تعمیر یا تخریب
Al-Risala, October 1990, pp. 18–20
By Maulana Wahiduddin Khan
”وفاق“ پاکستان کا ایک روزانہ اخبار ہے جو لاہور، راولپنڈی، سرگودھا اور رحیم یار خان سے بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ مئی ۱۹۹۰ کے صفحہ اول پر ایک تصویر ہے جس میں مسلمانوں کا ایک ہجوم قہقہہ لگا رہا ہے اور پتھر اور لکڑی سے کسی چیز کو مار رہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: جماعت اسلامی کے زیر اہتمام عریانی اور فحاشی کے خلاف مظاہرے، مظاہرین ٹی وی سیٹ کو توڑ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ”جماعت اسلامی کی انسداد منکرات مہم کے آخری روز حسن اسکوائر، گلشن اقبال (کراچی) کے نزدیک علامتی طور پر ٹی وی کو سنگسار کر کے بے راہ روی عریانی اور فحاشی کے خلاف نفرت کا اظہار کیا گیا۔ ٹی وی سیٹ پر جب ایک ساتھ ہزاروں پتھر برسے تو ٹی وی ایک لمحہ میں چکنا چور ہو گیا۔ جماعت اسلامی کا یہ مظاہرہ اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد مظاہرہ تھا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر اور اسلامی جمہوری اتحاد کے سیکریٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ آج ٹی وی سیٹ تباہ کیا گیا ہے، لیکن اگر ٹی وی نے اپنی روش نہ بدلی تو کل عوام کے ہاتھ ٹی وی اسٹیشن کے درو دیوار تک پہنچ جائیں گے۔ اگر ٹی وی نے اپنا رویہ نہ بدلا اور شیطانی کام کرتا رہا تو شیطان کے ایجنٹوں کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے۔ تقریباً یقینی ہے کہ جن لوگوں نے ٹی وی سیٹ پر سنگ باری کر کے ٹی وی سیٹ کو توڑا، ان میں سے اکثر کے گھروں میں ٹی وی موجود ہوگا۔ ایسی حالت میں یہ خود ایک شیطانی فعل ہے کہ چوک پر ایک ناکارہ ٹی وی سیٹ رکھ کر اس پر پتھر مارے جائیں اور یہ امید کی جائے کہ ملک سے ٹی وی کی برائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی کی برائی لوگوں کے اپنے اندر ہے نہ کہ ٹی وی اسٹیشن یا حکومتی ایوان کے اندر۔
اگر ٹی وی کی برائی کو ختم کرنا ہے تو لوگوں کے دلوں کو بدلے، حکومت کے خلاف نعرہ لگانے سے ٹی وی کی برائی کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ اگر حکومت پاکستان ٹی وی کے موجودہ تمام
پرو گراموں کو بند کرکے صبح وشام ٹی وی کے اوپر صرف تلاوت قرآن کے پرو گرام نشر کرنے لگتے تب بھی موجودہ حالت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے طویل زمانہ حکومت میں اس کا ایک تجربہ کیا گیا اور مکمل طور پر نا کام رہا۔ ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ ہندوستانی فلموں میں عریانی اور فحاشی ہوتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں ہندوستانی فلموں پر مکمل پابندی لگادی۔ مگر اس کے بعد جو فرق ہوا وہ صرف یہ تھا کہ جس ہندوستانی فلم کو اس سے پہلے لوگ پکچر ہاؤس میں یا ٹیلی وژن سیٹ پر دیکھتے تھے، اس کو اب وہ ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ خود اپنے گھر کے اندر رو می سی آر پر دیکھنے لگے۔
جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں ساڑھے گیارہ سال تک مکمل اقتدار حاصل رہا۔ اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے لے کر ہندوستان کے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تک تمام لوگوں کے نزدیک وہ مرد حق اور مرد مومن تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے ٹیلی ویژن کی وزارت (وزارت اطلاعات) پوری طرح جماعت اسلامی کو دے دی۔ جماعت اسلامی کا وزیر اطلاعات اور جنرل ضیاء الحق کا فوجی ڈنڈا دونوں مل کر پاکستان میں ٹیلی ویژن کی برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کے باوجود ٹیلی ویژن کی برائی میں ایک فیصد بھی نہیں ہوئی، بلکہ ایک اندازے کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہو گیا۔
اس تجربہ نے واضح طور پر ثابت کیا کہ جماعت اسلامی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ٹیلی ویژن راو ر اس طرح کی دوسری سماجی برائیوں کی اصلاح حکومت کی طاقت سے ہوتی ہے۔ اگر یہ اصلاح حکومت کی طاقت کے ذریعہ ہونے والی ہوتی تو وہ اس سے پہلے اس وقت ہو چکی ہوتی جب کہ جماعت اسلامی کے وزیر اطلاعات اور مردِ حق ضیاء الحق" کو حکومت کی طاقت حاصل تھی۔ اور وہ اس کے ذریعہ ٹیلی ویژن (اور دوسری سماجی برائیوں) کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگوں نے جو پتھر ٹیلی ویژن سیٹ پر مارے، وہ پتھر انھیں خود اپنے آپ پر مارنا چاہئے۔ انھیں چاہئے کہ جماعت اسلامی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بے بنیاد سیاسی نظریات کا ایک پتلا بنائیں اور پاکستان کے ہر چوک پر رکھ کر اس کو سنگسار کریں ۔ یہی بے بنیاد نظریہ پاکستان میں " ٹی وی" جیسی برائیوں کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کیوں کہ جماعت اسلامی کے لوگ اگر بے بنیاد نظریہ میں گم نہ ہوتے تو وہ اپنی کوششوں کو سیاست کی چٹان پر ضائع نہ کرتے بلکہ اس کو افراد کی اصلاح میں لگاتے۔ اور پھر وہ مقصد اب تک حل ہو چکا ہوتا جو غلط مقام پر محنت کرنے کی وجہ سے حاصل نہ ہو سکا۔
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے انتہائی بے بنیاد طور پر یہ نظریہ بنایا کہ سماج کی یا سماجی شعبوں کی اصلاح حکومت کی طاقت سے ہوتی ہے، اس لئے حکومت کی طاقت پر قبضہ کرو۔ جماعت اسلامی کے افراد اسی بے بنیاد نظریہ سے متاثر ہو کر پچھلے پچاس برس سے حکومت پر قبضہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ دلیل کے اعتبار سے یہ نظریہ پہلے ہی رد کیا جا چکا تھا۔ مگر تجربہ کے اعتبار سے وہ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ حکومت (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷) میں رد ہو گیا۔ اب اگر جماعت کے لوگ اپنی کوششوں کو مفید بنانا چاہتے ہیں تو انھیں چاہئے کہ وہ اپنے سابقہ سیاسی نظریہ کی غلطی کا اعلان کریں۔ اور اس کے بعد موجودہ تخریبی طریقوں کو چھوڑ کر خالص اصلاحی انداز میں افراد کی ذہنی تعمیر میں لگ جائیں۔ یہ اگرچہ ایک دیر طلب کام ہے، اور اس میں عوامی لیڈری بھی نہیں ملتی، تاہم کسی معاشرہ میں کوئی حقیقی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر نہیں۔
حکومت کی طاقت سے سماجی برائیوں کو دور کرنا، بظاہر ہر ایک خوب صورت نظریہ ہے۔ مگر وہ عملاً اگر آپ انسان کو بدلے بغیر حکومتی سطح پر برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ برائی ایک نئی صورت میں قائم ہو جائے گی، وہ لوگوں کی زندگیوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ برائی کو ختم کرنے کے سلسلہ میں پہلا کام افراد کے اندر برائیوں کو چھوڑنے کی آمادگی پیدا کرنا اس آمادگی کو پیدا کرنے سے پہلے " انسداد منکرات" کے نام پر حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے سے منکرات کا انسداد تو نہیں ہوگا البتہ پورا سماج تخریبی سماج بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بھیڑ کو جمع کر کے چوراہا پر ٹی وی سیٹ کے اوپر پتھر مارنا صرف جھوٹی لیڈری ہے۔ سچا لیڈر وہ ہے جو عوام کو اس پر آمادہ کرے کہ وہ اپنے گھروں میں جا کر اپنا اپنا ٹی وی سٹ توڑ ڈالیں ۔ اور ایسا لیڈر سارے عالم اسلام میں کوئی ایک بھی نہیں۔ امریکہ میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لئے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں۔ Mr. Khaja Kaleemuddin New York Tel. 718-258 3435