Al-Risala · October 1990

عجیب فرق

Al-Risala, October 1990, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی میں رانی جھانسی مارگ پر ہفت روزہ آرگنائزر اور پانچ جنبیہ کے دفاتر قائم ہیں۔ ذمہ داروں نے کئی بار مجھ سے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم اپنے یہاں ایک میٹنگ کریں اور آپ وہاں آکر ہمیں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔ آخر کار اس کے لیے ، جولائی ۱۹۹۰ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ وہاں جاکر میں نے اسلام کے بارہ میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی اور سوالات کے جوابات دیے۔ مسلم اخبارات نے اپنی خود ساختہ رپورٹنگ میں اس تقریر کو کچھ کا کچھ بنا دیا۔ مثال کے طور پر ایک مسلم ہفت روزہ نے اس کی جو رپورٹ چھاپی اس کا عنوان سنسنی خیز طور پر یہ تھا : مولانا وحید الدین خان : مسلم دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا۔

مسلم اخبار کے نزدیک میری تقریر اس بات کا ثبوت تھی کہ میں مسلم دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا ہوں مگر جن ہند و صاحبان کے درمیان میں نے وہ تقریر کی ، ان کی نظر میں سارا معاملہ بالکل برعکس تھا۔ آرگنائزر کے ایڈیٹر مسٹروی پی بھاٹیانے اپنے اخبار کی دو قسطوں (۵ اگست ، ۱۹ اگست ۱۹۹۰) میں اس کی بابت اپنے تاثرات شائع کیے ہیں۔ وہ خود اس میٹنگ میں شروع سے آخر تک موجود انھوں نے میری تقریر کا جو خلاصہ نکالا وہ یہ تھا کہ میرا مشن اسلام کی تبلیغ اور تبدیلی مذہب (proselytisation) ہے ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی رپورٹ کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا ہے ایک مبلغ مولانا :

Printed page