آخری فیصلہ
Al-Risala, October 1990, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
مہاراشٹر ہائی کورٹ کے ایک جج نے ایک وکیل کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جو وکیل کے نزدیک قابل اعتراض تھی ۔ جلد ہی دوسرے وکیلوں نے اس کا ساتھ دیا ۔ مہاراشٹر اور گوا کی بار کونسل کی ایک ہنگامی میٹنگ کی گئی ۔ اس میں متفقہ طور پر ایک ریزولیوشن پاس کیا گیا کہ جج نے جو کچھ کہا، وہ اس کے دائرہ سے باہر تھا ، اس بنا پر وہ اس قابل ہے کہ اس کی مذمت کی جائے ۔
اس واقعہ پر ٹائمس آف انڈیا ( ۲۸ اپریل ۱۹۹۰ ) نے ایک نوٹ شائع کیا ہے ، اس نوٹ کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے ــــــــــ فیصلہ کرنے والے کا فیصلہ کیا گیا : میں نے اس کو پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ یہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانہ پر آخرت میں ہونے والا ہے۔ آخرت وہ دنیا ہے جہاں تولنے والے تولے جائیں ، جہاں فیصلہ کرنے والوں کے اوپر دوبارہ فیصلہ کیا جائے ۔
موجودہ دنیا میں کسی شخص کو ایک عہدہ حاصل ہے۔ کسی کو شہرت اور مقبولیت مل گئی ہے۔ کوئی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر قبضہ کیے ہوئے ہے ۔ کوئی شخص کسی اور قسم کی طاقت کا مالک ہے ۔ ان حیثیتوں کا فائدہ اٹھا کر ایک شخص دوسرے شخص کو مجرم ثابت کر رہا ہے ۔ دوسرے گروہ کو برا بتا کر اس کی حیثیت کو لوگوں کی نظر میں بگاڑے ہوئے ہے ۔ اس قسم کے تمام فیصلے اور پروپیگنڈے وقتی ہیں ۔ یہ صرف اس وقت تک باقی رہنے والے ہیں جب تک کہ خداوند ذو الجلال ظاہر نہ ہو جائے جو تمام ججوں کا جج اور تمام فیصلہ کرنے والوں کے اوپر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ جب خدا ظاہر ہوگا تو وہ عین عدل اور انصاف کی بنیاد پر ہر ایک کا فیصلہ فرما دے گا ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آج تو اللہ تعالیٰ حق اور ناحق اور صحیح اور غلط کو صرف اعلان کے درجہ میں لوگوں کو بتا رہا ہے ۔ پھر جب اللہ کا حکم آئے گا تو وہ حق کے مطابق ہر ایک کا فیصلہ کر دے اس دن سچے لوگ سرخرو ہوں گے اور غلط کار لوگ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے