت مانگ رہے ہیں تو ان کا کہنا جائز ہے۔ پھر تم کیوں ان کے ساتھ زبردستی کر رہے ہو۔
گوجروں نے یہ سنا تو وہ پنڈتوں پر غصہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ تم کو ہم نے اپنی مدد کے لئے بلایا تھا اور تم یہاں آ کر خود ہمارے خلاف فیصلہ کر رہے ہو۔ اب وہ پنڈتوں کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک گوجر نے اپنی مونچھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ اب ہم خود خالی کرائیں گے۔ ۱۶ لاکھ میں اس کو خریدلا ہے ، ۱۶ لاکھ اوپر سے اور لگائیں گے ۔ اور خالی کرا کے چھوڑیں گے۔ پنڈت لوگوں نے یہ سنا تو وہ بھی غصہ ہو گئے اور یہ کہہ کر چلے گئے کہ کرایہ داروں نے تو جائز بات کہی تھی۔ مگر تم لوگ دھاندلی کر رہے ہو تو اب ہم بھی دیکھ لیں گے کہ تم کیسے خالی کراتے ہو۔ گھونڈلی میں پنڈت لوگوں کا ایک اسکول ہے جس کا نام سناتن دھرم مڈل اسکول ہے۔ یہاں آٹھویں تک تعلیم ہوتی ہے۔ محفوظ صاحب کی بچی یہاں ساتویں کلاس میں پڑھ رہی تھی۔ جب مکان کا جھگڑا پیدا ہوا تو محفوظ صاحب نے احتیاط کے طور پر یہ طے کیا کہ بچی کو اس اسکول سے نکال لیں اور اس کا داخلہ دوسری جگہ کرائیں۔ کیوں کہ پتہ نہیں کب یہاں کا مکان چھوڑنا پڑے۔ محفوظ صاحب ۱۶ اپریل ۱۹۹۰ کو اسکول گئے تا کہ بچی کا نام وہاں سے کٹوا دیں اور لیونگ سرٹیفیکیٹ حاصل کریں۔ اس وقت اسکول کے منیجر (سری گوڑ) وہاں موجود تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ اپنی بچی کو کیوں یہاں سے نکال رہے ہیں۔ محفوظ صاحب نے کہا کہ گوجر لوگوں نے مکان کا جھگڑا کھڑا کر دیا ہے، وہ زبردستی مکان خالی کروا نا چاہتے ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ بچی کی تعلیم کا بندوبست کہیں اور کروں۔
سری گوڑ نے کہا کہ اگر آپ اس وجہ سے بچی کا نام کٹوا رہے ہیں تو آپ ہرگز ایسا نہ کریں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے۔ وہ لوگ کیسے خالی کرا لیں گے۔ آپ اپنے مکان میں رہئے۔ ہم سب لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ اور اگر خالی کرنا ہواتو سیدھے سیدھے نہیں خالی کیا جائے خالی کروانے والوں کو دو دو لاکھ روپیہ دینا ہوگا۔
پوری آبادی میں یہ بات پھیل گئی کہ پنڈت لوگ مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ صاحب نے بتایا کہ اب وہ لوگ ہمارے مشیر بن گئے۔ حتی کہ ایک پنڈت نے کہا کہ اگر پیسہ کی ضرورت پڑی تو ہم پیسہ بھی خرچ کریں گے اور آپ کو جتائیں گے۔
پنڈت لوگوں کے مشورہ پر محفوظ صاحب نے اس معاملہ کی رپورٹ تھانہ میں درج کر آئی
اور کورٹ میں اس پر مقدمہ کر دیا۔ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ گوجر لوگ اگرچہ فرضی دھمکیاں دیتے مگر اب ان کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ ایک بار محفوظ صاحب گھر آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ گوجر لوگ آئے تھے اور مسلمانوں کو دھمکی دے رہے تھے کہ ہم ڈنڈے کے زور پر خالی کرائیں گے۔ صاحب اس گوجر سے ملے جس نے ایسی بات کہی تھی۔ گوجر نے فوراً بات بدل دی۔ اس نے کہا مجھ سے قسم لے لو، اس کے کیڑے پڑیں جس نے ایسا کہا ہو۔
اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ پنڈت لوگوں کی مداخلت کے بعد گوجروں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ تقریباً یقینی ہے کہ مصالحت اور راضی نامہ کے ذریعہ شریفانہ انداز میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ محفوظ علی خاں صاحب کو یہ کامیابی اس لئے ملی کہ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل خود نہ بول کر انھوں نے فطرت کو بولنے کا موقع دیا۔ نا معقولیت کے جواب میں معقولیت کا رویہ اختیار کر کے انھوں نے خود دوسری قوم کے اندر اپنے ہمدرد پالئے۔ دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے، خواہ مسئلہ مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہو یا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان۔
سری نگر ، کشمیر میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں۔
Abdullah News Agency 1st Bridge, Lal Chowk Srinagar 190 001 Tel. 73816, 71604 شولاپور میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں ۔
Mr. Mukhtar Ahmed, B.Sc 295, M Pachha Pet