Al-Risala · September 1990

ایک سفر

Al-Risala, September 1990, pp. 28–37

By Maulana Wahiduddin Khan

بین اقوامی سفر آج کل ہوائی جہاز کی تیز رفتاری کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ مگر میں ذہنی طور پر ایک "سست رفتار" آدمی ہوں۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ سفر قریب کی تاریخوں میں پیش آجائیں تو میں صرف ایک کو اختیار کر پاتا ہوں۔ اور بقیہ مجھ سے چھوٹ جاتا

یہی واقعہ موجودہ سفر کے موقع پر پیش آیا۔ مئی ۱۹۹۰ء کی ابتدائی تاریخوں کے لئے میرے پاس دو بیرونی دعوت نامے آئے تھے۔ دونوں کا ٹکٹ بھی آچکا تھا۔ مگر میں صرف ایک سفر کر سکا۔ دوسرا سفر مجھے چھوڑ دینا پڑا۔

پہلا سفر مجھے جنیوا (سوئٹزرلینڈ) کے لئے کرنا تھا۔ جنیوا میں سید جمال الدین افغانی کے مجلہ العروة الوثقی کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔ یہ تقریب انٹرنیشنل ہوٹل (جنیوا میں ۴ مئی ۱۹۹۰ کو ہوئی ۔ سید جمال الدین افغانی نے پیرس سے العروة الوثقی کے نام سے ایک ماہانہ پر چہ عربی زبان میں نکالا تھا۔ وہ چھ مہینہ جاری رہ کر بند ہو گیا۔ اب ڈاکٹر عبد الحکیم طيبي (افغانی) اسی نام سے جنیوا سے ایک پرچہ نکال رہے ہیں۔ یہ عربی اور انگریزی، دونوں زبانوں میں شائع جنیوا میں اسی پرچہ ( العروة الوثقی) کی دسویں سالگرہ (anniversary) کے سلسلہ میں ایک تقریب تھی۔

مجھے اس تقریب میں شریک ہونا تھا اور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔ رزرویشن کے مطابق، اس کے لئے میری روانگی ۳۰ اپریل کو مقرر تھی۔ دوسری کانفرنس د کار (سینیگال) میں۷ ۱۰مئی ۱۹۹۰ کو تھی۔ اس میں شرکت کے لئے مجھے رزرویشن کے مطابق ۴ مئی کو جنیو اسے روانہ مگر اپنی ذہنی سست رفتاری کی بنا پر میں بیک وقت دونوں سفروں کا پروگرام نہ بنا سکا۔ چنانچہ جنیوا کا پروگرام مجھ سے چھوٹ گیا۔ دہلی سے ۳۰ اپریل کو روانہ ہونے کے بجائے میں ۴ مئی کو روانہ اور اسی دن جنیوا ہوتے ہوئے شام کو د کار پہنچا۔

اتنا لمبا سفر ایک دن میں طے ہونے کا سبب وقت کا فرق تھا۔ انڈیا اور سینیگال کے وقت میں

ساڑھے پانچ گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس فرق کی بنا پر دن ک پورا کرنے کے لئے مجھے ساڑھے پانچ گھنٹے مزید مل گئے ۔

ایک ملک اور دوسرے ملک میں وقت کا فرق زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہے۔ کے “ وقت “ میں فرق نہیں کرسکتا، اس لئے اس نے اپنی گھڑی کے وقت میں فرق کر لیا ۔ حقیقت سے اسی مطابقت کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے۔ اور اسی ایڈجسٹمنٹ میں تمام کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ حقیقت و واقعہ سے مطابقت پر راضی نہ ہوں، ان کو اس دنیا میں صرف اپنی بربادی پر راضی ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ اس کو پسند کریں یا نا پسند۔

اس سفر کا پہلا مرحلہ ۲۴ اپریل ۱۹۹۰ کو پیش آیا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے جو کا غذات آئے تھے، اس میں درج تھا کہ روانگی سے پہلے زرد بخار (yellow fever) کا انجکشن لگوالیں۔ اس سلسلہ میں ۲۴ اپریل کو نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے دفتر میں جانا ہوا۔ یہاں ہفتہ میں دو بار ( بدھ ، جمعہ) کو باہر جانے والے مسافروں کے لئے ٹیکہ (vaccination) کا انتظام ہے۔ وہاں پہنچا تو پورا حال مردوں اور عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ تمام لوگ باہر جانے کے لئے ٹیکہ لگوانے آئے تھے۔ شاستری کے پاس بیٹھ گیا جو رجسٹر میں ہر ایک کے نام کا اندراج کر رہے تھے۔ نام سے اندازہ ہوا کہ آنے والوں میں چند عیسائی اور بیشتر ہندو تھے۔ میرے سوا وہاں کوئی بھی مسلمان نظر نہ آیا۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ تھا کہ ” انٹرنیشنل ٹریول“ میں مسلمانوں کا حصہ بہت کم ہے۔ نام نہاد مسلم رہنما روزانہ کوئی نہ کوئی ” تاریخ ساز “ اجتماع کرتے رہتے ہیں۔ آپ ان میں شرکت کریں تو آپ کو نظم و نثر میں اس قسم کی باتیں سننے کو ملیں گی :

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے مگر اصل صورت حال اس کے برعکس ہے۔ لفظی پرواز میں مسلمان سب سے آگے ہیں، اور حقیقی پرواز میں سب سے پیچھے ۔

نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے مذکورہ دفتر جانے سے پہلے میں ایک عربی جریدہ پڑھ رہا تھا۔ ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا : مقیاس التقدم والتخلف ( آگے اور پیچھے ہونے کا معیار) اس مضمون میں ان لوگوں کو برا کہا گیا تھا جو ” مستشرقین “ کی تقلید میں مسلمانوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک کچہری

ہوئی قوم ہیں۔ لوگ مسلمانوں کو مادی معیار سے جانتے ہیں۔ یہ معیار بجائے خود غلط ہے۔ مسلمان کی نظر میں اصل معیار ایمان ہے۔ اور مسلمانوں کو چوں کہ ایمان کی دولت حاصل ہے، اس لئے وہ سب سے آگے ہیں۔ اور دوسری تمام قومیں ان سے پیچھے ہیں۔ کیوں کہ وہ کفر و الحاد میں مبتلا ہیں۔ اور کفر و الحاد اور مادیت ہی دراصل وہ چیز ہے جو کہ کچھ پڑا ئین ہے ( وان الكفر والالحاد والماديات هو التخلف) ) یہ تقابل درست نہیں۔ تقدم سے مراد مادی تقدم بھی ہو سکتا ہے اور ایمانی تقدم بھی۔ مسلمانوں کو مادی تقدم کے اعتبار سے جانچنا ہو تو انہیں مغربی قوموں کے معیار سے جانچا جائے گا۔ اگر مسلمانوں کو ایمانی تقدم کے اعتبار سے جانچنا ہو تو ان کو اصحاب رسول کے معیار سے جانچا جائے گا۔ کیوں کہ اس دوسرے معاملہ میں " قدوة " وہی ہیں۔

مضمون نگار اگر چاہتے ہیں کہ تقدم کے لئے ایمان کو معیار بنائیں تو ان کو چاہئے کہ موجودہ مسلمانوں کے ایمان کا تقابل اصحاب رسول کے ایمان سے کریں اور موجودہ مسلمانوں کی مادیات کا تقابل موجودہ ملحدین کی مادیات سے۔ یہ ایک غیر منطقی تقابل ہے کہ تقدم کا معیار ایمان کو قرار دیا جائے اور پھر ایمان کو ملحدین کے معیار سے جانچا جائے۔ اس قسم کے مضامین بلا شبہ مضر ہیں۔ کیوں کہ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کر کے انہیں بے عمل اور بے تدبیر بنا رہے ہیں۔

نئی دہلی میں سینیگال کی ایک بیٹی موجود ہے ۔ جو صاحب سینیگال ایمبیسی میں میرا ویزا لینے کے لئے گئے تھے، انھوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہا کہ میں ان کو جانتا ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جا رہے ہیں۔

ویزا افسر کے اس طرح " پہچاننے " کا سبب یہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا ( ۱۰ دسمبر ۱۹۸۹) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویو رنے میری تصویر بھی چھاپ دی تھی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔

اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو نا جائز بتاتے ہیں، مگر یہ یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں

میں استقبال کر رہے ہیں ، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔

ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہوا تو دونوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندوستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندوستانی عالم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے ، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔

دہلی سے لفتھانسا کی فلائٹ ۷۱ کے ذریعہ رات کو ۳ بجے (۴ مئی ۱۹۹۰) روانگی ہوئی۔ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد فرینکفرٹ (جرمنی) پہنچا۔ پورا سفر نہایت ہموار گزرا۔ سفر کا وقت بڑا یعنی نصف شب کے وقت رات کو ساڑھے گیارہ بجے گھر سے ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہونا ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ رات کی نیند خراب ہو جائے گی۔ اس لئے دن کو سو لیں ۔ مگر میں ایسا نہ کر سکا۔

یہ مشورہ درست نہ تھا۔ میں دہلی میں برابر اپنا کام کرتا رہا۔ اس کی وجہ سے کچھ زیادہ تکاں لگ گئی۔ اس کا فائدہ یہ ہو کہ جہاز کے اندر پہنچا تو جلد ہی نیند آگئی۔ دیر تک گہری نیند سوتا رہا۔ نیند بھی ایک اور شکل میں پوری ہو گئی۔ وقت بھی استعمال ہو گیا اور آٹھ گھنٹہ کا لمباسفر آسانی کے ساتھ بہت سے مشورے بظاہر ٹھیک نظر آتے ہیں مگر حقیقتاً وہ بے ٹھیک ہوتے ہیں۔ فرینکفرٹ ائیر پورٹ پر میں نے ہم مٹی کو فجر کی نماز پڑھی۔ ایک جرمن خاتون میری نماز کو غور سے جب میں فارغ ہو کر اٹھا تو اس نے معذرت کے ساتھ پوچھا "کیا آپ یوگا کا عمل کر رہے تھے؟ میں نے کہا نہیں، میں صلاۃ کا عمل کر رہا تھا۔ وہ یوگا کو جانتی تھی ، مگر وہ صلاۃ کو نہیں جانتی تھی۔ پوچھا کہ صلاۃ کیا چیز ہے۔ میں نے کہا ، کیا آپ خدا کو مانتی ہیں۔ اس نے کہا ہاں، میں نے کہا کیا آپ مانتی ہیں کہ خدا ہمارا خالق اور رب ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا پھر نماز اسی خالق اور مالک کی عظمت اور اس کے احسان کا اعتراف ہے۔

خدا صبح لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا آیا تیرا شکر ہے کہ تو نے میرے لئے دن کو روشن کیا تاکہ میں کام کروں۔ خدا شام لاتا ہے تو ہم جھک کر کہتے ہیں کہ خدا آیا تیرا شکر ہے کہ تو میرے لئے رات لایا تاکہ میں آرام کروں۔ اس طرح ہم رات اور دن میں پانچ بار خدا کی عظمت اور اس کے انعامات کا

اعتراف کرتے ہیں۔ جرمن لیڈی بہت غور سے میری بات کو سنتی رہی۔ اس کے بعد تھینک یو ، تھینک یو کہتی ہوئی چلی گئی۔

فرینکفرٹ سے جنیوا کے لئے لفتھانسا کی فلائٹ ۴۳۶ اکے ذریعہ روانگی ہوئی۔ گیٹ ۳۲ بی کی تلاش میں نکلا تو ایک بورڈ پر لکھا ہوا نظر آیا کہ اپنی پرواز کے لئے اپنی مدد آپ کریں : For your flight — Please help yourself. میں نے دیکھنا شروع کیا تو مکمل نشانات اتنی زیادہ مقدار میں جگہ جگہ لگے ہوئے تھے کہ وسیع ایرپورٹ پر اپنے مطلوبہ گیٹ پر پہنچنا بالکل آسان تھا۔ سینکڑوں آدمی انہی نشانات کی مدد سے اپنے مطلوبہ مقام پر چلے جارہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس سے بہت زیادہ بڑے پیمانے پر خدا نے اپنی معرفت کے نشانات کائنات میں جگہ جگہ نصب کر رکھے ہیں۔ مگر کوئی شخص ان سے رہنمائی حاصل اس کی وجہ یہ ہے کہ " ایر پورٹ " کے نشانات کے بارہ میں لوگ سنجیدہ ہیں۔ مگر خدا کے نشانات کے بارہ میں لوگ سنجیدہ نہیں۔ اور نشانات سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آدمی کا سنجیدہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔

فرینکفرٹ ایر پورٹ پر ایک جرمن پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ پروفیسر کارل ٹرال (Carl Troll) کے شاگرد تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کارل ٹرال یونیورسٹی آف بون میں جغرافیہ کے پروفیسر تھے۔ وہ ۱۸۹۹ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۷۵ میں وفات پائی۔ وہ اپنے فن میں ممتاز درجہ چنانچہ ان کو جغرافیہ دانوں کی عالمی یونین (International Union of Geographers) کا پریذیڈنٹ بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ۱۹۶۴ میں وکٹوریہ البرٹ ہال (لندن) میں پروفیسر کارل ٹرال کی اسپچ تھی۔ اس میں مختلف ملکوں کے ممتاز سائنس داں جمع تھے۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پروفیسر ٹرال نے کہا کہ سائنس داں کی حیثیت سے ان کی زندگی کا بنیادی تجربہ یہ ہے کہ وہ خالق کے زیادہ سے زیادہ احسان مند ہوتے چلے گئے اور تخلیقی عمل میں خدا کی عظمت کو دیکھ کر وہ حیران کن احساس سے بھر گئے : The basic experience of his life as a scientist has been that he became more and more grateful to the Creator and full of wonders at God's greatness in His works of creation.

انھوں نے بتایا کہ پر وفیسر کارل ٹرا ل کے الفاظ پر حاضرین میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ اکثر سائنس داں اٹھ کر ان کے پاس آئے اور اظہار مسرت میں ان سے ہاتھ ملایا۔ یہ احساس ان تمام اہل علم کا ہے کہ جو نیچر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کوئی جرأت مند اس کا اعلان کر دیتا اور کچھ لوگ اس کو اپنے دل میں لئے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

لفتھانسا کی فلائٹ میگزین (Bordbuch) کے شمارہ مئی ۱۹۹۰ کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسٹ جرمنی اور ویسٹ جرمنی میں ہوائی پرواز پر پابندیاں عائد ہوگئی تھیں۔ دونوں کے بیچ ایک درمیانی علاقہ قائم کر دیا گیا تھاجس کو مختصر طور پر اے ڈی آئی زڈ کہا جاتا تھا:

Air Defence Identification Zone (ADIZ)

مگر آج یہ حد بندی ٹوٹ گئی ہے۔ اب دونوں جرمن ریاستوں کے درمیان صرف لفتھانسا کی ہفتہ میں ۲۸ پروازیں قائم ہو چکی ہیں۔

آج کی دنیا میں لوگ جغرافی حدود کو توڑ رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے تعلقات کو بڑھائیں مگر اسی دنیا میں مسلمان ہر جگہ اپنی جغرافی حد و دکو گھٹانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے چھوٹے چھوٹے

اس کو وہ بطور خود " اسلامستان" کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اس ظاہر ہ کا ظہور دراصل احساس شکست کی علامت ہے۔ مسلمان بڑھتے ہوئے کمپٹیشن کی اس دنیا میں دوسروں سے مقابلہ کر کے ان کے درمیان زندہ رہنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اس لئے وہ چاہتے کہ اپنی حدیں کھینچ کر اس کے اندر اپنے لئے زندہ رہنے کا موقع تلاش کریں۔ موجودہ زمانہ کی وہ تحریکیں جن کو مسلمان بطور خود آزادی کی تحریکیں کہتے ہیں، وہ صرف ان کی شکست خوردہ نفسیات کے مظاہر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

موجودہ زمانہ میں ہوٹلوں اور بینکوں کی عالمی تنظیم نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آدمی دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لئے ہر قسم کی آسودگی اور مواقع اطمینان بخش طور پر پاسکے۔ میگزین میں " ایکسپریس کارڈ" کا اشتہار ان لفظوں میں ایک پورے صفحہ پر چھپا ہوا تھا :

یعنی آپ کی جو بھی منزل ہو، یورپ کے ۸۸۰ بہترین ہوٹلوں میں سے کسی ہوٹل میں جگہ حاصل کرنے کے لئے آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ امریکی بینک کا امریکن ایکسپریس کارڈ ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو قرآن کی وہ آیت د آگئی جس میں اہل جنت کی زبان سے جنت کے بارہ میں کہلا گیا ہے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔

جہاز میں سوئٹزرلینڈ کے ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مادری زبان کچھ اور تھی، مگر انگریزی زبان روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔ گفتگو کے دوران انڈیا کا ذکر آیا۔ کہا کہ انڈیا اتنا بڑا ملک ہے کہ کسی ایک حکومتی اقتدار کے تحت اس کا انتظام نہیں کیا جاسکتا: ان کا خیال تھا کہ انڈیا کا وہی انجام ہوگا جو سوویت یونین کا ہو رہا ہے۔ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ مگر ہمارے سامنے دوسری مثال یوایس اے (امریکہ) کی ہے۔ وہ انڈیا سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ اس کے باوجود اس کا انتظام چل رہا ہے۔ انھوں کہا کہ امریکہ کے وسائل بہت وہ ایک امیر ملک (rich country) ہے۔ اس لئے وہاں وہ عوامی بے چینی نہیں جو کہ انڈیا میں بہت بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔

میں نے کہا کہ سوویت یونین کو جو چیز منتشر کر رہی ہے وہ اس کا سائز نہیں ہے، بلکہ اس کا جبر اسی طرح امریکہ کو جو چیز کامیاب بنائے ہوئے ہے وہ اس کی دولت نہیں ہے بلکہ آزادی ہے۔ انڈیا میں بھی آزادی ہے۔ مگر انڈیا میں اسی کے ساتھ جہالت ہے۔ انڈیا یا اگر تعلیم کے معاملہ میں امریکہ کے برابر ہو جائے تو اس کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا میں جو حکومتیں آئیں ، بدقسمتی سے ان میں سے کسی حکومت نے بھی تعلیم کو وہ اہمیت نہ دی جو اس کو دینا چنانچہ آج بھی انڈیا میں ۸۰ فی صد سے زیادہ افراد ناخوانده یا نیم خوانده ہیں۔ یہی انڈیا کا اصل مسئلہ ہے۔

یہ جہاز (747-b) ساخت کا تھا۔ ایک کارڈ پر دورانِ پرواز حفاظتی تدابیر درج تھیں۔ اس سے پہلے پندرہ زبان میں لکھا ہوا تھا: آپ کی حفاظت کے لئے (for your safety) سب سے آخر میں پندرہویں نمبر پر عربی میں "من اجل سلامتك" درج تھا۔ عربی فقرہ کا آخر میں اندراج کسی تعصب کی بنا پر نہ تھا۔ اس قسم کی تجارتی کمپنیاں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ ان کے مسافروں میں کتنے آدمی کس زبان والے ہیں۔ اسی کے لحاظ سے وہ ترتیب مقرر کرتی ہیں۔ یہ تعصب کی بات نہیں بلکہ حقیقت کی بات ہے کہ مسلمان انٹرنیشنل اسفار میں "پندرہویں نمبر" پر ہیں۔ مسلم مسافرین میں زیادہ تر افراد وہ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی نوعیت کا مذہبی سفر کر رہے ہوتے جب کہ موجودہ زمانہ میں زیادہ تر سفر سیاحت، تجارت، سیاست اور حکومتی تعلقات کے تحت ہوتا ہے اور اس قسم کے سفروں میں مسلمانوں کا بہت کم حصہ ہے۔

میرے قریب کناڈا کے ایک سیاح (Dr Thomas Raye) تھے ۔ وہ ہندوستان سے میں نے پوچھا کہ کنا ڈا میں اور انڈیا میں کیا فرق ہے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کناڈا میں طرح طرح کی مادی ترقیاں ہیں اور انڈیا میں طرح طرح کے انسان۔ انھوں نے اپنی جیب سے دو درجن رنگین تصویریں نکالیں جو انھوں نے انڈیا کے قیام کے دوران کھینچی تھیں۔ اس میں عجیب عجیب صورتیں تھیں۔ کسی میں کوئی بندر نچار ہاہے۔ کہیں کوئی نعرہ لگا رہا ہے، کہیں کوئی بھیک مانگ کہیں کوئی برقع پوش عورت ہے، کہیں کوئی رکشا کھینچ رہا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی نظر میں انڈیا ایک پچھڑا ہوا ملک ہے۔ انڈیا کے لوگ اس کو مغرب کا تعصب مگر یہ صحیح نہیں۔ یہ درست ہے کہ انڈیا میں ترقیاں ہوئی ہیں۔ مگر یہ ترقیاں اس درجہ سے بہت کم ہیں جہاں پہنچ کر آدمی کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ اعتراف کا عملی اصول یہ ہے کہ آپ سو درجہ ہوں تو لوگوں کو آپ دس درجہ دکھائی دیں گے۔ اس لئے دنیا نے اگر آپ کا اعتراف نہ کیا ہو تو دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مزید اٹھائیے یہاں تک کہ آپ کی بلندی اس اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائے کہ کوئی شخص اس کو دیکھے بغیر نہ رہ سکے۔

چالیس سال پہلے جاپان کی تصویر دنیا کی نظر میں نہایت حقیر تھی۔ حتیٰ کہ ابتدائی ترقی کے بعد بھی کوئی اس کو ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ مگر آج جب کہ جاپان کی ترقی کا پیالہ بھر کر اہل پڑا تو اب ہر آدمی اس

کا اعتراف کر رہا ہے۔ میری سیٹ کے پاس تھیلے میں ایک خوبصورت ساپمفلٹ تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا: آسمان میں خریداری (shopping in the sky) اس پمفلٹ میں بتایا گیا تھا کہ دوران پرواز آپ جہاز کی" مارکیٹ" سے کیا کیا چیز خرید سکتے ہیں۔ میں نے مذکورہ جملہ پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ دوسرے مسافروں کا کیس اگر " شاپنگ ان دی اسکائی" ہے تو میرا کیس " تھنکنگ ان دی اسکائی" کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ میرا ذہن ہمیشہ سوچنے میں لگا رہتا ہے۔ پھر خیال آیا کہ دنیا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دنیا میں بیشتر لوگ " شاپنگ " کو اصل کارنامہ سمجھتے ہیں۔ یعنی دنیا کی مارکیٹ میں جو چیزیں مل رہی ہیں، اس کا نہ یاد سے زیادہ ذخیرہ اپنے لئے سمیٹ لیں۔ کچھ لوگ ظاہری مادی سامان خریدتے ہیں اور کچھ لوگ اخباری شہرت، عوامی مقبولیت، اسٹیج کی لیڈری کو سب سے بڑی چیز سمجھ کر اس کو حاصل کرنے میں کوشاں

مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی چیز جو اس دنیا سے حاصل کی جائے وہ سوچنا ہے جس کو قرآن میں ذکر و فکر (آل عمران ) کہا گیا ہے۔ ذکر و فکر کسی قسم کے الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ دراصل ذہنی تخلیق کا ایک عمل ہے۔ آدمی مرئی حقیقتوں کو غیر مرئی حقیقتوں میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ دنیا کے مادی کارخانہ سے روحانی پیدا وار نکالتا ہے۔ وہ عالم ظاہر سے ایک عالم باطن کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی کا نام ذکر و فکر ہے۔ فرینکفرٹ سے جنیوا جاتے ہوئے جہاز میں مختلف یورپی اخبارات تھے۔ میں نے ایک اخبار (USA Today) لیا۔ اس کے صفحہ ۱۲ پر ایک رپورٹ تھی جس کا عنوان تھا: نیا جنگی میدان (The new war zone) اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جب سے امریکہ اور سوویت روس نے اپنی بندوقیں رکھ دی ہیں، اقتصادی طاقت ایک طاقت ور ہتھیار بن گئی ہے۔ اور اس نے چھوٹی طاقتوں مثلاً جاپان اور جرمنی کے لئے اس بات کا دروازہ کھول دیا ہے کہ وہ عالمی اہمیت حاصل کرنے کی طرف آگے بڑھ سکیں :

Since, the USA and Soviet Union have put down their guns, economic strength has become a powerful weapon. And that has opened the door for smaller powers-such as Japan and West Germany-to move into positions of global prominence.

ان سطروں کو پڑھتے ہوئے معاہدہ حدیبیہ کی حکمت یاد آ گئی۔ معاہدہ حدیبیہ میں یہی ہوا تھا کہ قریش دس سال تک کے لئے تلوار میان میں رکھنے پر راضی ہو گئے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی ایسا ہوا، اسلام نے دعوتی طاقت کی حیثیت سے ابھرنا شروع کر دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں آج کل ایک لطیفہ مشہور ہو رہا ہے کہ سرد جنگ ختم ہوگئی و جاپان جیت گیا:

Printed page