Gorbachev has transformed the world (p. 14).
Al-Risala, November 1990, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں شک نہیں کہ سوویت یونین میں جو انقلابی واقعہ ہوا، اس کو ظہور میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے گورباچیف کو وسیلہ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں زیادہ بڑے پیمانہ ان کا وہی درجہ ہے جو فرانس کے جنرل ڈیگال کا تھا۔ ڈیگال نے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے فرانس کے افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا۔ اسی طرح میخائیل گورباچیف نے اندرونی اور بیرونی حالات کا اعتراف کرتے ہوئے سوویت روس میں انقلاب کے بند دروازے کھول دئے۔ اس سلسلہ میں ٹائم کا یہ ریمارک بہت معنی ہے کہ گورباچیف ایک ماہر سیاست داں ہیں۔ وہ بہت سے ملکوں میں الیکشن جیت سکتے ہیں مگر غالباً خود اپنے ملک میں نہیں :
A master politician, Gorbachev could win election in many countries, but probably not his own. سوویت روس میں لائے جانے والے اس انقلاب کے بہت سے پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پہلو وہ ہے جو مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ کمیونسٹ حکومت کے قیام (۱۹۱۷) کے بعد پورے سوویت روس میں مذہب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی طرح اسلام بھی وہاں محبوس ہو کر رہ گیا تھا۔
ہزاروں مسجدیں اور مدرسے بند کر دئے گئے۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی۔ اسلامی تعلیم یا اسلامی سرگرمیاں جرم قرار پاگئیں۔ مگر نئے انقلاب نے دوبارہ سوویت روس میں اسلامی سرگرمیوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔