Al-Risala · November 1990

غیر خونی انقلاب

Al-Risala, November 1990, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان انقلاب چاہتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتا ہے کہ یہ انقلاب غیر خونی طور پر آئے۔ بتاتی ہے کہ کوئی بھی شخص غیر خونی انقلاب لانے پر قادر نہ ہو سکا۔ تمام معلوم انقلاب قتل اور خون کے جنگل کو پار کر کے ہی ظہور میں آئے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا انقلاب تمام معلوم تاریخ کا واحد انقلاب ہے جو حقیقی معنوں میں غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر تاریخ سے حذف کر دیا جائے تو نہ صرف غیر خونی انقلاب کی یہ بات افسانہ بن کر رہ جاتی ہے بلکہ اس کے بعد کوئی ایسی عملی مثال باقی نہیں رہتی جس کی روشنی میں کوئی انسان بعد کے زمانوں میں غیر خونی انقلاب کی بات سوچ سکے۔

فرانس میں جدید جمہوری انقلاب آیا۔ اس میں عوام اور شاہی نظام کے درمیان جو مقابلے ہوئے ان میں مرنے والوں کی تعداد ۱۰ لاکھ تک پہنچ گئی۔ بیسویں صدی میں روس میں اشتراکی انقلاب آیا۔ جو لوگ مرے اور مارے گئے ان کی حقیقی تعداد لامعلوم ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ ان کی تعداد کسی حال میں ایک کروڑ سے کم نہیں۔ امریکی انقلاب (۱۷۸۳ - ۱۷۷۵) میں نسبتاً کم آدمی مرے۔ تاہم اس میں بھی مقتولین کی تعداد ۵۰ ہزار تک پہنچ گئی۔ عالمی جنگوں کا معاملہ اس سے بھی آگے ہے۔ چنانچہ پہلی عالمی جنگ میں مختلف ملکوں کے ۷۵ لاکھ آدمی مارے گئے۔ اور دوسری عالمی جنگ میں چھ کروڑ سے زیادہ آدمی ہلاک ہوئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے گئے تو ایک پورے ملک میں زبردست فکری اور اخلاقی انقلاب آ چکا تھا۔ بوقت وفات ۱۲ لاکھ مربع میل کے رقبہ پر آپ کی حکومت قائم تھی۔ مگر اس پورے عمل میں صرف ۱۰۱۸ آدمی ہلاک ہوئے۔ جن میں مسلم مقتول ۲۵۹ تھے اور غیر مسلم مقتول ۵۹۔ یہ تعداد واقعہ کی نسبت سے اتنی کم ہے کہ وہ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کو بلا شبہ پورے معنوں میں غیر خونی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔

ہر قائد غیر خونی انقلاب لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر کوئی قائد غیر خونی انقلاب لانے میں کامیاب اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں غیر خونی انقلاب لانے کے لئے خود اپنے آپ کو خون کرنا پڑتا ہے۔ اور یہی وہ قیمت ہے جس کو دینے کے لئے کوئی شخص تیار نہیں۔ خونی انقلاب ٹکراؤ

کی زمین پر آتے ہیں، اور غیر خونی انقلاب صبر کی زمین پر ۔ اور صبر سے زیادہ مشکل کوئی کام اس دنیا میں ایک انسان کے لئے نہیں۔

صبر کی حقیقت جھٹکے کو اپنے آپ پر لینا ہے، دوسروں پر انڈیلنے کے بجائے اپنے آپ پر سہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑائی کے بغیر بھی جیت ہوتی ہے۔ مگر لڑائی کے بغیر جیتنے کے لئے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے، لوگ اپنے آپ سے لڑ نہیں پاتے، اس لئے وہ لڑائی کے بغیر لڑائی جیتنے والے بھی نہیں بنتے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم غیر خونی انقلاب لانے میں کس طرح کامیاب ہوئے۔ اس کا اندازہ آپ کے حالات زندگی کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ مکہ میں ۱۳ سال تک آپ کے مخالفوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ انھوں نے الفاظ کی چوٹ بھی دی اور پتھر اور نیزے کی چوٹ بھی۔ طرح کے بے شمار واقعات پیش آنے کے باوجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بھی جوابی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اور نہ کسی سے کوئی لڑائی کی۔ آپ مخالفوں کے ہر وار کو یک طرفہ طور پر سہتے رہے۔ ان کی طرف سے ہر قسم کے اشتعال کے باوجود کبھی مشتعل نہیں ہوئے۔

اس کے بعد آپ نے یہ کیا کہ مکہ کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔ آپ نے نہ اس کے خلاف فریاد کی کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اپنے وطن اور اپنی جائداد کو چھوڑنا پڑ رہا ہے اور نہ اس کی پروا کی کہ اس طرح وطن چھوڑ کر جانے کی بنا پر لوگ آپ پر بزدلی اور فرار کا الزام لگائیں گے۔ مدینہ چلے جانے کے بعد مکہ کے لوگوں نے آپ کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس وقت بھی آپ کی پالیسی یہ رہی کہ حتی الامکان جنگ سے اعراض کیا جائے۔ مثال کے طور پر احزاب کے موقع پر آپ نے خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان آڑ قائم کر دی۔ آپ نے صرف دفاع میں جنگ کی اور وہ بھی اس وقت جب کہ مڈ بھیڑ کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رہ گئی ہو۔ ایسی باقاعدہ جنگیں صرف تین ہیں جن میں آپ خود شریک رہے ہوں (بدر، احد اور حنین)، آپ کے زمانہ میں مؤتہ کی جنگ بھی ہوئی۔ مگر اس میں آپ خود شریک نہ تھے۔

آپ کو عرب میں جو غلبہ حاصل ہوا وہ جنگ کے ذریعہ نہیں ہوا، بلکہ اس "صلح" کے ذریعہ ہوا جس کو قرآن میں "فتح مبین (الفتح)" کہا گیا ہے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ غیر خونی انقلاب لانے کے لئے اپنے آپ کو خون کرنے سے کم نہ تھا۔ آپ نے اپنی ذات کا خون کرنا گوارا کیا، تاکہ باہر کی دنیا میں خون نہ بہایا جائے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جو غلبہ حاصل ہوا وہ جنگ کے ذریعہ نہیں ہوا بلکہ دعوت کے اسی دعوت کے بند دروازوں کو کھولنے کے لئے آپ نے یہ کیا کہ دشمن سے اس کی اپنی شرائط کی بنیاد پر صلح کرلی۔ یہ صلح حدیبیہ تھی جس کو قرآن میں کھلی فتح (انا فتحنا لك فتحا مبينا) کہا گیا ہے۔ اس بات کا ایک تاریخی ثبوت ہے کہ جنگ کے مقابلہ میں امن کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کی یک طرفہ صلح کے ذریعہ اسی عظیم حقیقت کا عملی مظاہرہ فرمایا، تاہم یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس قسم کے ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے صبر کی ضرورت ہے ، اور اس دنیا میں بلاشبہ صبر سے زیادہ مشکل قربانی اور کوئی نہیں۔

Printed page