بائبل کی پیشین گوئی
Al-Risala, November 1990, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
بائبل میں اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ــــ۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ۳ : ۶) :
وقف و فاس الارض ۔ نظر فرجف الامم ودكت الجبال الدهرية وخسفت آكام القِدَم ۔ مسالك الازل له (حبقوق ۳ : ۶)
اس پیشین گوئی کا تعلق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اس میں ” ازلی پہاڑ “ اور ” قدیم ٹیلے “ سے مراد رومی اور ساسانی سلطنتیں ہیں۔ یہ سلطنتیں جبر پر قائم تھیں۔ انھوں نے قدیم زمانہ میں وہ چیز پیداکر رکھی تھی جس کو قرآن میں فتنة کہا گیا ہے۔ اور جس کو ہنری پرین (Henri Pirenne) نے شاہانہ مطلقیت (Imperial absolutism) سے تعبیر کیا ہے۔ اس شاہانہ مطلقیت نے قدیم زمانہ میں دعوتِ حق کے تمام مواقع ختم کر دیے تھے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اللہ تعالیٰ نے عرب طاقت کے ذریعہ ان شہنشاہیتوں کو توڑ دیا۔
اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار آزادانہ غوروفکر کا دور شروع ہوا۔ اس طرح وہ حالات پیدا
ہوئے جب کہ اہل حق آزادانہ طور پر خدا کے دین کی تبلیغ کریں اور لوگ آزادانہ غور وفکر کے تحت اس کو قبول کرلیں۔