آزاد دنیا میں دور خاتمیت
Al-Risala, November 1990, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ وہ صورت حال ہے جو دوسری دنیا۔ (second world) میں پیش آئی۔ اسی طرح پہلی دنیا (first world) میں بھی ایک اور انداز سے دور رس تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اور یہ تبدیلیاں بھی عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں۔ ان تبدیلیوں نے مغربی دنیا میں موانع دعوت کا حصار توڑ کر وہاں دعوت کے لئے وسیع تر امکانات کھول دیے ہیں۔
امریکہ کے دانشور طبقہ میں پچھلے چند برسوں میں ایک نیا فکر پیدا ہوا ہے۔ اس فکر کو خاتمیت (endism) کا نام دیا گیا ہے۔ " آزاد دنیا " نے حیرت انگیز طور پر اپنی تہذیب میں اپنے سابقہ یقین کو کھو دیا ہے۔
لامحدود آزادی کا نظریہ حقائق فطرت سے ٹکرا گیا۔ صنعتی ترقی کے مسائل نے دنیا میں جہت
تعبیر کرنے کے خواب کو برباد کر دیا۔ جاپان کی غیر متوقع اقتصادی طاقت نے مغرب کی فوجی طاقت کو غیر موثر بنا دیا۔ انسانی ساخت کے تمام نظریات اپنے تجربہ میں غیر معتبر قرار پا گئے۔ مادی ترقیاں انسان کی روح کو مطمئن کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ ناکامیوں کی اس فہرست میں سب سے اہم اور دور رس نتائج والی ناکامی وہ ہے جو فکری سطح پر پیش آئی ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اہل مغرب نے یہ یقین کر لیا تھا کہ ان کی سائنس ان کے لئے الہامی مذہب کا بدل ہے۔ سائنس فکری اعتبار سے انہیں وہ سب کچھ دے سکتی ہے جس کی امید مذہب سے کی جاتی ہے۔ مگر موجودہ صدی کے آخر میں پہنچ کر اصل سائنس نے آخری طور پر اپنے اس یقین کو کھو دیا ہے۔ اب انسان دوبارہ وہاں کھڑا ہے جہاں اس کو فکری اعتقاد اور نظریاتی یقین کے لئے دوبارہ اسی چیز کی ضرورت ہے جس کو مذہب کہا جاتا ہے۔ سائنس کی اس ناکامی پر موجودہ زمانہ میں کثیر تعداد میں کتابیں چھپی ہیں۔ ان کتابوں کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ سائنس کی تمام تحقیقات نے اس کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ انسان جو کچھ جاننا چاہتا ہے، وہ اس کو سائنسی مطالعہ کے ذریعہ نہیں جان سکتا۔ موجودہ صدی کے آغاز میں انسان نے " انسائیکلو پیڈیا آف نالج" چھاپی تھی، اب موجودہ صدی کے خاتمہ پر وہ قاموس جہالت چھاپ رہا ہے۔ (Encyclopaedia of Ignorance)
یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دوں گا جو 1989ء میں نیو یارک سے چھپی ہے۔ اس کتاب کے مصنف اسٹیفن ہاکنگ (Stephen W Hawking) ہیں۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں میتھمیٹکس کے پروفیسر ہیں۔ میتھمیٹکس کی یہ چیر نیوٹن کے نام پر قائم کی گئی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آئن سٹائن کے بعد وہ نظریاتی طبیعیات میں سب سے زیادہ ممتاز سائنس داں ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب وقت کی مختصر تاریخ (A Brief History of Time) کو ان سطروں سے شروع کیا ہے: ایک مشہور سائنس داں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برٹرینڈ رسل نے ایک بار فلکیات پر ایک عوامی لکچر دیا۔ اس نے بتایا کہ زمین کس طرح سورج کے گرد گھومتی ہے اور پھر سورج کس طرح کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومتا ہے جو کہ بہت سے ستاروں کا ایک مجموعہ ہے۔ لکچر کے آخر میں ایک چھوٹی بوڑھی عورت کمرہ کے پچھلے حصہ سے اٹھی اور کہا۔ جو کچھ تم نے ہمیں بتایا وہ لغو ہے۔ زمین در حقیقت ایک
چپٹی پلیٹ کی طرح ہے اور وہ ایک بڑے کچھوے کی پشت پرٹھی ہوئی ہے۔ سائنس داں برتری کے احساس کے تحت مسکرایا اور پھر کہا کہ یہ کچھواکس چیز کے اوپر ہے۔ خاتون نے کہا کہ نوجوان، تم بہت مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھوے کے نیچے کچھو اہے، اور اسی طرح یہ سلسلہ نیچے تک چلاگیا ہے۔ بہت سے لوگ دنیا کی اس تصویر کو مضحکہ خیز سمجھیں گے کہ یہاں کچھووں کا ایک لامتناہی کھمبا مگر ہم کیوں یہخیال کرتے ہیں کہ ہمارا علم اس سے بہتر ہے۔ ہم دنیا کی بابت کیا جانتے ہیں اور کس طرح جانتے ہیں۔ دنیا کہاں سے آئی اور وہ کہاں جارہی ہے۔ کیا دنیا کا ایک آغاز ہے، اور اگر ایسا ہے تو اس سے پہلے کیا پیش آیا۔ وقت کی نوعیت کیا ہے۔ کیا وہ کبھی ختم ہو جائے گا۔ علم طبیعیات کے حالیہ انکشافات جونی ٹکنالوجی کے ذریعہ ممکن ہوئے ہیں، وہ ان میں سے بعض سوالات کا کچھ جواب یہ جواب آئندہ اتنے ہی بدیہی دکھائی دے سکتے ہیں جتنا کہ زمین کا سورج کے گرد گھومنا یا شاید وہ اتنے ہی مضحکہ خیز نظر آئیں جت کہ کچھووں کا کھمبا۔ صرف وقت ہی اس کے بارہ میں کچھ بتا سکتا ہے: