Al-Risala · November 1990

An ex-Governor speaks out

Al-Risala, November 1990, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر انھوں نے لکھا ہے کہ مجھے ناگا لینڈ میں گورنر کی حیثیت سے بھیجا گیا۔ میں ۹۰ فی صد عیسائی ہیں۔ وہاں ترقیاتی کام رکا ہوا تھا، میں نے بہت سے کام شروع کرائے بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا۔ پیپر مل بنوائی جس پر ۸ کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ شوگر مل کو ترقی دی۔ ایک نئی یونی ورسٹی قائم کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں ریاست کی ترقی کے لیے محنت کرنے میں لگا ہوا تھا۔ مگر میں اپنے عہدہ کی مدت پوری کرنے سے پہلے عہدہ سے واپس بلا لیا گیا : But, I was recalled, before time!

ڈاکٹر گوپال سنگھ گورنری کے عہدہ سے واپس بلائے جانے کی شکایت تحریر کر رہے تھے، مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ اس کے صرف چند دن بعد وہ خود موجودہ دنیا سے واپس بلائے جانے والے کیسا عجیب ہے انسان کا یہ معاملہ ۔ وہ ایک " واپسی " کو جانتا ہے، مگر دوسری زیادہ بڑی واپسی کی اس کو خبر نہیں۔

ہر انسان جو دنیا میں آیا ہے وہ ایک دن یہاں سے واپس جانے والا ہے۔ دنیا میں اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ وہ مرکر دوبارہ یہاں سے چلا جائے ۔ وہ عالم آخرت میں اپنے قول و عمل کا حساب دینے کے لیے حاضر کر دیا جائے۔ یہی کسی آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، مگر یہی وہ مسئلہ ہے جس کے لیے کوئی آدمی فکر مند نہیں ۔

Printed page