Taqwa is to mobilize the people
Al-Risala, October 1990, pp. 38–43
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس کی مزید تشریح پوچھی تو اس کے جواب میں انھوں نے جو تقریر کی اس کے الفاظ سب کے سب
میرے لئے معلوم الفاظ تھے، مگر میں کچھ بھی سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ تفسیرِ اسلام اور تعبیرِ دین کا یہ طریقہ مشہورِ مسلم رہنماؤں کے یہاں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ سفر سے پہلے میں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ”جہاد فی سبیل اللہ“ پڑھی۔ یہ کتاب اردو میں تھی۔ پوری کتاب میرے لئے ناقابلِ فہم تھی۔ کیوں کہ اس کتاب میں خطابت اور انشا پر دازی تو ضرور تھی، مگر دلیل کی نوعیت کی کوئی چیز اس میں میں نے نہیں پائی۔ اس کتاب میں جن آیتوں یا حدیثوں سے مصنف نے اپنا انقلابی نقطہ نظر نکالا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ویسا ہی تھا جیسا مذکورہ انگریزی قول میں نظر
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا تو معلوم ہوا کہ وہ احمد خلیفہ نیاس وہ المھد الاسلامی الزراعی کے پریزیڈنٹ (رئیس) تھے۔ ان کے کارڈ پر ”جنرل ڈی گال اسٹریٹ“ لکھا ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دکار میں فرانس کے سابق حکمراں جنرل ڈی گال کے نام سے سڑک موجود ہے۔
جنرل ڈی گال کے نام سے گالزم (Gaullism) کی اصطلاح بنی ہے۔ ڈیگال کے زمانہ میں سینیگال اور دوسرے کئی افریقی ملکوں میں فرانس کی حکومت تھی۔ تاہم آزادی کی تحریکوں نے ان مقبوضات کو فرانس کے لئے ایک بوجھ بنا دیا تھا۔ ڈی گال نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ان ملکوں کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا۔ ڈیگال کے اس عمل نے فرانس کو نئی طاقت دے دی ۔ تاہم فرانس کو زندہ کرنے کا یہ کام صرف اس قیمت پر ہوا کہ اس کے بعد ڈی گال کی سیاسی موت ہو گئی۔
اکثر حالات میں قوموں کے مسائل کا حل اسی حقیقت پسندانہ تدبیر میں ہوتا ہے۔ مگر قوموں کے رہنما افراد اپنی موت پر راضی نہیں ہوتے، اس لئے وہ قوموں کو زندگی دینے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ۶ مئی ۱۹۹۰ء کی سہ پہر کو افریقی بچوں کا پروگرام تھا۔ یہ بے حد مؤثر پر وگر ام تھا۔ مگر وہ بچوں کے عملی نوعیت کا تھا اس لئے اس کو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں ایک تنظیم دائرۃ المستر شدین والمستر شدات کے نام سے قائم ہے ۔ سارے ملک میں اس کے مدارس موجود ہیں جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کا معقول انتظام ہے۔ اور طالبات ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کئی بڑے اثر انگیز پروگرام کئے ۔
اس پروگرام کا انتظام دکار کے بڑے اسٹیڈیم میں کیا گیا اسٹیڈیم کے ایک طرف مہمان حضرات اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ درمیان میں کھلا ہوا میدان تھا۔ میدان کے دوسری طرف ہمارے سامنے دوبارہ اونچی پنچی نشستوں پر ہزاروں کی تعداد میں افریقی لڑکے اور لڑکویوں کی قطاریں تھیں۔ سفید لباس اں کا قومی لباس ہے۔ چنانچہ سب کے سب مکمل طور پر سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔ میں لپٹے ہوئے ان کے کالے چہرے اس طرح دکھائی دیتے تھے گو یا یہ کوئی دوسری مخلوق ہے جو آسمان سے زمین پر اتر آئی ہے۔
ایک شخص سیٹی لئے ہوئے میدان کے درمیان کھڑا ہوا تھا۔ اس کی سیٹی پر کنارہ کے گیٹ سے لڑکے اور لڑکیاں منظم ٹولیوں کی صورت میں سفید کپڑوں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے سامنے سے گزرنے لگے۔ باری ایک ایک ٹولی آرہی تھی اور مخصوص انداز میں مارچ کرتی ہوئی ایک طرف سے دوسری طرف جارہی ایک آدمی ماہرانہ انداز میں سیٹی بجا کر اور ہاتھ سے اشارہ کر کے ان کی رہنمائی کر رہا تھا۔ طرح تقریباً ۲۰ مدرسوں کے طلبہ و طالبات گزرے۔
یہ منظر بڑا اثر انگیز تھا۔ وہ میرے لئے قیامت کے اس واقعہ کی تمثیل بن گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وسيق الذين اتقوا ربهم الى الجنة زمرا (الزمر)، ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اہل جنت کے قافلے ایک کے بعد ایک آرہے ہیں۔ اور خدا کا نمائندہ بلندی پر کھڑا ہوا ان کو جنت کی طرف رہنمائی کر رہا ہے۔
سینیگال (اور مغربی افریقہ کے دوسرے ملکوں) میں بعض رواج بڑے عجیب ہیں جو قدیم قبائلی دور سے چلے آرہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ اگر آپ کسی افریقی عورت کو دیکھیں کہ اس کے سینہ کے اوپر کا حصہ کھلا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ابھی غیر شادی شدہ ہے اور اگر یہ سینہ کے اوپر کا حصہ ڈھکا ہوا ہے تو وہ شادی شدہ ہوگی (إذا وجدت اور أيت فتاة عارية من فوق صدرها فهذه دلالة على أنها لا تزال بكراً و العكس هو الصحيح)
اس جملہ میں والعکس هو الصحيح انگریزی اسلوب (and vice versa) کا ترجمہ ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی اسالیب اس طرح کثرت سے جدید عربی میں رائج ہو گئے ہیں۔ ایک صاحب سے ملنے کے لئے میں ان کے ہوٹل کے کمرہ میں داخل ہوا۔ ٹیلی ویژن کھلا ہوا تھا
اور وہ اس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ آج ساری دنیا میں کروڑوں انسان روزانہ ٹیلی ویژن پر واقعات کی تصویریں دیکھتے ہیں اور اس کو دیکھ کر لطف اٹھاتے ہیں۔ مگر شاید ہی زمین پر کوئی انسان ہو جو ٹیلی ویژن دیکھے تو اس کو ٹیلی ویژن کے پردہ پر خود اپنا فلم دکھائی دینے لگے۔ یہ سوچ کر تڑپ اٹھے کہ قیامت میں اگر خدائی ٹیلی ویژن پر میری زندگی کا ریکارڈ اسی طرح عیاں کر دیا گیا تو میرا انجام کیا ہوگا۔
ایک صاحب سے میں نے یہ بات کہی تو انھوں نے ایسا جواب دیا جس نے میری زبان کو بند کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان سب اندیشیوں میں نہیں رہتے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارا راستہ سیدھا جنت کی طرف چلا جا رہا ہے۔ اصحاب رسول کو جو ایمان ملا تھا وہ تو ان کو رجاء اور خوف کے درمیان مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ایسا اسلام دریافت کر رکھا ہے جس میں "خوف" حذف ہو گیا ہے۔ اب ان کے لئے ایمان صرف رجاء ہی رجاء ہے، اس میں خوف اور اندیشہ کا گزر نہیں ۔ ۸ مئی کی سہ پہر کو کانفرنس کے تمام شرکاء قافلہ کی صورت میں دکار کے باہر اس مقام پر لے جائے گئے جہاں الموتمر الاسلامی کا مرکز زیر تعمیر ہے۔ یہ عظیم مرکز سعودی عرب، کویت، لیبیا، عرب امارات، اور دوسرے عرب ممالک کے مشترک مالی تعاون سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
دیو پیکر مشینیں اونچی دیواریں ، بلند و بالا ستونوں کے درمیان آدمی اپنے قد کو چھوٹا محسوس کر رہا تھا۔ لوگ متحیر نگاہوں سے اس عمارتی پہاڑ کو دیکھ رہے تھے۔ جوان کی آنکھوں کے سامنے وسیع میدان میں ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ مادی حقیقتوں کی اس ظاہری عظمت کے سامنے کون ہوگا جو معنوی حقیقتوں کی مخفی عظمت کو محسوس کرے اور اس کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دے۔ یہ بھی شاید خدا کے قانون ِالتباس (انعام ۹ ) کا ایک پہلو ہے کہ اگرچہ اللہ کے نزدیک ساری عظمت اور ساری اہمیت صرف معنوی حقیقتوں کو حاصل ہے، مادی حقیقتیں اللہ کے نز دیک جناح بعوضہ (مچھر کے پر) کے برابر بھی وزن نہیں رکھتیں۔ مگر امتحان کی اس دنیا میں معاملہ کو عملاً بالکل الٹ دیا گیا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ امتحان ، اور کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جو اس امتحان میں پورے یہی لوگ خدا کے قریب جگہ پائیں گے۔
9 مئی 1990 کی شام کو " قصر الرئیس " میں جمہوریہ سینیگال کے صدر عبدہ ضیوف کے ساتھ اجتماعی ملاقات ہوئی۔ اس عمارت کی تصویر اس سے پہلے میں نے انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا میں دیکھی تھی۔ اس لئے جب میں وہاں پہنچا تو مجھے اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ باہر سے وہ مجھے دیکھی ہوئی عمارت کی طرح نظر آئی ۔ فرانسیسیوں کی بنائی ہوئی یہ عمارت انتہائی سادگی کے باوجود انتہائی پر شوکت ہے۔ جب میں اس " قصر " میں داخل ہوا اور اس کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا اس مخصوص ہال میں پہنچا جہاں صدر کے ساتھ ملاقات مقرر تھی تو میرا پہلا تاثر یہ تھا : اقتدار کی شان و شوکت اتنی زیادہ ہے کہ مشکل ہی سے کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اس کو دیکھے ، اس کے باوجود اس کا طالب
صدر سے ملاقات کے بعد کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ پر ملاقات کا پروگرام تھا۔ تو گانے کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ صدر کی رہائش گاہ میں مکمل سکون تھا۔ مگر کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ میں شاید عہدہ کی رعایت سے صوتی آرٹ کا مظاہرہ کیا جارہاتھا۔ یہاں ہم نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ
یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں پاکستان اور ایران کے سفیر بھی تھے۔ ہندستان کے سفیر سے ملاقات کرنے کا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ ہندستان کا سفارت خانہ اس وقت بغیر سفیر سکنڈ سیکرٹری ضروری فرائض انجام دے رہے ہیں۔
شام کا کھانا ایک لبنانی تاجر کے یہاں تھا ۔ وہ لبنانی عرب ہیں اور ان کا نام فواد شقیری ہے۔ یہاں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کا عالی شان مکان بتارہا تھا کہ وہ اپنی تجارت میں نہایت آج کے کھانے پر پر یذیڈنٹ مسٹر عبدہ ضیوف بھی مدعو تھے۔ مگر کسی وقتی سبب سے نہ آسکے۔ ان کی طرف سے ان کے ایک نمائندہ نے شرکت کی۔
9 مئی کو تِواون (Tivoouane) کا پروگرام تھا۔ یہاں سینیگال کے بہت بڑے شیخ عبد العزیز ی ( الخليفة العام للطائفة التيجانية ) رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف بہت ضعیف ہو چکے ہیں، بلکہ دونوں آنکھوں سے معذور بھی ہیں۔ ان کا معاملہ یہاں تقریباً وہی ہے جو سعودی عرب میں شیخ باز
صبح کو ۹ بجے دکا سے تو اون کے لئے قافلہ کی صورت میں روانگی ہوئی۔ سڑک نہایت عمدہ اور ر اس کا بیشتر حصہ سمندر (البحر المحیط) کے کنارے کنارے گزرتا ہے۔ درمیان میں بعض گاؤں مکانات معمولی انداز میں بنائے گئے تھے۔ پختہ تعمیرات زیادہ تر قدیم فرانسیسی طرز کی نظر آئیں۔ درمیان میں ایک تعلیمی ادارہ دار العلوم، دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بورڈ پر اس کا نام معہد الازہر للدر اسات الاسلامیۃ (511554 .Tel) لکھا ہوا تھا۔ ہم لوگ اس کے اندر گئے ۔ اس کے کئی درجات دیکھے ۔ کلاس کی صورت اسکولوں کی مانند تھی۔ ایک طرف دیوار کالی کر کے اس کو بلیک بورڈ کی صورت دی گئی تھی۔ یہاں استاد کھڑا ہوا تھا۔ سامنے ڈسک پر طلبہ بیٹھے ہوئے تھے۔ استاد عربی زبان میں لیکچر کے انداز میں انھیں پڑھا رہا تھا۔
یہ طریقہ مجھے پسند آیا ۔ ہندوستان میں کثرت سے عربی مدارس قائم ہیں۔ مگر ان میں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی عربی مدرسے سے فارغ ہو جاتا ہے مگر عربی بولنے کی صلاحیت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔
اس کے بعد ہم تو اون پہنچے۔ یہاں خلیفہ الحاج عبد العزیز سی سے ملاقات ہوئی۔ ہوا کہ انھیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ آج ان کی اپیل پر بے شمار لوگ کانفرنس کے شرکاء کے استقبال کے لئے نکل پڑے تھے۔ اس سے پہلے دکار کے اجتماع میں میں نے دیکھا کہ وہاں خلیفہ کے نمائندہ نے تقریر کی اور پریسیڈنٹ نے تقریر کی۔ مگر خلیفہ کے نمائندہ نے جب خلیفہ کا ذکر کیا تو ان کے لئے پریسیڈنٹ سے بھی زیادہ تالیاں بجائی گئیں۔
یہاں کے سیاسی لیڈر اس راز کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ مذہبی رہنماؤں کو بالکل نہیں چھیڑتے۔ وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ شاہ ایران نے اسی معاملہ میں غلطی کی اور اس کی قیمت اسے یہ دینی پڑی کہ اس کا اقتدار ایران سے ختم ہو گیا۔ شاہ ایران کو جس چیز نے ختم کیا وہ خود شاہ کے غیر حکیمانہ اقدامات تھے، اور سینیگال کے سیاسی لیڈر اس غلطی سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچائے ہوئے ہیں۔ تو اون کا اجتماع الحاج عبد العزیز سی کی موجودگی میں ہوا۔ یہاں پریسیڈنٹ کا ایک نمائندہ بھی اس نے ایک سے زیادہ بار یہ جملہ دہرایا : ذالك ببركة دعوات