Al-Risala · October 1990

ایک تقابل

Al-Risala, October 1990, pp. 24–34

By Maulana Wahiduddin Khan

لارڈ میکالے (T.B. Macaulay) ۱۸۳۴ میں ہندوستان آیا۔ سپریم کونسل آف انڈیا کے ایک اہم ممبر کی حیثیت سے اس نے وہ تعلیمی نظام شروع کیا جو بالآخر "انگریزی نظام تعلیم" کے نام سے پورے ملک میں رائج ہو گیا۔ اس نظام تعلیم کا مقصد ، میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ ، اس کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی مگر خیالات کے اعتبار سے انگریز ہو :

So that a generation may arise which will be Indian in birth and English in thought. مسلمانوں کے تمام بے ریش اور باریش لیڈر (سر سید کے واحد استثناء کو چھوڑ کر) اس نظام تعلیم کے خلاف ہو گئے ۔ وہ اس کی مخالفت میں تقریر کرنے لگے۔ کسی نے اس کو "قتل گاہ" کسی نے اس کے اوپر یہ شعر چسپاں کیا :

بچوں کے کبھی قتل سے بد نام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی بیشتر لوگوں نے اس تعلیمی نظام میں شرکت نہیں کی۔ جو لوگ اس میں داخل ہو گئے تھے وہ درمیان ہی میں اس کو چھوڑ کر اس سے الگ ہو گئے۔ اس مخالفانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں سے کم از کم دو سو سال پیچھے ہو گئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی یہی پسماندگی ہے۔ کیوں کہ تعلیم سے محرومی آدمی کو بے شعور بناتی ہے ۔ لوگ بے شعور ہوں ، اس دنیا میں ان کے لیے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں ۔ اب ایک اور تصویر دیکھئے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۴۵ میں جاپان کو امریکہ کے مقابلہ میں شکست ہوگئی۔ اس کے بعد امریکہ سیاسی ، فوجی ، انتظامی ، ہر اعتبار سے جاپان پر اس شکست کے بعد جاپان نے اپنے آپ کو مکمل طور پر امریکہ کی ماتحتی میں پایا۔ اس کے بعد جبری طور پر جاپان کو غیر مسلح کر دیا۔ جاپان کے نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں ۔ دسمبر ۱۹۴۵ میں امریکی جنرل میکار تھر نے تعلیمی انتظام کے متعلق وہ بنیادی ہدایات

جاری کیں جن کا خاص مقصد جاپان میں عسکریت کو اور جاپانی عوام کے قوم پرستانہ مزاج کو ختم کرنا تھا ۔

جنگ کے زمانہ کے بہت سے ٹیچر ملازمت سے سبک دوش کر دیے گئے ۔ سیاست کو مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ شنٹو تعلیمات کو نصاب سے خارج قرار دیا ان تبدیلیوں کا مقصد یہ تھاکہ جاپان کی جدید نسل کو امریکہ کی پسند کے مطابق بنایا جائے ۔ میں امریکہ کے تعلیمی ماہرین کی ایک ٹیم باقاعدہ منصوبہ کے تحت جاپان پہنچی ۔ اس امریکی ٹیم نے ایک رپورٹ تیار کی جس کا نام حسب ذیل تھا :

Report of the United States Education Mission to Japan یہ رپورٹ گویا ان ہدایات کی عملی تفصیل تھی جن کو جنرل میکار تھر نے جاپان کی وزارتِ تعلیم کے نام جاپان کے مقتدرِ اعلیٰ کی حیثیت سے جاری کیا تھا۔ ۱۹۴۷ میں جاپان کا بنیادی تعلیمی قانون اور اسکول تعلیم کا قانون اسی کی مطابقت میں وضع کیا گیا۔ ۱۹۴۸ میں جاپان کا تعلیمی بورڈ بنایا گیا جس کا کام گویا اس بات کی نگرانی کرنا تھا کہ جاپان کا تعلیمی نظام امریکہ کی پسند کے مطابق جاری رہے ۔ اس طرح جاپان میں اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطحوں پر جو تعلیمی نظام رائج ہوا وہ مکمل طور پر اس نظام کی نقل تھی جو امریکہ میں پہلے سے چل رہا تھا ۔ جاپانیوں نے ، ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کے برعکس ، امریکہ کے اس منصوبہ کو تعلیمی استعمار بتا کر اس کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کی تحریک نہیں چلائی ۔ انھوں نے ایک دن ضائع کیے بغیر اپنی پوری نسل کو اس ” امریکی تعلیمی نظام “ میں داخل کر دیا۔ اب اس واقعہ پر تقریباً نصف صدی پوری ہورہی ہے۔ اس کا جو نتیجہ ہو اوہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ کے اس تعلیمی نظام میں پڑھ کر جو لوگ نکلے ، وہ پورے معنوں میں جاپانی نہ سکتے ۔ وہ کسی بھی اعتبار سے ” امریکی “ نہ بن سکے ۔ جیسا کہ امریکہ انہیں بنانا چاہتا تھا۔ انھوں نے امریکہ کی تمام امیدوں کے خلاف ، جاپان میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔ نے جاپان کی ایک نئی تاریخ پیدا کر دی ۔ انھوں نے ترقی کا ایک ایسا سیلاب جاری کیا جس کے بہاؤ میں خود امریکہ بھی ٹھہر نہ سکا ۔ انھوں نے جاپان کو دنیا کی قوموں کے درمیان

اعلیٰ ترین صف میں کھڑا کر د۔

یہی موجودہ دنیا میں ترقی کا راز ہے۔ یہاں کامیابی اور ترقی اس کے لیے ہے جو ناموافق صورت حال کو موافق صورت حال میں تبدیل کر سکے۔ جو دشمن کے مخالفانہ منصوبوں کو اپنے لیے مفید خوراک بنالے ۔ جو اپنے ”نہیں“ کو اپنے ”ہے“ میں تبدیل کرنے کی اہلیت کا ثبوت دے۔ اس بر تر صلاحیت کے حامل ہوں وہی مقابلہ کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس امتحان میں ناکام ہو جائیں ۔ ان کے لیے اس کے سوا اور کچھ مقدر نہیں کہ تاریخ کے کوڑا خانہ میں پڑے ہوئے دوسروں کے خلاف احتجاج کرتے رہیں ، ایسا احتجاج جس کو سننے کے لیے کوئی دوسرا وہاں موجود بھی نہ ہو۔

اس معاملہ میں جس طرح ہمارے ملک کا سیکولر طبقہ ناکام ثابت ہوا ہے، اسی طرح اسلام پسند طبقہ بھی ناکام ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر اکبر الہ آبادی اور ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگوں نے انگریزی دور کی تعلیم گاہوں کو قتل گاہ بتایا یا اور ایک پوری نسل کو اس سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ احمقانہ حد تک بے معنی بات تھی۔ اسلام پسند رہنماؤں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلم نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ انگریزی تعلیم گاہوں سے تعلیم کو لیں اور اس کی انگریزیت کو مگر اپنے سطحی فکر کی بنا پر انھوں نے منفی انداز اختیار کیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک پوری نسل تعلیمی اعتبار سے بر باد ہو کر رہ گئی۔ اس معاملہ میں جاپان کے اہل کفر ہندوستان کے اہل ایمان سے زیادہ عقل مند ثابت ہوئے ۔

پونہ بک فیسٹول PUNE BOOK FESTIVAL 28 September to 7 October 1990 ۲۸ ستمبر تا ۷ اکتوبر ۱۹۹۰ء پونہ میں کتابوں کی ایک نمائش ہونے والی ہے اس موقعہ پر انشاء اللہ اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال بھی لگایا جائے گا۔ at New English School Tilak Road, Pune

ایک صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ دکار میں دو ہزار مسجدیں ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا تمام مسجدیں آباد ہیں۔ انھوں نے پرمسرت لہجہ میں کہا: سنغاليون متدينون وهم متمسكون لدينهم الحنيف (سینیگال کے لوگ دین دار ہیں اور وہ اپنے دین میں پختہ ہیں)۔ ایک مرتبہ میں نے دکار کی ایک سڑک پر دیکھا کہ ایک فرانسیسی خاتون سڑک پر پیدل چل رہی ہے اور اس کی گود میں کتے کا ایک بچہ ہے جس کو وہ عین اسی طرح لئے ہوئے ہے جس طرح کوئی ماں اپنے بچہ کو اپنے سینہ سے چمٹائے ہوئے رہتی ہے۔ مغرب کی عورت نے انسانی بچہ کو گود میں لینا فیشن کے مگر اس کے بعد جو ہوا وہ صرف یہ کہ اس نے کتے کے بچہ کو اپنی گود میں لے لیا۔ دراصل فطرت کا تقاضا ہے جو عورت کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس نے انسانی بچہ کو چھوڑا تھا مگر اس کے بعد فطرت نے اس کو حیوانی بچہ سنبھالنے پر مجبور کر دیا۔

روانگی سے پہلے دہلی میں میں نے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں دکار (Dakar) کا صفحہ اس میں ایک نہایت خوب صورت عمارت کی تصویر بنی ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ یہ صدارتی محل ہے جو سمندر کے کنارے بنا ہوا ہے۔ ۶ مئی کو شہر کے مختلف مقامات دیکھنے کے دوران مذکورہ "صدارتی محل" دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ جب میں اس عمارت کے سامنے کھڑا تھا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی محل ہے جس کی تصویر میں نے دہلی میں کتاب میں دیکھی تھی۔ تصویر میں جو عمارت نہایت عظیم نظر آئی تھی، وہ حقیقی طور پر دیکھنے میں مقابلہ معمولی نظر آنے لگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقت کے مقابلہ میں تصویر ہمیشہ زیادہ عظیم دکھائی دیتی ہے۔ اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ اس لئے وہ تصویر کو حقیقت سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ مگر جب وہ اس کو پا لیتے ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ اب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جو حقیقت انھوں نے پائی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو "تصویر" کی صورت میں انھوں نے پہلے دیکھی تھی۔

ایک بات یہ محسوس ہوئی کہ یہاں وہ بدعت نہیں ہے جو ہندوستان اور پاکستان میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ یعنی مسلم ملکوں کی سیاسی رقابتوں کا اثر دینی حلقوں پر ۔ وہاں ہر دینی حلقہ کسی ایک کا قصیدہ خواں بن کر دوسرے کے اوپر " لوم و شنوم " کی لفظی بارش برسارہا ہے۔ یہاں کے دینی لوگ سیاست سے قطع نظر کرتے ہوئے ، ہر مسلم ملک سے یکساں تعلق و تئرم رکھے ہوئے ہیں۔

میں ایک اسلامی مرکز عراق کے تعاون سے بنا ہے، اگرچہ ابھی وہ نا تمام ہے۔ شیخ عبد العزیز نے یہاں مجھے ایک مسجد دکھائی جو پہلے خستہ تھی، اب وہ شاندار طور پر بنی ہوئی کھڑی ہے۔ بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر نو کی ضرورت تھی۔ چنانچہ میں سعودی عرب گیا، وہاں مجھے کافی مدد ملی۔ میں نے یہ مسجد تعمیر کرائی۔ اسی طرح ایک اور اسلامی ادارہ ہے جو لیبیا کے تعاون سے بنایا گیا دینی حلقوں کے لئے یہی انداز زیادہ مناسب ہے۔

یہ ہوٹل دس منزلہ ہے۔ اس اعتبار سے اس کی لفٹ میں ایک سے لے کر دس تک نمبر لگے ہوئے ہر آدمی اپنا مطلوبہ نمبر دبا کر اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔

ایک روز لفٹ میں جاتے ہوئے مجھ پر ایک تجربہ گزرا۔ میں لفٹ کے اندر داخل ہوا تو میرے ساتھ تین آدمی اور بھی آگئے۔ کسی کو نویں منزل پر جانا تھا، کسی کو دسویں منزل پر۔ ان لوگوں نے سبقت کر کے اپنا اپنا نمبر دبا دیا۔ بورڈ پر نمبر ۱۹ اور نمبر ۱۰ کی گنتیاں روشن ہوگئیں۔ مجھے نمبر ۲ پر جانا تھا۔ نے بعد کو اپنا بٹن دبا دیا۔ بٹن دبانے کی ترتیب کے لحاظ سے بظاہر لفٹ کو پہلے نویں اور دسویں منزل پر جانا چاہئے تھا۔ مگر لفٹ نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے پہلے مجھ کو دوسری منزل پر اتا را۔ اس کے بعد وہ نویں اور دسویں منزل کے مسافروں کو اتارنے کے لئے اوپر گئی۔

اونچی بلڈنگوں کے لئے یہ روزمرہ کا عام واقعہ ہے۔ لوگ اس کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس پر مگر میرا ذہن فوراً اٹمک گیا۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ لفٹ نے ایسا کیوں کیا کہ اس نے بٹن دبانے کی بے ترتیبی کو بطور خود درست کیا اور صحیح ترتیب کے ساتھ مسافروں کو ان کی منزل پر پہنچا یا۔ ذہن نے جواب دیا کہ اس کا سبب کمپیوٹر ہے۔ موجودہ زمانہ کی آٹومیٹک لفٹ کے ساتھ کمپیوٹر لگا ہوا وہ اپنے "مشینی دماغ" کے ذریعہ بے ترتیبی کو ترتیب میں بدلتا ہے۔ وہ لفٹ کو "حکم" دیتا ہے کہ بے ترتیب طور پر بٹن دبائے جانے کے باوجود وہ اپنے مسافروں کو حقیقی ترتیب کے ساتھ ان کی منزل پر اتارے۔

اس دنیوی منظر کو دیکھ کر اچانک میرا ذہن آخرت کی طرف چلا گیا ۔ میں نے کہا کہ یہی واقعہ جو مخلوق کی سطح پر ابتدائی درجہ میں پیش آرہا ہے، یہی آئندہ خالق کی سطح پر کامل درجہ میں پیش

موجودہ دنیا میں بظاہر حقیقی ترتیب بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ کہیں اول درجہ کا آدمی پیچھے ہے اور تیسرے درجہ کا آدمی آگے ۔ اہل شخص بے زبان بنا ہوا ہے اور نااہل لوگ اخبار اور اسٹیج پر نمایاں ہو رہے ہیں ۔ مستحق لوگ ناداری میں پڑے ہوئے ہیں اور غیر مستحق افراد ہر قسم کے وسائل پر یہ گویا مصنوعی ترتیب ہے جو موجودہ دنیا میں قائم ہوگئی ہے ۔ آخرت میں خدا ظاہر ہو کر اس ترتیب کو ختم کر دے گا۔ وہ نمبر ایک کو نمبر ایک پر کر دے گا اور بقیہ نمبر والوں کو ان کے حقیقی نمبر کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا۔

کھانے کے وقت ایک بار سینیگال کے ایک صاحب میری میز کی دوسری طرف تھے۔ نے اپنے ملک کے بارہ میں بہت سی باتیں بتائیں ۔ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ یہاں ایک درخت پایا جاتا ہے۔ اس کی پتی کو چائے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ وہ نہ صرف ایک مشروب ہے بلکہ وہ نہایت مفید ہے (اوراق تغلى وتشرب وهي مفيدة جدا)

مشہور ہے کہ ایک شخص نازک بیماری میں مبتلا تھا۔ علاج سے وہ اچھا نہیں ہوا۔ وہ گھبرا کر بستی کے باہر چلا گیا اور اس نے مذکورہ درخت کی بہت سی پتی کھالی۔ اگلے دن اسے اپنے مرض میں افاقہ محسوس ہوا۔ اس کے بعد وہ مزید کچھ دنوں تک اس کی پتی کھاتا رہا ۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تندرست ہو گیا ۔ یہ قصہ مشہور ہوا تو لوگ اس درخت کی پتی کو مختلف صورتوں میں استعمال کرنے لگے ۔ اب اس کی مقبولیت کی بنا پر ایسے کارخانے بن گئے ہیں جہاں اس کی پتی کو پروسس کیا جاتا ہے اور اس کو پیک کر کے چائے کی طرح سپلائی کیا جاتا ہے ۔ کھانے کے بعد میرے ساتھی نے کافی منگائی ۔ میں نے اس مقامی مشروب کا آرڈر دیا ۔ یہ کافی لطیف اور مفید تھا۔ میں جب تک یہاں رہا میں اس کو اس کا نام کن کلی با (Kinkelibah) ہے ۔ اس کے پیکٹ پر حسب ذیل پتہ لکھا ہوا تھا : Enterprise Senegalaise de, B. P. 10.101, Ouagou Niayes, Dakar, Senegal, West Africa. محمد مصطفیٰ سی (مفتش في تعليم اللغة العربية) نے بتایا کہ سینیگال میں عیسائی اگر چہ بہت کم ہیں۔ پانچ فیصد سے بھی کم۔ مگر یہاں چرچ بہت منظم ہے۔ یہاں کے بہترین اسکول، اور اسپتال انھیں لوگوں نے قائم کر رکھے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی بہت کوششیں کرتے ہیں۔ مگر اس میں وہ کامیاب نہیں ۔ اکتوبر ۱۹۹۰ء | رسالہ 29

دوسری طرف مسیحی (ان کے غریب طبقہ کے لوگ، براہبر مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے آج ہی ایک مسیحی کو مسلمان بنایا ہے ۔ ان کے بیان کے مطابق، یہ مسیحی کسی تبلیغ کے بغیر اپنے آپ مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔

ہوٹلوں میں طرح طرح کی چیزیں کھانے کے لئے ہوتی ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال تھی۔ مگر صبح کو اکثر میں ہنی پاپ (honey pops) لیا کرتا تھا۔ یہ مٹی کی صبح کو ناشتہ کے لئے ہوٹل کے طعام خانہ میں گیا تو وہاں ہنی پاپ کا ڈبہ دکھائی نہیں دیا۔ وہاں جو ڈبے رکھے ہوئے تھے ان پر ہنی پاپ کے بجائے میل پاپ (miel pops) لکھا ہوا تھا۔ میرے تجسس کو دیکھ کر ہوٹل کا آدمی قریب آیا۔ اس نے کہا آپ کیا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آج یہاں ہنی پاپ کے ڈبے نہیں ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ میل پاپ وہی چیز ہے میل (miel) فرانسیسی زبان میں شہد (honey) کو کہتے ہیں۔

میں نے سوچا کہ اسی طرح اکثر آدمی لفظوں سے دھوکہ کھاتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی " مذہب امن" کی تلاش میں ہے۔ اب آپ اس کے سامنے " "اسلام " پیش کرتے ہیں۔ وہ اس کو اپنے ذہنی تصور کے مطابق کوئی دوسری چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ حقیقت حال سے واقف ہو تو اس کو معلوم ہوگا کہ مذہب امن کے نام سے وہ جس چیز کی تلاش میں ہے وہ عین وہی چیز ہے جس کا نام اگر چہ مسلمانوں نے اپنا قومی لیبل لگا کر اس کی ظاہری صورت مشتبہ بنادی ہے۔ سینیگال کے ایک صاحب نے بتایا کہ اس ملک میں اسلام گیارہویں صدی عیسوی میں آیا ہے۔ یعنی صحابہ کے دور کے بعد۔ یہاں کے مسلمان عام طور پر نہایت سادہ مزاج ہوتے ہیں۔ ان میں اکثر فطری اوصاف زندہ ہیں۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ کوئی سینیگالی اپنے وطن سے باہر ملک کی کسی دوسری بستی میں جائے تو وہاں وہ کبھی ہوٹل میں نہیں ٹھہرتا۔ کیوں کہ مقامی لوگ اس کو اپنا مہمان بنانا پسند کرتے ہیں۔ ہوٹلوں میں زیادہ تر باہر کے لوگ ٹھہرتے ہیں۔ ایک سینیگالی کھانا کھارہا ہو تو اس وقت اس کو جو شخص بھی ملے وہ بے تکلف اس کو کھانے میں شریک کرلے گا۔

میں نے اپنے کمرہ میں کھڑے ہو کر سمندر کی طرف دیکھا ۔ حد نظر تک سمندر کا پانی موجیں مار رہا تھا اور اس سے ایک قدرتی موسیقی فضا میں بلند ہو رہی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ آج کا زمانہ معلومات کے اعتبار سے ، قدیم زمانہ سے کتنا مختلف ہے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ زمین کا آدھا حصہ خشکی ہے

اور آدھا حصہ پانی۔ یہ اس خیال کا اعادہ ہے جو حکما یونان کے زمانہ سے ابن خلدون تک چلا آرہا مگر آج اسکول کا ایک طالب علم بھی جانتا ہے کہ نصف نصف کا یہ نظریہ درست نہیں۔ یہ ہے کہ ہماری زمین کی سطح کے ۷۱ فیصد حصہ پر سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے اور بقیہ ۲۹ فیصد حصہ

اس معلوماتی فرق کی بناپر کچھ ترقی پسند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب انسان کو نئے مذہب کی ضرورت مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ کیوں کہ مذہب کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں ہے کہ زمین پر خشکی اور تری کا تناسب ۵۰۔ ۵۰ فیصد ہے یا ۷۱۔ ۲۹ فی صد۔ اس قسم کی معلومات کی کوئی حد نہیں۔ جتنا آج جانا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو وہ ابھی تک جان نہ سکا۔ مثلاً بلیک ہول کا نظریہ بتاتا ہے کہ کائنات کا صرف تین فیصد انسان کے لئے قابل مشاہدہ ہے، بقیہ ۹۷ فیصد حصہ انسان کے لئے قابل مشاہدہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مذہب کا انحصار اس قسم کی معلومات پر نہیں ہے۔ مذہب کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کی خالقیت اور مالکیت کو تسلیم کرکے اس کے آگے جھک جائے۔ اس اعتبار سے ہر دور کا مذہب صرف ایک ہے، اس میں زمانہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

سینیگال کے عام لوگ مقامی بولی (الف) میں بات کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ یا فرنچ بولتے ہیں یا عربی زبان ۔ یہ زبانوں کا فرق بھی بڑا عجیب ہے۔ مثلاً ہوٹل کے آدمی کو کلمہ ترحیب اگر اردو میں کہنا ہو ہو تو وہ کہے گا کہ ہم نوووٹل میں آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ اس بات کو انگریزی اور فرنچ میں اس طرح کہا جائے گا:

We welcome you in Novotel. (English)

Nous vous souhaitons la bienvenue Novotel (French)

ایک مرتبہ میں سوچنے لگا کہ اگر ساری دنیا کی زبان ایک ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ پھر سمجھ میں آیا کہ کئی زبان ہونا ہی زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس سے مسابقت کی تحریک ہوتی ہے اور ہر ایک آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب کسی آدمی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ صرف ایک معاملہ تک محدود نہیں رہتا۔ وہ زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی اپنے آپ اپنا اثر ظاہر کرتا ہے۔

ابتدائی دور کے مسلمانوں میں اولاً کتابتِ قرآن اور تدوینِ حدیث کے لئے علم کا جذبہ ابھرا۔ مگر جب علم کا جذبہ ابھرا تو پھر اس نے دوسرے تمام علوم میں بھی مسلمانوں کو آگے بڑھا دیا۔ انیسویں صدی کے کچھ مغربی مفکرین نے ایک معاشی یوٹوپیا بنا نا چاہا جہاں ہر ایک کو برابر برابر رزق مل رہا ہو۔ یہ فرضی سوسائٹی موجودہ دنیا میں محال ہے کیونکہ وہ تخلیق کے نظام سے تاہم اگر بالفرض ایسا سماج بن جائے تو تمام ترقیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں گی، کیونکہ ترقی کا جذبہ ہمیشہ ”فرق“ کو دیکھ کر ابھرتا ہے اور جب فرق ہی باقی نہ رہے تو ترقی کا جذبہ کیوں کر پیدا ہو گا ۔

ایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں کچھ افسر ترقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی ۔ ” میاؤں میاؤں“ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں ۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے ، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے ۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتی کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہو گئی ہیں۔ پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لئے ایک ہی بولی مقرر کر دی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لئے انہیں از اول تا آخر حالتِ اتحاد میں رکھا گیا۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لئے انھیں حالتِ اختلاف میں ڈال دیا گیا۔ پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔

الشیخ عبدالعزیز سی ی (عمر ۶۳ سال ) یہاں کی ممتاز دینی شخصیت ہیں۔ ان کی مادری زبان اگر چہ اُلف ہے۔ مگر وہ روانی کے ساتھ عربی بولتے ہیں ۔ انھوں نے ” تجول “ کی پیش کش کی۔ ان کے ساتھ شہر گھومنے کے لئے نکلا۔

دکار کی سڑکیں نہایت عمدہ ہیں۔ ان کے دونوں طرف عمارتیں زیادہ تر فرانسیسی طرز کی نظر میں نے کہا کہ یہ سڑکیں غالباً فرانسیسیوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بنائی تھیں ۔

فوراً کہا: نعم ولكن بعد الاستقلال قمنا بالتجديد ( ہاں، مگر آزادی کے بعد ہم نے ان کی تجدید کی ہے)۔

چلتے ہوئے ہم دکار کی سب سے بڑی مسجد جامع میں پہنچے۔ مگر وہ مکمل طور پر بند تھی۔ پر تالا لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں عام مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز ہوتی ہے اور وہ کھلی رہتی ہے۔ مگر" جوامع " صرف نماز جمعہ کے لئے ہوتی ہیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد وہ بند کر دی جاتی ہیں اور پھر اگلے جمعہ کو کھلتی ہیں (یغلق بعد صلاة الجمعة الى الجمعة الآخر) اسی طرح ایک اور بڑی مسجد پر پہنچے تو وہاں بھی تالا لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ بھی جامع مسجد ہے اور وہ ہفتہ میں ایک بار صرف جمعہ کی نماز کے لئے کھولی جاتی ہے۔ یہ بات پہلی بار صرف یہاں دیکھی۔ کئی عام مسجدیں دیکھیں ۔ ایک کا نام مسجد السید الحاج مالک سی تھا۔ یہ مسجد پہلی عالمی جنگ سے پہلے ۱۹۰۹ میں بنائی گئی تھی۔ پوری مسجد ایک بڑے هال کی مانند تھی۔ سامنے خوبصورت انداز میں امام کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ مسجد کا یہ انداز مجھے بہت پسند ہے۔ ایک بڑی دینی درس گاہ دیکھی۔ اس کا نام المعهد الاسلامی (دکار) تھا۔ اس وقت وہاں تعطیل تاہم عمارت کھلی ہوئی تھی۔ اس لئے اندر تک پور احصہ دیکھا۔ اس کا طرز تعمیر بالکل مسلم اسپین کے انداز کا ہے۔

راستہ میں ایک مقام پر بہت بڑی عمارت نظر پڑی جو نامکمل تھی۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ یہ مرکز عراق کے تعاون سے بن رہا تھا اور خود صدر صدام حسین نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ کے بعد ایران عراق جنگ چھڑ گئی۔ اس بنا پر اس کی عمارت مکمل نہ ہوسکی۔ یہ مرکز میری نظر میں اس اصول کی ایک مثال تھا کہ : ایک کام کرنے کے لئے آدمی کو دوسرا کام چھوڑنا پڑتا ہے۔ کے وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ تعمیر اور تخریب دونوں کام ساتھ ساتھ ایران اور عراق دونوں اس اصول کے زندہ نمونے ہیں۔

الشیخ عبدالعزیز سی دکار شہر دکھاتے ہوئے آخر میں مجھ کو سمندر کے کنارے کی سڑک سے واپس ایک طرف سمندر کی موجیں تھیں ۔ دوسری طرف سڑک کے کنارے دور تک سفیدوں کے خوبصورت مکانات تھے ۔ چکنی سڑک پر آٹومیٹک کار نہایت ہموار انداز سے چلی جارہی تھی۔ مگر اتنی دیر میں میرے

سیریز در دشورع ہو چکا تھا۔ میرا یہ حال نہایت عجیب ہے۔ میرے وجود میں غم اتنا سرایت کئے ہوئے ہے کہ میں کسی بھی چیز سے محظوظ نہیں ہو سکتا۔ اپنی کمزوریوں اور نااہلیوں کے بارہ میں سوچتا ہوں تو اکثر میری زبان پر فارسی کا یہ مصرعہ آ جاتا ہے :

Printed page