حکمت کلام
Al-Risala, November 1990, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (من کان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت)
لا برویر (Jean de La Bruyere) ایک فرانسیسی مصنف ہے۔ وہ ۱۶۴۵ میں پیدا ہوا اور ۱۶۹۶ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے یہی بات ان لفظوں میں کہی کہ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ آدمی کے اندر نہ اتنی سمجھ ہو کہ وہ اچھا بولے ، اور نہ اتنی قوت فیصلہ ہو کہ وہ چپ رہے۔ It is a great misery not to have enough wit to speak well, nor enough judgement to keep quiet. بولنے کی صلاحیت ناقابلِ بیان حد تک ایک عظیم صلاحیت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہے۔ بولنے کی صلاحیت کو اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ نعمت ہے، اور اگر بولنے کی صلاحیت کا بے جا استعمال کیا جائے تو وہ اتنی ہی بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔ بولنے کی صلاحیت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ آدمی بولنے سے پہلے سوچے ۔ خود کہنے سے پہلے وہ دوسروں کی سنے ۔ جو لفظ بھی وہ منہ سے نکالے یہ سوچ کر نکالے کہ اس کو اپنے بولے ہوئے ایک ایک لفظ کا جواب اللہ تعالیٰ کے یہاں دینا ہے، جس کے پاس بولنے کے لیے ہو، اس کے با وجود وہ چپ رہنے کو پسند کرے ۔ جو ذمہ داری کے احساس کے تحت بولے نہ کہ شوقِ گفت گو کے جذبہ کے تحت ۔
اس کے برعکس بولنے کی صلاحیت کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی سوچے بغیر بولے۔ صرف سنانے کا شوق ہو ، سننے سے اسے کوئی دل چسپی نہ ہو۔ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھے بغیر وہ معاملات پر تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ اس کا بولنا خودنمائی کے لیے ہو نہ کہ اظہار حقیقت کے لیے۔ بولنا سب سے بڑا ثواب ہے ، اور بولنا سب سے بڑا گناہ بھی۔ جو آدمی اس حقیقت کو جان لے ، اس کا بولنا بھی با معنی ہوگا اور اس کا چپ رہنا بھی با معنی۔