خبر نامه اسلامی مرکز ۶۵
Al-Risala, September 1990, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
کنیز مراد صاحبہ ایک ۵۰ سالہ خاتون ہیں۔ وہ ترکی کے سلطان مراد کے خاندان سے تعلق رکھتی اس وقت وہ فرانس کے شہر پیرس میں رہتی ہیں۔ وہ فرانسیسی زبان کی مصنفہ ہیں۔ ’امنی کو وہ اسلامی مرکز میں آئیں ۔ صدر اسلامی مرکز سے انھوں نے اسلام کے بارے میں مختلف سوالات پر مفصل تبادلہ خیال کیا۔ آخر میں انھیں انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے اور سفیر انقلاب (انگریزی) مطالعہ کے لئے دی گئی۔
گجرات کی ممتاز عربی درس گاہ دار العلوم بھروچ سے ایک گجراتی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام دار العلوم ہے۔ یہ ایک کثیر الاشاعت اور معیاری ماہنامہ ہے۔ اس نے الرسالہ کا مضمون (صاحب قرآن) گجراتی زبان میں شائع کیا ہے۔ اسی طرح اور بھی گجراتی رسائل الرسالہ کے مضامین کبھی حوالہ کے ساتھ اور کبھی بغیر حوالہ شائع کرتے رہتے ہیں۔ مانو لیکستا (مہمان رئنی دہلی) کی طرف سے لال قلعہ کے میدان میں ”عید ملن“ کی تقریب اس میں لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر بلی رے ، جسٹس تارکنڈے اور دوسری بہت سی ممتاز شخصیتیں شریک ہوئیں۔ منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر شرکت کی اور وہاں اپنے خیالات پیش کئے ۔
جنیوا (سوئٹزر لینڈ) میں ۳ مئی ۱۹۹۰ کو ایک کانفرنس تھی۔ صدر اسلامی مرکز کے نام اس کا دعوت نامہ آیا تھا اور ٹکٹ بھی آ چکا تھا۔ مگر بعض اسباب سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے۔ مغربی ملکوں میں بڑے پیمانہ پر اسلامی دعوت کے امکانات کھل گئے ہیں۔ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
کچھ نئی کتابیں تیار ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ایک ” راہ عمل “ ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ عصر حاضر میں دعوت کا اسلوب کیا ہونا چاہئے ۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : اس وقت رات کے ایک بج کر ۳۰ منٹ ہو رہے ہیں۔ میں مارچ ۱۹۹۰ کا اردو الرسالہ لئے پڑھ رہا تھا کہ آپ کے سفر نامہ کی روداد میں جب پاکستان کے ان بزرگ کا یہ جملہ ” میاں بیٹھنے کا وقت کہاں ، اب تو لیٹنے کا وقت ہے “
پڑھا، اور اس کو سن کر آپ نے جو اپنی کیفیت بیان کی تو یقین جانئے اسی وقت میں بھی تڑپ اٹھا۔ دوسرے ہی لمحہ میں نے یہ انتر دیشی نکال کر ایجنسی کے لئے آپ کو لکھنے کا تہیہ کر لیا۔ بے شک الرسالہ کا ایک ایک حرف انقلاب پیدا کر دیتا ہے دل و دماغ میرے نام الرسالہ کے دس پرچوں کی ایجنسی جاری کر دیں۔ (سید مقصودانعام دار انجینئر، اورنگ آباد)
۷ | ایک صاحب لکھتے ہیں : الحمد للہ اس زمانہ میں آپ کی قیادت میں الرسالہ کے ذریعہ اللہ لاکھوں انسانوں کو ہدایت سے نواز رہا ہے۔ میرے لئے تو الرسالہ اندھیرے میں جگنو کی طرح ہے۔ میں تو گو یا اس کا عاشق ہوں۔ ایک مہینہ کا پرچہ لینے کے بعد دوسرا پرچہ کب ملے گا ، اسی انتظار میں رہتا ہوں (شیخ بابو میاں ، اورنگ آباد) ۸ | الرسالہ کے عربی ایڈیشن کے بدل کے طور پر کچھ عرب نوجوان ایسا کر رہے ہیں کہ وہ الرسالہ کے بعض مضامین کا عربی میں ترجمہ کرواتے ہیں۔ اور ان کی فوٹو کاپی کر کے ان کو عربوں کے درمیان پھیلاتے ہیں۔
۹ | خدا کا فضل ہے کہ ماہنامہ الرسالہ اردو پاکستان (کراچی) سے چھپنا شروع ہو گیا ہے۔ یہ کسی اضافہ یا کمی کے بغیر ہندوستانی ایڈیشن کی نقل ہوتا ہے۔ اس سلسلہ کا پہلا شمارہ مارچ ۱۹۹۰ میں شائع ہوا ہے۔ پاکستان کے قارئین الرسالہ کی عرصہ سے خواہش تھی کہ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی افکار کو پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لئے اس کو پاکستان سے شائع کیا جائے۔ اس کے مطابق اس کا اجراء عمل میں آیا ہے۔ ۱۰ | ایک صاحب لکھتے ہیں : میں الرسالہ کا مطالعہ تین سال سے کر رہا ہوں۔ اس کی تحریریں دلوں کو چھونے والی ہیں۔ اس کو پڑھنے کے بعد دل نے کہا کہ واقعی صحیح راہ یہی ہے۔ نے مل کر ایک ایجنسی بھی لے لی ہے جو کہ تمام طلبہ میں تقسیم ہوتی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ الرسالہ کے مضامین زیروکس کرا کر لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ (اقبال الرحمن، علی گڑھ) ۱۱ | ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ آدمی کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ۱۹۸۲ سے میں نے اسے محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ۸۲ سے اب تک کا الرسالہ ہر سال کا میں نے الگ
الگ مجلد کر وایا ہے۔ سفر میں الرسالہ کی ایک جلد میرے شریکِ سفر تی ہے۔ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کچھ دنوں کے بعد کوئی ساتھی شمارہ پڑھڑے ، نیا ہی معلوم ہوتا اور پریشانی کے عالم میں آپ کی تحریر ایک نیا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ الرسالہ کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی تو پھر میں نے بھی اس کو اسلام کی ضرورت سمجھے کر الرسالہ کی ایجنسی لے لی۔ پہلے پانچ کاپی منگواتا تھا۔ اب پندرہ کاپی منگواتا ہوں (مظفر امام ، گیا) ملک کا سنجیدہ طبقہ نہایت دل چسپی کے ساتھ الرسالہ پڑھ رہ رہا ہے اور اکثر خط یا ملاقات کے ذریعہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ مثلاً ۲۸ اپریل ۱۹۹۰ کو جناب کلدیپ سنگھ گجرال (نئی دہلی) مرکز میں آئے اور دیر تک صدرِ اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بہت کتابیں اور میگزین پڑھی ہیں۔ مگر الرسالہ (اردو) نے مجھ کو جتنا متاثر کیا اتنا کسی نے بھی متاثر نہیں کیا۔
مختلف اخبارات الرسالہ کے مضامین نقل کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح الرسالہ کا پیغام وسیع تر حلقہ میں برابر پھیل رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کے اخبار انقلاب (۷ اپریل ۱۹۹۰) نے اور اردو ٹائمز (۱۹ اپریل) نے الرسالہ کے کئی مضامین نمایاں طور پر نقل کئے ہیں۔ محمود حسین زیدی صاحب علی گڑھ انجینرنگ کالج میں استاد ہیں۔ انھوں نے ۳ مئی ۱۹۹۰ کی ملاقات میں بتایا کہ وہ گاڈ آر ائٹز کئی بار خرید چکے ہیں مگر اب تک اس کو ختم نہ کرسکے۔ کیوں کہ جو شخص دیکھتا ہے اس کو قیمت دے کر لے لیتا ہے۔ باہر کے افراد مثلاً ناروے کے ایک پروفیسر علی گڑھ آئے تھے ، وہ بھی اسی طرح ان سے کتاب لے گئے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ جدید طبقہ میں مرکز کی کتابوں کی مانگ کتنی بڑھ چکی ہے۔ الرسالہ مئی ۱۹۹۰ میں جناب سید شفیع الدین صاحب کی ایک انگریزی نظم بعنوان " ذہنی سفر " صفحہ ۴۴ پر چھپی تھی۔ اس میں غلطی سے موصوف کی تعلیمی ڈگری کے تحت (M.A., (Eng) M.Ed لکھ دیا گیا تھا جب کہ علاوہ M.A., M.Com. ہیں۔
الرسالہ کے ہندی ایڈیشن کی تیاریاں جاری ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی شائع ہوگا۔