Al-Risala · October 1990

دس سال خاموش

Al-Risala, October 1990, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

خلافت تحریک بیسویں صدی کے آغاز میں اٹھی اور ۱۹۲۴ء میں آخری طور پر ختم ہوگئی۔ قریب اُس سال تک ہندوستانی مسلمانوں میں اس کا ہنگامہ جاری رہا۔ مولانا اشرف علی تھانوی (۱۸۶۳ - ۱۹۴۳) غالباً واحد نمایاں شخص تھے جو اس کے مخالف تھے اور اس پر سخت تنقید کرتے تھے۔ مولانا تھانوی کے ملفوظات میں ہے کہ " جس زمانہ میں تحریک خلافت کا شباب تھا، شورش پسند طبیعتیں جوش میں بھڑک رہی تھیں ۔ چہار طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ یہاں تک نوبت آگئی تھی کہ علاوہ برا بھلا کہنے اور لعن طعن اور قسم قسم کے بہتان و الزامات لگانے کی دھمکی کے خطوط میرے پاس آئے کہ یا تو شریک ہو جاؤ ورنہ قتل کر دئے جاؤ گے۔

مولانا تھانوی اس سلسلہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں تحریک خلافت کے ایک ممتاز حامی میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ اس تحریک میں شریک کیوں نہیں ہوتے۔ میں نے کہا کہ اس کام کو کرنے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی امیر المومنین ہو۔ کی تکمیل کے بغیر یہ ساری تحریک غلط ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم آپ ہی کو امیر المومنین بناتے ہیں۔ نے کہا کہ میں امیر المومنین بننے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس میں کچھ شرائط ہیں۔ مولانا تھانوی کی پیش کردہ پہلی شرط کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام ہندوستان کے مسلمان اپنا تمام مال اور جائداد میرے نام ہبہ کر دیں۔ کیوں کہ مال کے بغیر کوئی امیر المومنین کچھ نہیں کر سکتا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مشاہیر علماء اور لیڈروں کے دستخط کرا ؤ کہ وہ مجھ کو امیر المومنین تسلیم کر لیں۔ اگر بلا اختلاف سب نے تسلیم کر لیا تو میں امیر المومنین ہوں گا۔ اگر ایک نے بھی اختلاف کیا تو میں امیر المومنین نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ اختلاف کی صورت میں امیر امیر نہیں ہاں اگر تسلیم کے بعد پھر کوئی اختلاف یا خلاف کرے تو امیر کو حق ہے کہ وہ اپنی قوت سے ایسے لوگوں کو دبائے اور ٹھیک کرے۔ قبل از تسلیم حق نہیں کہ اس کو دبایا جائے"۔ اس کے بعد مولانا تھانوی نے کہا: "اب سنئے کہ امیر المومنین ہونے کے بعد سب سے اول جو حکم دوں گا وہ یہ ہوگا کہ دس سال تک کے لئے سب خاموش۔ ہر قسم کی تحریک اور ہر قسم کا شور وغل

اس دس سال میں انتظام کروں گا ممسلمانوں کو مسلمان بنانے کے اور ان کی اصلاح کے لئے باقاعدہ انتظام ہو گا۔ غرض کہ مکمل انتظام کے بعد جو مناسب ہو گا حکم دوں گا۔ عملی صورت یہ ہے کام کرنے کی ۔ اور اگر محض کاغذی امیر المومنین بنانا چاہتے ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آج امیر المومنین ہوں گا کل کو اسیر الکافرین ہوں گا۔ آج سردار بنوں گا ، کل سردار ہوں گا۔

مولانا تھانوی اس کے بعد کہتے ہیں : " خلاصہ یہ ہے کہ ہر کام اصول سے ہوتا ہے۔ تو گھر کا انتظام بھی نہیں ہو سکتا۔ ملک کا تو کیا خاک انتظام ہوگا۔ یہ ہیں وہ اصولی باتیں جن پر مجھ کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور ہر قسم کے الزامات و بہتان میرے سر تھوپے جاتے ہیں اور لوگ مجھ سے خفا ہیں۔ خفا ہونے کی صرف یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اصول کے ماتحت کام کرو۔ جوش سے کام مت لو۔ ہوش سے کام جوش کا انجام خراب نکلے گا۔ حدود شرعیہ کی حفاظت رکھو۔ وہ ان باتوں کو اپنے مقاصد میں روڑا اٹکانا سمجھتے ہیں "۔ (الافاضات الیومیہ جلد اول ، صفحہ نمبر ۱۰-۱۰۱)

مولانا تھانوی کی ان انتہائی معقول باتوں کو کسی نے نہیں سنا۔ تمام سلمان پر جوش خطیبوں کی آواز پر بے معنی دوڑ لگاتے۔ اپنے زمانہ کے مسلمانوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے مولانا تھانوی کہتے ہیں: مسلم عوام کی حالت یہ ہے کہ جس نے مرضی کے موافق فتویٰ دے دیا ، یا کوئی عالم یا لیڈر ان کے ساتھ ہو لیا ، اس میں سب کمالات ہیں۔ اس کو عرش پر پہنچا دیں گے۔ اگر کسی نے مرضی کے خلاف کوئی بات کی تو تحت الثریٰ میں اس کو جگہ ملنا مشکل۔ غرض کہ ایک گڑ بڑ ہے۔ اور یہ طریقہ کار جو موجود ہے ، یہ سراسر اسلام اور شریعت سب کے خلاف ہے۔ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا تعلق (صفحہ (۱۱۱)

اس واقعہ سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی صحیح لیڈر نہیں۔ بات یہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر کسی صحیح آدمی کو اپنا لیڈر نہیں بناتے ۔ وہ جھوٹے الفاظ بولنے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں ، اور جو آدمی سچے الفاظ بولے، اس سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ آج مسلمانوں کا حال ، قرآن کے مطابق ، یہ ہو رہا ہے کہ اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں گے اور اگر گم راہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنالیں گے (الاعراف ۱۴۶)

Printed page