ایک سبق
Al-Risala, October 1990, pp. 44–47
By Maulana Wahiduddin Khan
"اللہ تعالیٰ ہی کو مقدم کرو اور دین کو دنیا پر ترجیح دو۔ جب تک انسان اپنے اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یاد رکھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ دین کا نام بھی لے۔ یہ ایک غلطی لوگوں کو لگی ہوئی ہے کہ دنیا کے بغیر دین حاصل نہیں ہوتا۔ انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں آئے ہیں، کیا انھوں نے دنیا کے لئے سعی اور مجاہدہ کیا ہے یا دین کے لئے؟ اور باوجود اس کے کہ ان کی ساری توجہ اور کوشش دین ہی کے لئے ہوتی ہے پھر کیا وہ دنیا میں نامراد رہے۔ کبھی نہیں، دنیا خود ان کے قدموں پر آکر گری۔ یہ یقیناً سمجھو کہ انھوں نے دنیا کو گو یا طلاق دے دی تھی۔ لیکن یہ ایک عام قانون قدرت ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے۔ اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔ جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کریں مگر آخر ذلیل ہوتے ہیں۔ سچی خوشی اور اطمینان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عطا ہوتا ہے۔ یہ مجرد دنیا کے حصول پر منحصر نہیں ہے۔ " (ملفوظات جلد ہفتم صفحه ۳۱۶ - ۳۱۷)
اوپر جو عبارت نقل کی گئی، وہ ایک اقتباس ہے۔ اس کو پڑھئے۔ بظاہر یہ کسی مسلمان بزرگ کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ در اصل مرزا غلام احمد قادیانی کا ملفوظ ہے جو قادیان کے ہفت روزہ بدر ( ۳۱ مئی ۱۹۹۰) کے صفحہ اول پر چھپا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام مسلم علماء نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود ان کے " ملفوظات " میں ایسی باتیں ملتی ہیں جن کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے گو یا کہ وہ کسی سچے بزرگ کا
اس سے معلوم ہوا کہ صرف اچھا کلام اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کو کہنے والا اچھا انسان یا صحیح انسان بھی ضرور ہے۔ کسی انسان کو سمجھنے کے لئے اس کے پورے کلام اور اس کی پوری زندگی کو دیکھنا چاہئے نہ کہ صرف جزئی کلام یا جزئی زندگی کو۔ کسی انسان کے بارہ میں حکم لگانے کے لئے اس کی تقریر یا تحریر کا صرف ایک اقتباس کافی نہیں۔
برصغیر ہند میں مغل سلطنت کا خاتمہ اور وسیع تر عالم اسلام میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد ساری دنیا میں احیا ء کی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان تحریکوں کا مشترک فکر یہ تھا کہہ " اسلام کا اقدامى جہاد ہے: یہ حالت سو سال سے زیادہ عرصہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۲ میں الرسالہ جاری ہوا۔ اس نے پہلی بار یہ آواز بلند کی کہ " اسلام کا اقدامی دعوت ہے ۔ اس وقت یہ ایک تنہا آواز تھی۔ آج اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں لاکھوں آدمی اس پیغام کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں۔ بہت جلد انشاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جبکہ یہی دعوتی فکر سارے عالم اسلام کا غالب فکر بن جائے ۔
۲ پچھلے ۵۰ سال سے ہندستانی مسلمانوں کو ایک ہی بات بتائی جارہی تھی۔ یہ کہ تمہاری محرومی دوسروں کے زیادتی اور تعصب کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ نے پہلی بار بتا ناشروع کیا کہ یہ زندگی کی حقیقت ہے نہ کہ تعصب اور محنت اور تدبیر کے ذریعہ اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وہ لوگ بھی اس واقعہ کا اعتراف کرنے لگے ہیں جو دوسروں کے ظلم و تعصب کے اعلان کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ مثلاً مسٹر شہاب الدین اپنے روایتی فکر کو دہراتے ہوئے اب بھی کہ رہے ہیں کہ ۔ مگر محرومی زندگی کی ایک حقیقت ہے، صرف ہندستانی مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ۸۵ فی صد عوام کے لئے بھی۔ اور صرف تعلیم میں نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں کے ہر میدان اس لئے محدود مواقع میں مقابلہ کی صورت حال کے اندر مراعات یافتہ مفادات اور غالب طبقوں کے خلاف ایک مستقل چو کسی اور مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے : But deprivation is a fact of life and not only for Muslim Indians but for 85% of our people not only in education but in every field of human activity. So a constant vigil and a ceaseless struggle are called for in a situation of competition for scarce resources against vested interests and dominant groups. Muslim India, July 1990, p. 294. ۳ الرسالہ کا فکر خدا کے فضل سے اب اتنا غالب آچکا ہے کہ تقریبا تمام لوگ کسی نہ کسی طور پر اب اس کو دہرا رہے ہیں ۔ تا ہم اعتراف کی جرات نہ ہونے کی وجہ سے وہ الرسالہ کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماہنامہ ریاض الجنۃ (مئی ۱۹۹۰) کا اداریہ
(عصر حاضر کا تقاضا) ، پورا کا پورا الرسالہ کی نقل ہے۔ صرف معمولی طور پر کچھ الفاظ بدل دئے یہ بات اگر اپنی غلطی کے اعتراف کے ساتھ کی جائے تو زیادہ موثر ہو۔ جناب شکیل احمد خلیل صاحب (ابوظبی) الرسالہ مشن سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ وہ تقریباً ہر ماہ مختلف اسلامی اداروں، دینی درس گاہوں اور اردو لائبریریوں کے نام ماہانہ الرسالہ جاری کرواتے ہیں اسی کے ساتھ الرسالہ کیسٹ اور مرکز کی دوسری مطبوعات بھی ایک قابل لحاظ تعداد میں، بطور ہدیہ ارسال کرواتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مزید کچھ افراد اس قسم کے حوصلہ مندانہ تعاون کے لئے آگے بڑھیں تاکہ الرسالہ کا دعوتی اور تعمیری مشن زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل سکے۔ اسلامک سینٹر آف نارتھ امریکا (I.C.N.A) کے زیر اہتمام نیو یارک میں بتاریخ ۲۰ تا ۲۲ جولائی ۱۹۹۰ ایک سہ روزہ کنونشن منعقد ہوا۔ اس موقع پر امریکا میں ہمارے مخلص معاون جناب خواجہ کلیم الدین صاحب اور ان کے رفقار نے اسلامی مرکز کی مطبوعات کا اسٹال لگایا۔ جس کو حیرت انگیز کامیابی ملی۔ کافی بڑی تعداد میں لوگوں نے نہایت ذوق و شوق اور دلچسپی کے ساتھ کتابوں کا مشاہدہ کیا۔ اس طرح خدا کے فضل سے ایک نئے حلقہ میں الرسالہ اور مرکز کی دیگر مطبوعات کا تعارف ہوگیا۔
اسلامی مرکز کی مطبوعات ہدیہ ارسال کرنے کے لیے ہمیں دینی درسگاہوں، اردو لائبریریوں، اسکولوں اور کالجوں کے پتے مطلوب ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے علاقے میں واقع دینی مدارس اور دوسرے علمی اداروں کے پتے مختصر تعارف کے ساتھ ارسال فرمائیں۔ اگر اداروں کے ذمہ دار حضرات کو اس پہلو پر توجہ دلا کر ان کا مطبوعہ تعارف نامہ روانہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
پاکستان کا مشہور اخبار "وفاق" ہر روز اپنے صفحہ ۳ پر الرسالہ کا کوئی ایک مضمون نقل اس کے ادارتی نوٹس میں بھی الرسالہ کے فکر کی جھلک آنے لگی ہے۔ مثلاً اس کے شمارہ ۱۳ جون ۱۹۹۰ میں ایک نوٹ کا عنوان ہے"۔ مسائل امن کی قوت سے حل کیجئے"۔ اس نوٹ میں پاکستانی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پڑوسی ملک سے ہمارے جو مسائل ہیں
ان کو ہمیں جنگ کی قوت سے نہیں بلکہ امن کی قوت سے حل کرنا چاہئے۔ یہ واضح طور پر الرسالة کے فکر کی تاثیر کی ایک مثال ہے۔
جو ہانسبرگ ( افریقہ) کے انگریزی ماہنامہ البلاغ نے اپنے صفحات میں الرسالہ انگریزی کے مضامین نقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے ایڈیٹر نے اپنے خط (۲ جولائی ۱۹۹۰ ) میں لکھا ہے :
I have taken the liberty of reproducing an article in the current issue of Al-Balagh, and wish to do so in future also, with your kind permission, for da'wah work. Your articles are short, concise, succinct and to the point. They are eye-openers and I, for one, enjoy reading them immensely. Every article, including the titbits, are highly educative and enlightening. (A.S.K. Joommal)
سرینگر کا اخبار " روشنی" کشمیر کے جنگجوؤں اور دہشت گردوں کی باتیں مسلسل چھاپتا ہے۔ کے ساتھ وہ الرسالہ کے وہ مضامین بھی تقریباً ہر شمارہ میں چھاپ رہا ہے جن میں امن اور تعمیر اور انسانیت کا پیغام ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نام نہاد اسلام پسندوں کی چھیڑی ہوئی تخریبی سیاست کے ساتھ الرسالہ کا تعمیری فکر کس طرح متوازی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔
جناب مہدی حسن صاحب (بنارس) نے ۲۰ جون ۱۹۹۰ کی ملاقات میں بتایا کہ پروفیسر نور محمد بنارسی امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں قانون کے استاد ہیں۔ ان کی یونیورسٹی میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں غیر مسلم حضرات بھی شریک تھے۔ غیر مسلم پروفیسر نے کہا " یہ بتائیے کہ آپ کے اسلام میں وہ کون سی تعلیم ہے جو موجودہ حالات میں سب سے زیادہ قابل عمل اور ریلیونٹ ہے۔ ایک مسلمان پروفیسر نے کہا کہ "صلح حدیبیہ کا اصول ایک ایسا اصول ہے جو آج کے حالات میں سب سے زیادہ قابل عمل اور ریلیونٹ ہے۔ غیر مسلم حضرات نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔ سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کا طرزِ فکر کس طرح عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ اب اس کا انگریزی ترجمہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔