شهادت غیر حق
Al-Risala, November 1990, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد علی جوہر (1931-1878) مشہور سیاسی لیڈر ہیں۔ وہ 1910ء سے 1930ء تک برصغیر ہند کی سیاست پر چھائے رہے۔ وہ ہندوستان کو انگریز کے سیاسی اقتدار سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ سلسلہ میں ان کے بہت سے پرجوش واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔
مولانا محمد علی کی آخر عمر میں لندن میں پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی۔ وہ سمندری سفر کرکے 4 جنوری 1931 کو انھوں نے کانفرنس میں ایک "معرکہ آرا" تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ واحد چیز جس کو لینے کا میں نے تہیہ کر رکھا ہے وہ مکمل آزادی ہے ۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں میں اس کو پسند کروں گا کہ میں باہر کے ایک ملک میں مر جاؤں جب کہ وہ ایک آزاد ملک ہو ۔ آپ ہم کو ہندوستان میں آزادی نہیں دیتے تو مجھے یہاں انگلینڈ میں آپ کو ایک قبر کی جگہ دینی پڑے گی: The only thing to which I am committed is complete independence, I will not go back to a slave country. I would prefer to die in a foreign country so long as it is a free country. And if you do not give us freedom in India, you will have to give me a grave here (in England). مذہب آزادی کے اعتبار سے یہ الفاظ بڑے شاندار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر مذہب تو حید کے اعتبار سے وہ بالکل بے قیمت ہیں۔ آزادی اور سیاست کے مذہب میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی قوم آزادہے یا محکوم ۔ مگر مذہب توحید میں اس نوعیت کی تقسیم محض اضافی ہے۔ مذہب توحید (یا اسلام) کے نقطہ نظر سے ساری اہمیت آخرت کی ہے۔ مومن کو سب سے زیادہ جس بات کا احساس ہوتا ہے وہ یہ کہ لوگ جہنم سے بچیں اور جنت کے راستہ کو اختیار کریں۔ کو لے کر اٹھنے والے آدمی کی نظر میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ آزادی اور محکومی کا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ جنت اور جہنم کا ہوتا ہے۔ وہ دوسری تمام باتوں کو نظر انداز کرکے اسی ایک بات پر اپنی ساری توجہ لگا دیتا ہے۔ کیوں کہ حقیقی مسئلہ صرف وہ ہے جو ابدی زندگی سے تعلق رکھتا ہو ، باقی تمام مسائل اضافی اور غیر حقیقی ہیں۔
راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں مولانا محمد علی کی تقریر شہادت غیر حق کی مثال ہے۔ انھوں نے انگریزوں
کے سامنے یہ گواہی دی کہ سیاسی محکومی سے نجات سب سے بڑا مسئلہ ہے ، حالاں کہ انہیں یہ گواہی دینا چاہئے تھا کہ جہنم کے عذاب سے نجات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے انگریزوں کو بتایا کہ سب سے زیادہ اعلیٰ چیز سیاسی آزادی ہے۔ حالاں کہ انھیں چاہئے تھا کہ انگریزوں کو یہ بتائیں کہ سب سے زیادہ اعلیٰ چیز اس لئے تم لوگ اپنے رب کی رحمت و مغفرت کے طالب بنو تاکہ تم موت کے بعد جنت میں داخل ہو :
وَسَارِعُوٓا۟ الى مغفرة من ربكم وجنة اور تم لوگ اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور اس عرضها السماوات والارض اعدت جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر للمتقين (آل عمران ۱۳۳) ہے ۔ وہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے زمانہ میں بھی سیاسی محکومی کے مسائل تھے ۔ مگر وہ سیاسی محکومی سے نجات کا نعرہ لے کر نہیں اٹھے۔ بلکہ لوگوں کو توحید اور آخرت کی طرف پکارا۔ مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر میں ایک بیرونی خاندان ہکسوس (Hyksos Kings) کی حکومت تھی۔ مگر حضرت یوسف نے اس بیرونی حکمرانی کو اشو نہیں بنایا جیسا کہ آپ کے بعد مصر کے قوم پرستوں نے بنایا ۔ حتیٰ کہ آپ اسی بیرونی بادشاہ کے تخت "خزانہ ائن ارض " کے شعبہ کے نگر اں بن گئے ۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں فلسطین میں رومیوں کی حکومت تھی جو باہر سے آکر فلسطین پر قابض ہو گئے تھے ۔ اس وقت فلسطین میں پیلاطس (Pontius Pilate) رومی گورنر کی حیثیت سے مقیم تھا۔ مگر حضرت مسیح نے اس معاملہ کو اپنی تحریک کا اشو نہیں بنایا۔ آپ نے اپنی ساری توجہ اس پر مرکوز کر دی کہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائیں اور انھیں جنت کی بشارت دیں۔
مومن کا کام یہ ہے کہ وہ توحید اور آخرت کو اپنی دعوت کا عنوان بنائے اور دوسری تمام چیزوں کو فیصلے الہی کے خانہ میں ڈال دے۔ مومن کا کام حق کی گواہی دینا ہے۔ اہل ایمان اگر دوسری دوسری چیزوں کو تحریک کا عنوان بنا کر اس کے لئے دھوم مچائیں تو یہ غیر حق کی شہادت کے ہم معنی ہوگا۔ اور اہل ایمان کے لئے جس خدائی نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ شہادت حق کے کام پر ہے۔ شہادت غیر حق کے کام پر انھیں ہر گز نہ خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔