Al-Risala · October 1990

در حیرتم کہ دہقاں بہ چہ کار کشت مارا

Al-Risala, October 1990, pp. 34–38

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ افغانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ اب یورپ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آجکل اکثر تعلیم یافتہ افغانی بیرونی ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ افغانستان کا اصل مسئلہ روسیوں کا افغانستان میں آنا نہیں ہے، بلکہ تعلیم یافتہ افغانیوں کا افغانستان سے چلا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی جارحیت کی بنا پر ایسا ہوا۔ میں نے کہا کہ ایسا کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ اسی قسم کا واقعہ پاکستان میں بھی ہوا ہے ، جب کہ پاکستان میں کوئی بیرونی جارحیت نہیں ہوئی۔ مسلم ہوم لینڈ کے طور پر بنا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہاں کے بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بیرونی ملکوں میں چلے گئے۔

میں نے کہا کہ اس ترک وطن کی اصل وجہ سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔ افغانستان یا پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس لئے باہر کے ملکوں میں چلے گئے کہ ان کے لئے اپنے ملک کے مقابلہ میں غیر ملک میں اقتصادی مواقع زیادہ تھے۔ ہمارے تمام رہنما سو برس سے بھی زیادہ عرصہ سے سیاسی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ اقتصادی ترقی کے لئے جدوجہد کرتے ۔ کیوں کہ اقتصادی ترقی کے بغیر سیاسی آزادی بے معنی ہے۔

جنوبی افریقہ کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک پادری سے میری پادری نے ایسا سوال کیا جس کا میں جواب نہ دے سکا ۔ پادری نے مجھ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر غلطی نہیں کرتا۔ میں نے کہا ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ آپ آدم کو پیغمبر مانتے میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ خود آپ کے قرآن کے بیان کے مطابق، آدم نے جنت میں ممنوعہ پھل کھایا اور غلطی۔ میں کنفیوزن میں پڑ گیا ۔ میری سمجھ میں کچھ جواب نہیں آیا۔ میں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ پیغمبر غلطی نہیں کرتا۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر غلطی پر قائم اگر آپ پادری کے سوال پر پہلے ہی اس کی وضاحت کر دیتے تو اس کا اعتراض اپنے

آپ ختم ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر اسماعیل عبد العلیم (عمر ۵۰ سال) لندن میں رہتے ہیں۔ لندن کے مسلمانوں کے حالات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہاں مسلمانوں میں سب سے زیادہ برصغیر ہند کے لوگ رہتے ہیں۔ ساؤتھ ہال میں ہندوستانی ، برہید فورڈ میں پاکستانی اور ایسٹ اینڈ میں بنگلہ دیشی ۔ یہ لوگ یہاں اپنے انھیں رواجوں اور انھیں عادتوں کے ساتھ رہتے ہیں جو وہ اپنے ملک سے لے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر انگریز انھیں ناپسند نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں میں ٹالرنس غیر معمولی حد تک پایا جاتا ہے۔ عرب ان کے اس مزاج کو البرودۃ الانجلیزیہ کہتے ہیں۔ آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ وہ آپ کو پسند نہیں کرتا۔ یا یہ کہ تم اپنے ملک کو واپس چلے جاؤ، خواہ وہ آپ کے اوپر کتنا ہی زیادہ غصہ کیوں نہ ہو ( لا يقول الانجليزی انه لا يحبك وعليك ان ترجع الی بلدک مهما کان هو غاضباً عليك )

یہی تحمل قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ جو قوم تحمل اور برداشت کی صفت کھو دے، وہ موجودہ دنیا میں کبھی اعلی ترقی نہیں کر سکتی۔

طارق الکمہ ذی ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ ڈبلن (یورپ) میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک واقف کار نے بتایا کہ وہ وہاں اسلامی مرکز کے طرز پر باقاعدہ دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے دو چھپے ہوئے انگریزی پمفلٹ مجھے دئے۔ یہ میرے دو مضامین کے انگریزی ترجمے تھے۔ ان کو چھاپ کر وہ وہاں تقسیم کر رہے ہیں۔ ان کے عنوانات یہ ہیں :

1. What is Islam 2. Islam in the 21st Century ایک اور صاحب جو بحرین سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے بحرین کا عربی مجلہ الھدایۃ ( جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ ، دسمبر ۱۹۸۹) دیا۔ یہ مجلہ بحرین کی وزارة العدل والشئون الاسلاميۃ کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔ مذکورہ شمارہ میں راقم الحروف کی کتاب ” تجدید دین “ کے عربی ایڈیشن کا مفصل تعارف ” تجدید علوم الدین “ کے عنوان سے چھپا ہے۔ تبصرہ نگار ڈاکٹر کارم السید غنیم ہیں ۔ آٹھ صفحہ کے مفصل تعارف کے بعد آخر میں لکھتے ہیں : ختاماً فاننا نرى الكتاب الحالی من

الرسالة مشن کی جتنی مخالفت کی گئی، اتنی شاید موجودہ زمانہ میں کسی بھی تحریک کی مخالفت نہیں اس کے باوجود یہ اللہ کا فضل ہے کہ یہ مشن ہندوستان، پاکستان، عرب ممالک اور مغربی ممالک میں پھیل گیا۔ اور اب انشاء اللہ کسی کی مخالفت اس فکری سیلاب کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر اسماعیل عبد الحلیم ملائیشیا (سلانگور) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ لندن میں ایک کالج سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں جولائی ۱۹۹۰ میں اپنے وطن واپس چلا جاؤں گا۔ حکومت میں امور مذہبی کا ایک شعبہ ہے۔ اس میں مجھے کام کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے مشورہ دیجیے کہ ملائیشیا پہنچ کر میں کس طرح مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کام کروں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں میں زکوۃ کا نظام رائج کیا میں نے کہا کہ آپ زکوۃ کے نفاذ سے اپنے کام کا آغاز نہ کریں۔ یہ طریقہ ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں پاکستان میں ناکام ہو چکا ہے۔ موجودہ صورت میں زکوۃ ایک مسلمان کو دہراٹیکس معلوم ہوتی ہے ۔ پھر وہ کیسے اس پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا وہ میرے لئے نئی بات تھی ۔ انھوں نے کہا کہ ملائیشیا میں زکوۃ کی ادا شدہ رقم کو لکی ٹیکس میں محسوب کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے وہاں دہراٹیکس کی صورت نہیں پیدا ہوتی :

المسلم في ماليزيا عليه ان يدفع ضريبة الدخل السنوى وزكاة المال اذا كان غنيا۔ واذا دفع المسلم زكوة المال التي عليه فله الحق قانونيا ان يقول للحكومة عليك ان تحسب هذا المبلغ الذي دفعته باسم الزكاة، هو في حد ذاته جزء من ضريبة الدخل حق۔

حسب پروگرام ۷ مئی کی شام کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ یہ افتتاح صدر مملکت عبدہ ضیوف یہ پروگرام یہاں کے سب سے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ کثیر تعداد میں لوگ ہال کے باہر موجود تھے۔ یہاں اکثر پروگراموں میں میں نے دیکھا کہ عوام ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہیں۔ عام طور پر اس طرح کی کانفرنسوں میں محدود تعداد میں صرف علماء اور دانشور

شریک ہوتے ہیں۔ مگر یہاں عوامی شمولیت کا منظر نظر آیا۔

میں نے سنا تھا کہ صدر عبدہ ضیوف افریقہ کے سب سے زیادہ لمبے آدمی ہیں۔ میرے ذہن میں ان ءکی تصویر کچھ اس طرح تھی کہ وہ جب آئیں گے تو تمام شرکاء باعتبار قد چھوٹے نظر آنے لگیں گے۔ ان کا قد کچھ لمبا ضرور ہے، مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قد کے بارہ میں جو شہرت ہے وہ ”بڑھا چڑھا دیتی ہے میں کچھ زیب داستاں کے لئے “ کے اصول کے تحت عمل میں آئی ہے۔

افتتاح رسمی انداز کا تھا۔ تامہم اس کی ایک چیز نے مجھ کو بہت متاثر کیا۔ اس افتتاح میں قرآن کی تلاوت ایک افریقی بچہ نے کی۔ اس کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کا نام علی حر ازم تھا۔ بظاہر دیکھنے میں اس کا چہرہ اور اس کی شخصیت نہایت غیر جاذب تھی۔ مگر اس نے جب قرآن کی تلاوت کی تو وہ اتنی مؤثر تھی کہ آنکھوں میں آنسو نکل آئے۔ میں نے سوچا کہ قرآن کی صورت میں مسلمانوں کو کتنی بڑی طاقت قرآن کے ذریعہ ایک بے حقیقت آدمی اپنے کو باحقیقت بنا سکتا ہے۔

کانفرنس کے ایجنڈے میں دو چیزیں میری خاص دل چسپی کی تھیں :

الدعوة الاسلامية ومتغيرات العصر المستجدات والتطورات فى العالم والعالم الاسلامی اس موضوع پر لوگوں نے جو اظہار خیال کیا، اس سے اندازہ ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں پر زیادہ تر سیاسی تبدیلیوں یا سیاسی نوعیت کے واقعات کا اثر ہے۔ مثلاً یہ کہ روس اور امریکہ (سپر پاوریں) نے آپس میں مفاہمت کر لی ہے۔ اس کے نتیجہ میں عالمی سیاست میں زبردست قسم کی تبدیلیاں بہت سے ممالک جن کو امریکہ اپنی سرپرستی میں لئے ہوئے تھا، تاکہ ان کو روسی نفوذ سے بچاسکے، اب اس نے ان سے اپنی سرپرستی واپس لے لی ہے۔ کیوں کہ نئی پالیسی نے سرد جنگ یا گرم جنگ کا خاتمہ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ امریکہ جو اس سے پہلے مجاہدین کی زبردست مدد کر رہا تھا۔ اس نے اپنی مدد روک دی ہے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر نجیب حکومت کے خلاف افغانی مجاہدین کی ہم اچانک بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔

شرکا کی طرف سے اس قسم کے بہت سے مسائل کا ذکر کیا گیا۔ میں نے کہا کہ بلاشبہ نئے حالات نے کچھ نئے سیاسی مسائل مسلمانوں کے لئے پیدا کئے ہیں۔ مگر اس کا اس سے بھی زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ

ان تبدیلیوں نے جدید تاریخ میں پہلی بار اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھول دئے ہیں۔ مثلاً سوویت روس میں اس سے پہلے مذہب پر مکمل پابندی لگی ہوئی تھی ۔ وہاں کارل مارکس کا یہ کلمہ دہرایا جا رہا تھا کہ ’’مذہب عوام کی افیون ہے‘‘۔ مگر آج روس کے دانشور اعلان کر رہے ہیں کہ خود مارکسزم ایک مزید بد تر قسم کی ذہنی افیون تھی جس کو مارکس نے ایجاد کیا۔ وہ اس قابل ہے کہ اس کو دفن کر دیا جائے ۔ اس سے پہلے روس کے علاقہ میں قرآن کا کوئی نسخہ لے جانا قانوناً ممنوع تھا ۔ آج خود ایر و فلاٹ قرآن کے دس لاکھ نسخے جدہ سے ماسکو پہنچارہی ہے۔ میں نے کہا کہ ایسی حالت میں ہم کو چاہئے کہ مشکلات و مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے دعوتی مواقع کو استعمال (avail) کریں۔

شیخ محمود احمد کفتار و (دمشق) نے اپنی تقریر میں ایک مسیحی مبلغ کا قول نقل کیا۔ اس نے کہا کہ مسلم دنیا کے بعض علاقوں میں ہماری تبلیغی کوششیں کسی حد تک کامیاب ہوئی ہیں جہاں کہ اسلام کا دائرہ اثر گھٹنا شروع ہو گیا تھا ۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ اسلام اچانک خود ہمارے اپنے گھر کے اندر پھیلنے لگا اور نجحنا نسبياً بالتبشير في بعض نواحي العالم الاسلامی حيث بدء الاسلام ينحسر و لكننا فوجئنا با لاسلام في عقر دارنا ينتشر)

اسلام اور دوسرے مذہبوں کا فرق یہ ہے کہ دوسرے مذاہب نے تبدیلی اور تحریف کی بنا پر اپنی اصل حیثیت کھو دی ہے ۔ مگر اسلام اپنی فطری صورت پر قائم ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرف جب انسان کو لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو انسان اپنی فطری طلب اور موجودہ مذہب میں مطابقت اس کے برعکس انسان جب اسلام سے متعارف ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اسلام عین اس کی فطرت کے مطابق ہے۔ وہ فوراً اسلام کو اپنا لیتا ہے۔

بعض لوگ اپنے ذاتی مذہب پر چلتے ہیں اور اس کو اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرتے اس قسم کی مثالیں یہاں بھی سامنے آئیں ۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو متحرک کیا جائے :

Printed page