ایک اور مثال
Al-Risala, November 1990, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اسٹفن ہاکنگ نے اپنی کتاب میں مختلف پہلوؤں سے بحث کرکے دکھایا ہے کہ کائنات نے بے شمار امکانی ماڈلوں میں سے اسی ایک ماڈل کو اختیار کیا ہے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اور
ترقی کے لئے ضروری تھا۔ " کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہم اسے دیکھتے ہیں: ان کے الفاظ میں ، اس سواال کا جواب بالکل سادہ ہے۔ اگر کائنات کسی اور ڈھنگ کی ہوتی تو ہم یہاں موجود ہی نہ ہوتے :
"Why is the universe the way we see it?" The answer is then simple: If it had been different, we would not be here! انھوں نے بگ بینگ (big bang) نظریہ کا حساب کر کے بتایا ہے کہ اس میں بے شمار ایسے پہلو ہیں جن کے متعلق ماننا پڑتا ہے کہ وہ کسی ناقابل توجیہہ سبب (unexplained reason) کی بنا پر ہوا۔ کیوں کہ معلوم مادی قوانین میں اس کی توجیہہ موجود نہیں۔
مثال کے طور پر انھوں نے بتایا ہے کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی جو توسیع شروع ہوئی اور جو اب تک مسلسل جاری ہے، اس کی توسیع کی شرح (rate of expansion) انتہائی حد تک حسابی (well-calculated) ہے۔ اس توسیع کی شرح رفتار میں اگر ایک سیکنڈ کے جزو (fraction) کے بقدر بھی فرق ہوتا تو کائنات اب تک منہدم ہو چکی ہوتی۔ اس قسم کی مختلف تفصیلات دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ بتانا بے حد مشکل ہے کہ کائنات اس خاص طریقہ سے کیوں شروع ہوئی، سو اس کے کہ یہ مانا جائے کہ وہ ایک خدا کا عمل ہے جس نے چاہا کہ وہ ہمارے جیسی مخلوق پیدا کر کے یہاں رکھے :
It would be very difficult to explain why the universe should have begun in just this way, except as the act of a God who intended to create beings like us (p. 134). کائنات کا سائنٹفک ماڈل تقاضا کرتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا مانا جائے ۔ خدا کو نہ ماننے کی صورت میں یہ ماڈل نا قابل فہم بن کر رہ جاتا ہے۔