Al-Risala · September 1990

Do not walk outside this area.

Al-Risala, September 1990, pp. 38–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا۔ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ پر کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔ ” حد “ کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلا کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جاسکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سب وشتم کے لئے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ طرح عمل کے معاملہ میں جائز حد و د میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔

دکار ائیر پورٹ سے شہر جاتے ہوئے ہماری گاڑی جہاں کہیں لال بتی پر کھڑی ہوتی، فوراً ہی ” سیاہ فام “ چھوٹے اور بڑے افراد گاڑی کے گرد جمع ہوجاتے ۔ یہ عین وہی منظر ہے جو دہلی کی سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ مگر دہلی میں جو لوگ اس طرح گاڑی کو گھیرتے ہیں وہ زیادہ تر بھیک مانگنے والے ہوتے یہاں اس کے برعکس منظر تھا۔ یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں مختلف قسم کے سامان لئے ہوئے ہوتے اور ان کو فروخت کرتے تھے۔ یورپ کے شہروں میں آپ جائیں تو وہاں آپ کو دونوں میں سے کوئی منظر بھی دکھائی نہیں دے گا۔

دکار میں میرا قیام ہوٹل نوو ٹل (Novotel) میں کمرہ نمبر ۲۳۸ میں تھا۔ پہلی نماز جو میں نے اس ہوٹل میں پڑھی وہ مغرب کی نماز تھی۔ کسی نئے مقام پر نماز پڑھنا ہمیشہ میرے لئے ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اکثر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو اس مقام

پر رب العالمین کے آگے سجدہ ریز ہو رہا ہے۔

یہ ہوٹل کسی بیرونی کمپنی نے بنایا ہے۔ وہ سمندر کے عین کنارہ ہے۔ پورا ماحول نہایت خوش ہوٹل کے طعام خانہ میں فرانسیسی گانے کا ریکارڈ دھیمی آواز بجتا رہتا تھا۔ یہ غالباً یورپی سیاحوں کی رعایت سے ہے، جن میں اکثریت فرانسیسیوں کی ہوتی ہے۔

اس مجبورانہ سماعت کے دوران سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ اردو نہ جاننے والے لوگ بھی اردو غزل سننا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی یا انگریزی گانے میں سننے والوں کے لئے وہ کیفیت نہیں جو غزل کے نغمہ میں پائی جاتی ہے۔

دکار (Dakar) سینیگال کی راجدھانی ہے۔ وہ افریقہ کی مغربی سرحد پر واقع ہے۔ جغرافی اہمیت کی بنا پر دکار افریقہ کے اہم شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ۱۹۵۹ تک وہ مغربی افریقہ میں فرانس کا سیاسی مرکز تھا۔ شہر کی آبادی ایک ملین سے کچھ زیادہ سینیگال کی آبادی میں ۹۵ فی صد سے زیادہ مسلمان ہیں۔

دکار میں ڈچ ۱۶۱۷ میں آگئے تھے۔ فرانسیسیوں نے ۱۶۷۷ میں اس پر قبضہ کیا۔ ایک زمانہ میں د کار غلاموں کی تجارت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ فرانسیسیوں نے ۱۸۶۶ میں یہاں اسٹیم شپ کا رخانہ قائم کیا۔ ۱۸۸۵ میں یہاں پہلی ریلوے سے لائن بچھائی گئی۔ یہ ریلوے لائن سینٹ لوئی اور دکار کے درمیان تھی ۔ ۱۹۱۴ میں دکار ایک ترقی یافتہ شہر بن چکا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں اور اس کے بعد یہاں صنعت کو کافی ترقی ہوئی ۔ اقتدار کے تحت پورا مغربی افریقہ اس کو وسیع مارکٹ کے طور پر حاصل تھا۔ ۱۹۵۹ اور ۱۹۶۱ کے درمیان مغربی افریقہ کی فرانسیسی حکومت ٹوٹ گئی ۔ اس کے بعد یہ علاقہ آٹھ آزاد ریاستوں میں اب اس کا مارکٹ کا میدان بہت کم ہو گیا ہے۔

دکار سے فرانسیسی قبضہ ختم ہو چکا ہے۔ مگر فرانسیسی تہذیب کے آثار اب بھی نمایاں طور پر باقی یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ تاہم عربی جاننے والے لوگ بھی کافی تعداد میں

سینیگال کا رقبہ ۱۹۶۸۷ مربع میل ہے۔ اور آبادی تقریباً ۷۳۵۵۰۰۰ لوگوں پر مشتمل

وہ ۱۹۶۰ میں آزاد ہوا۔ اس سے پہلے وہ فرانس کے قبضہ میں تھا۔ اس کے اثر سے اب بھی سینیگال کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔

سینیگال دراصل یہاں کے سرحدی دریا کا نام ہے جو ۱۰۱۵ میل لمبا ہے۔ تک اس کا تعارف سونے کا دریا (River of Gold) کی حیثیت سے پہنچا۔ ۱۶ ویں صدی سے لے کر ۲۰ ویں صدی تک یہی دریا فرانس کے نو آبادیاتی اثرات کو سینیگال تک پہنچانے کا ذریعہ بنا رہا۔ سینیگال مغربی افریقہ کا ساحلی ملک ہے۔ عربوں نے اس کو ابتدائی دور میں کامیابی کے ساتھ فتح کیا اور اس علاقہ کی تجارت پر قابض ہو گئے۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ نویں صدی اور چودھویں صدی عیسوی کے درمیان عرب دنیا میں جغرافیہ دانی اور تاریخ دانی کو کافی فروغ ہوا۔ اس سے عربوں کو اس علاقہ کے بارہ میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں جس کو وہ بلاد السودان کہتے تھے :

Islam when it is alive, does not merely preserve certain aspects of life, it also keeps all necessary aspects of humanity alive. (19/761) اسلام جب اپنی صحیح صورت میں زندہ ہوتا ہے تو وہ صرف معروف مذہبی پہلوؤں کو زندہ نہیں کرتا بلکہ اسی کے ساتھ وہ انسانیت کے تمام ضروری پہلوؤں کو بھی زندہ کر دیتا ہے۔ ویسٹ انڈیز اور امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں زراعت کا کام بڑھا۔ وہاں زمینیں تھیں مگر انسان نہ تھے۔ اس لئے زرعی مزدور کے طور پر غلاموں کی تجارت میں زبردست اضافہ ہوا ۔ ۱۷۸۰ اور اس کے بعد کے سالوں میں تقریباً ....ے غلام ہر سال افریقہ سے لے جاکر ویسٹ انڈیز اور امریکہ کے ساحل پر اتارے جارہے تھے (19/768)

غلاموں کی اس تجارت کو جس چیز نے ختم کیا وہ مشین کی ایجاد ہے۔ بعد کو جب زرعی مشینیں تیار ہوگئیں تو انسانی مزدوروں کی ضرورت اپنے آپ ختم ہوگئی۔ بعض اوقات کسی برائی کو ختم کرنے کے لئے صرف اخلاقی تبلیغ کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ مروجہ برائی کی اقتصادی یا سیاسی اہمیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کے بعد وہ برائی اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح کسی زندہ چیز سے

پانی نکال لیا جائے اور وہ اپنے آپ ہلاک ہو جائے ۔

سینیگال کی ایک عجیب جغرافی صفت ہے جو دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں پائی جاتی ۔ وہ یہ کہ ایک اور ملک اٹلانٹک کے ساحل سے ایک لمبے انکلیو (enclave) کی صورت میں سینیگال کے اندر گھسا ہوا ہے ۔ یہ دوسرا ملک گا مبیا ہے جو انگلی کی مانند تقریباً ۲۰ میل چوڑا اور ۲۰۰ میل لمبا اٹلانٹک کے ساحل سے سینیگال کے اندر تک چلا گیا ہے :

The Gambia constitutes a finger of territory 20 miles wide and 200 miles long that thrusts from the cost eastward deep into Senegal (16/531). سینیگال ایک خوش حال ملک ہے اور گامبیا ایک غریب ملک ۔ سینیگال میں غلہ کے علاوہ فاسفیٹ ، لوہا ، پٹرول وغیرہ پیدا ہوتا ہے ۔ جب کہ گامبیا کی حالت تقریباً وہی ہے جو برصغیر میں بنگلہ دیش کی ۔

یہ نو آبادیاتی طاقتوں کی دین ہے۔ پچھلی صدی میں ایسا ہوا کہ فرانسیسی سینیگال میں داخل ہوئے اور انگریز گامبیا میں۔ دونوں میں ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لیے کئی لڑائیاں ہوئیں۔ سمجھوتہ ہوا کہ انگریز گامبیا کے کچھ علاقے فرانسیسیوں کو دیدیں ۔ اور اس کے بدلے فرانسیسی صومالیہ کے کچھ علاقے انگریزوں کے حوالے کر دیں۔ اس طرح گیمبیا کا موجودہ عجیب و غریب ملک بنا۔ افریقہ کے لیے روانگی سے پہلے میں نے ہندوستان کے ایک اسلامی پرچہ (۱۰ اپریل ۱۹۹۰) میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا " افریقہ میں اسلام " اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ افریقہ کے لوگوں نے نہایت آسانی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور وہاں مسلمانوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ : "عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیمات بہت سادہ تھیں۔ اسلام نے مقامی افراد کی تہذیبی اقدار کو کم سے کم چھیڑا۔ اسلام نے وہ تمام باتیں قائم رہنے دیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف اور افریقیوں کو ان کے اپنے طور طریقوں کے ساتھ رہنے دیا “ یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ اور میں نے اپنے سفر افریقہ میں اس کی مختلف مثالیں دیکھیں۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کا یہ مزاج بہت عجیب ہے۔ افریقہ اور دوسرے ملکوں کے بارے میں اسلام کا یہ تقاضا ان کی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ زندگی کے طور طریقے جو براہ راست اسلام سے نہیں ٹکراتے ، ان میں غیر ضروری طور پر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ میں آتے ہی ان کا مزاج بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں ان کو اسلام کا مسئلہ نمبر ایک یہ نظر آنے لگتا ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں اپنی قومی شناخت علیحدہ قائم کریں۔ خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کا کام بند ہو کر رہ جائے۔

افریقہ کی بیشتر آبادی مسلمان ہے۔ اس اعتبار سے افریقہ ایک مسلم بر اعظم ہے۔ وہ بر اعظم ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر ایشیا میں مجموعی آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں نسبتاً زیادہ تعداد غیر مسلم اقوام کی ہے۔ جب کہ افریقہ میں اسلام سب سے بڑے مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم چند ملکوں کو چھوڑ کر بقیہ ممالک میں مسلمان کافی پس ماندہ حتی کہ بعض ملکوں میں مسلم اکثریت کے باوجود عیسائی فرقہ حکومت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ عیسائی سازش نہیں بلکہ مسلمانوں کی پس ماندگی ہے۔ مسلمان ان ملکوں میں تعلیمی اعتبار سے اتنے پیچھے ہیں

کہ مقابلہ وہ وہاں حکمران بننے کی پوزیشن میں نہیں۔

حکومتوں کی دعوت پر یا انٹرنیشنل کانفرنسوں میں شرکت کے لئے جو سفر ہوتے ہیں، ان میں آدمی کو مصنوعی ماحول میں رہنا ہوتا ہے۔ مثلاً کاروں کے قافلہ میں خصوصی راستوں پر سفر کر ایا یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا سفر کرنے والے کسی ملک کی حقیقی تصویر کو بہت کم دیکھ پاتے ہیں۔ میں اکثران اہتمامات کو توڑ کر ملکی حالات کو جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مثلاً ایک بار میں نے اپنی کار چھوڑ دی اور ایک عام بس پر بیٹھ گیا جو مطلوبہ منزل کی طرف جارہی تھی۔ اس سفر کے دوران کئی نئی باتوں کا تجربہ ہوا۔ مثلاً میں نے دیکھا کہ عام افریقی بہت زیادہ بولتے ہیں، اور زیادہ بولنا ہمیشہ کم سوچنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ کئی خنزیر پھر گھوم رہے ہیں۔ اندازہ ہوا کہ یہاں مذہبی رواداری بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اسی طرح اندازہ ہوا کہ اندرونی سڑکیں اتنی اچھی نہیں ہیں جتنی بیرونی سڑکیں اچھی ہیں۔ عام افریقیوں کے مکان بہت معمولی اسلام افریقہ میں داخل ہوا تو پہلے وہ اس کے شمالی حصہ میں پہنچا۔ کیوں کہ یہ حصہ عرب دنیا سے ملا مغربی افریقہ میں اسلام کسی قدر بعد میں پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ مغربی افریقہ کے مسلمانوں ہی نے سب سے پہلے امریکہ کو دریافت کیا۔ وہ برازیل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ امریکہ کا نام ایک افریقی قبیلہ کے نام پر ہے جس کا واحد برزلہ اور جمع برازیل ہے۔ ایک مورخ نے مغربی غلبہ کے زمانہ میں لکھا تھا کہ افریقہ میں کئی بڑے بڑے علاقے ہیں جہاں کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اسلام وہاں پہنچا۔ حتیٰ کہ اب بھی وہاں اسلام پھیل رہا ہے جب کہ وہاں کے یورپی حکمراں اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مشغول ہیں : حقیقت یہ ہے کہ اسلام فطرت کا دین ہے۔ وہ جہاں بھی پھیلتا ہے ، فطرت کے زور پر پھیلتا ہے نہ کہ حکومت یا مادی طاقت کے زور پر۔

ہوٹل کے کمرہ کی میز پر ہوٹل کی طرف سے مختلف قسم کے اشتہاری کارڈ رکھے ہوئے تھے۔ ایک کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ نئے دن کے آغاز کے لئے اس سے بہتر طریقہ کیا ہے کہ آپ ہمارے بوفے ناشتہ سے اس کا آغاز کریں :

What better way to start a new day than our breakfast buffet? اس کو پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آگیا ( من صلی الصبح فہو فی ذمۃ اللہ ) گو یا ہوٹل کے مالک کی سوچ یہ ہے کہ آدمی اس کے تجارتی ناشتہ سے اپنی صبح کا آغاز کرے ۔ اس کے برعکس پیغمبر کی سوچ یہ ہے کہ آدمی یا دخداوندی سے اپنی صبح شروع کرے ۔ ہوٹل کا مالک صلاۃ صبح سے اختلاف نہیں کرے گا۔ اسی طرح پیغمبر صبح کے ناشتہ سے کسی کو نہیں روکے گا۔ مگر ہوٹل والے کے ذہنی سانچہ میں یا دخداوند ی ثانوی چیز ہے اور پیغمبر کی فکر میں ناشتہ ثانوی چیز۔ اسی تقدیم و تاخیر کے نتیجہ میں ایک رویہ دنیا پرستی بن جاتا ہے اور دوسرا رویہ

۷ مئی کو صبح ۱۰ بجے کا وقت ہے۔ میں ہوٹل کے باہر کے حصہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک طرف ہوٹل کی بلند و بالا عمارت ہے۔ دوسری طرف سمندر حد نظر تک پھیلا ہوا موجیں مار رہا درمیان میں سبزہ اور پھول اور درخت کے مناظر ہیں۔ موسم نہایت خوشگوار ہے۔ ہواؤں کے جھونکے لمس ربانی کی مانند ہر چیز کو چھوتے ہیں اور پھر گزر جاتے ہیں۔ چڑیوں کی آوازیں قدرتی نغمہ بکھیر رہی ہیں۔

" دنیا جب اتنی حسین ہے تو آخرت کتنی زیادہ حسین ہوگی “ میری زبان سے نکلا۔ یہ ہے کہ موجودہ دنیا آخرت کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہے۔ مگر اللہ تعالی نے اس دنیا میں اس کے ساتھ " حزن " رکھ دیا تاکہ کوئی شخص یہاں اپنا دل نہ لگا سکے۔ آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے آئینہ میں آخرت کو دیکھے۔ لیکن اگر آدمی موجودہ دنیا ہی کو اصل سمجھ کر اس میں کھو جائے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے آپ آئینہ میں ایک خوبصورت پھول دیکھیں اور اس پھول کو خود آئینہ کے اندر حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔

( باقی )

Printed page