There is no question of religion or no religion,
Al-Risala, October 1990, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر رادھا کرشنن نے جس قسم کے مذہب کی وکالت کی ہے، وہ مذہب وہ ہے جو وحدت ادیان پر عقیدہ رکھتا ہو۔ یعنی یہ تصور کہ ایک ہی آفاقی حقیقت ہے جو ہر مذہب میں ظاہری فرق کے ساتھ پائی
یہ نظریہ در اصل جزء پر کل کو قیاس کر کے وضع کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دو مختلف سچائیوں میں جزئی فرق ہو سکتے ہیں، تاہم اس جزئی فرق کے باوجود دونوں سچائیاں ایک مانی جائیں گی۔ فرق کلی نوعیت کا ہو، مثلاً ایک مذہب کہے کہ خدا ہے، اور دوسرا مذہب کہے کہ مستقل بالذات حیثیت سے خدا کا کوئی وجود نہیں۔ اس طرح کے فرق جہاں پائے جائیں وہاں کوئی ایک ہی مذہب سچا ہوگا نہ کہ دونوں
مذہب کی ایک قسم وہ ہے جو ذاتی تجربات کو مذہب کی بنیاد بتاتی ہے۔ اس قسم کا مذہب سراسر نا قابل قبول ہے۔ کیوں کہ اصل سوال استناد کا ہے۔ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر جو مذہب بنے، اس کو مستند نہیں کہا جا سکتا، اس لیے وہ قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا۔
وہ کون سا مذہب ہے جس کو اختیار کیا جائے ۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مذہب جو ثابت شدہ ہو۔ یعنی وہ مذہب جو تاریخ کے معیار پر مستند ثابت ہو ۔ وہ مذہب جس کا پیغمبر تاریخی پیغمبر ہو، جس کی دی ہوئی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ ہو۔ جو تاریخ کی کسوٹی پر پوری طرح معتبر قرار پاتا ہو۔