اسلام کی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Al-Risala, November 1990, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے جن قوانین کے تحت موجودہ دنیا چلائی جارہی ہے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہے تو خانقا ہیں اور گرجا اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں خدا کا نام کثرت سے لے لیا جاتا ہے، ڈھادئے جاتے۔ اور خدا ضرور اس کی مدد کرے گا جو خدا کی مدد کرے۔ خداز بر دست ہے، زور والا ہے (۴۰/۲۲)
خدا کے اس قانون کا اظہار انسانی زندگی میں مختلف صورتوں میں ہوتا رہا ہے۔ کے ابتدائی زمانہ میں اس کا ایک نمایاں اظہار اس طرح ہوا کہ وقت کی دو بڑی جا برانہ سلطنتوں ــــــ رومی شہنشاہیت اور ساسانی شہنشاہیت کو توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد اشاعت حق کے جو آزادانہ مواقع کھلے، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام اس وقت کی آباد دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں
یورپ میں صنعتی دور آنے کے بعد نو آبادیاتی نظام (Colonialism) دنیا پر چھا گیا۔ دوبارہ، اگر چہ تمام تر شدت کے ساتھ، انسانی دنیا میں جبر کی صورت حال پیدا کردی۔ کا قانون حرکت میں آیا۔ دوسری عالمی جنگ (۴۵-۱۹۳۹) پیش آئی۔ اس کے نتیجہ میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتیں بے حد کمزور ہو گئیں اور آخر کار اس نظام کا خاتمہ ہو گیا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قانون دفع کا ایک نمایاں اظہار حالیہ برسوں (۹۰ - ۱۹۸۹) میں ہوا ہے۔ اس بار اس قانون کا نشانہ کمیونسٹ ایمپائر تھی۔ کمیونسٹ روس میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ بظاہر نا قابل شکست سوویت ایمپائر ٹوٹ گئی۔ اس طرح اشاعت حق کی آخری رکاوٹ بھی ہمیشہ کے لئے ختم کر دی گئی۔ بظاہر اب اس قسم کا نظام جبر دوبارہ دنیا میں آنے والا نہیں۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ امتحان کی مصلحت کا لازمی تقاضا ہے کہ دنیا میں آزادی کا ماحول ہو۔ یہاں ہر آدمی کے لئے فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فليكفر
(الکہف ۲۹) کا موقع باقی رہے۔
ایسی حالت میں دنیا کے اندر جبر کا نظام قائم کرنا براہ راست مصلحتِ خداوندی کے خلاف کوئی شخص جب کسی علاقے میں جبر کا نظام قائم کرتا ہے تو گویا وہ خدا کے قائم کئے ہوئے نظام میں مداخلت کرتا ہے۔ خدا ایسے شخص یا گروہ کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ وہ ایسے لوگوں سے طاقت چھین کر انھیں باہر پھینک دیتا ہے۔
کچھ لوگ جہاد (یعنی قتال) کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس کا مقصد موانع دعوت کو ہٹانا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ جہاد (معنی قتال) صرف دفاع کے لئے ہوتا ہے۔ جہاں تک موانع دعوت کا تعلق ہے وہ خود خدا کی طرف سے ہٹائے جاتے ہیں۔ موانع دعوت خدا کا مسئلہ ہے، وہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ ہمارا مسئلہ دعوت پہنچانا ہے، اگر ہم دعوت پہنچانے کا کام کریں تو خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ وہ ضرور موانع دعوت کا خاتمہ کر دے گا۔