The Cold War is over— and Japan won.
Al-Risala, September 1990, pp. 37–38
By Maulana Wahiduddin Khan
فرینکفرٹ سے جنیوا کی پرواز تقریبا ایک گھنٹہ کی تھی۔ جہاز نے کافی نیچے نیچے پرواز کیا۔ اس سفر کے دوران جرمنی اور سوئنز ریلینڈ کے دیہات بہت صاف نظر آتے رہے۔ مکانات انتہائی منظم تھے۔ صاف ستھرا ماحول، ہر طرف سڑکیں نظر آرہی تھیں۔ باغوں اور کھیتوں کے ہرے بھرے قطعات اتنے خوب صورت تھے جیسے وہ قدرتی آرٹ کے نمونے ہوں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں دیہات کی زندگی نہایت خوشگوار ہوتی ہے۔ یہاں وہی تمام سہولتیں موجود ہوتی ہیں جو شہروں میں ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ وہاں قدرت کا ماحول ہوتا ہے جو شہروں میں نہیں پایا جاتا۔ اخبار میں گھوڑ دوڑ (Derby) کا ایک صفحہ تھا۔ ایک تصویر میں ایک شخص گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا اس کو شاندار طور پر دوڑا رہا تھا۔ دوسری طرف میری نظر جہاز کے مسافروں پر گئی جو اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور جہاز ان کو اڑاتا ہوا ان کو ان کی منزل کی طرف لے جا رہا یہ دیکھ کر بے اختیار مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آگئی جس میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا۔ (بنی اسرائیل - ۷۰) یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ گھوڑے کو انسان کے بیٹھنے کے لئے نہایت موزوں بنایا گیا ۔ اور پھر اس کے اندر یہ صفت رکھ دی گئی کہ وہ انسان کو اپنی پیٹھ پر لے کر دوڑے۔ اسی طرح مادہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ صفت رکھ دی کہ وہ ریل اور کار اور ہوائی جہاز کی صورت میں انسان کو تیزی کے ساتھ ادھر سے اُدھر لے جائے۔ انسان کی یہ تکریم اور عزت بلاشبہ انسان کے اوپر اللہ کا عظیم احسان ہے۔ مگر شاید ہی آج کی دنیا میں ایسے کچھ آدمی ہوں جن کا یہ حال ہو کہ خدائی انعامات کے احساس سے ان کے جسم پر تھر تھری پیدا ہو جائے اور ان کا پورا وجود خدا کے آگے ڈھ پڑے۔
۴ مئی کی سہ پہر کو سوئس ایئر کی فلائٹ ۲۴۲ کے ذریعہ جینیوا اس کے کار کے لئے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ” لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں :