What is the Origin of Man?
Al-Risala, November 1990, pp. 32–35
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر موریس بوکائی نے اس کتاب میں خاص طور پر ان آیات کا مطالعہ کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جسم مادر کے اندر انسان کی ابتدائی تخلیق کس طرح ہوتی ہے ۔ مثلاً ؛ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا ۔ پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک علقہ کی شکل دی ۔ پھر علقہ کو گوشت کا ایک لو تھڑا بنایا ۔ لو تھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں ۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں بنا کر کھڑا کیا ۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ ، بہترین پیدا کرنے والا (۲۳ / ۱۲ - ۱۴) ڈاکٹر بوکائی نے دکھایا ہے کہ پیغمبر اسلام کے الہام کا زمانہ ۶۱۰ سے ۶۳۲ تک ہے ۔ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی (scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا ۔ چنانچہ اس دور کی تمام کتابوں میں اس زمانہ کے غیر علمی خیالات کا انعکاس پایا جاتا ہے ۔
مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس عمومی تاثر سے مستثنیٰ ہے ۔ قرآن میں اپنے زمانہ کی کوئی ایک بھی علمی
غلطی راہ نہ پاسکی۔ حتیٰ کہ قرآن اگر اس زمانہ کی کسی روایجی بات کو نقل کرتا ہے تو وہ صرف اس کے صحیح اجزاءء کو نقل کرتا ہے ، اور اس کے غیر صحیح اجزا کو حذف کرتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر موریس بوکائی نے اس سلسلہ ہیں ان آیتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے جن کا تعلق انسان کی پیدائش اور رحم مادر میں اس کے ارتقاء سے ہے۔ انھوں نے تفصیل سے دکھایا ہے کہ انسان کی پیدائش کے بارہ میں قرآن کے جو بیانات ہیں وہ حیرت انگیز طور پر جدید تحقیقات کے عین مطابق وہ تحقیقی نتائج جو پہلی بار صرف بیسویں صدی کے نصف آخر میں سامنے آئے ہیں ، وہ ۱۴۱ سوسال پہلے کی کتاب قرآن میں کیوں کر موجود ہیں ، یہ ظاہرہ (phenomenon) انتہائی حد تک
ڈاکٹر بوکائی اس قسم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہہ ممکن نہیں : The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in the Qur'ān (p. 188). اس طرح کی کثیر مثالیں میں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ علم کا دریا (river of knowledge) جو لوگوں کو انیسویں صدی میں الحاد کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا ، اب بیسویں صدی میں وہ اپنا رخ موڑ کر مذہب کی طرف جارہا ہے۔ مذہبی عقائد عین سائنٹفک سطح پر ثابت شدہ حقائق بنتے جارہے مذہب آج خالص سائنس کی روشنی میں سب سے زیادہ قابل فہم اور قابل اعتبار آئیڈیالوجی بن گیا ہے۔
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ مذہب کی صداقت کا ثابت ہونا اسلام کی صداقت کا ثابت کیوں کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب تبدیلی اور اضافہ کی بنا پر اپنا استناد کھو چکے ہیں ۔ میدان میں صرف اسلام ہے جس کو مستند اور قابل قبول مذہب کا درجہ یا جاسکے۔ سائنس کی طرف سے مایوسی یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کی سائنسی دریافتوں نے انسان کو علم سے زیادہ بے علمی تک پہنچا دیا ہے۔ مثلاً بلیک ہول کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کا صرف ۳ فی صد حصہ ہمارے لئے
قابل مشاہدہ ہے۔ بقیہ ۹۰ فی صد حصہ روشنی خارج نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے لیے قابل مشاہدہ
یہ سادہ طور پر مادہ (mass) کی بات ہے۔ جہاں تک مادی مشاہدات کی توجیہہ کا سوال ہے تو اس معاملے میں سائنس نے ہمیں کسی بھی یقینی جواب تک نہیں پہنچایا ہے۔ ہر چیز جس کو آدمی جاننا چاہتا ہے، بہت جلد وہ دیکھتا ہے کہ اس کی حد (limit) آگئی۔ اور اس کے آگے معاملہ کو جاننا یا سمجھنا آدمی کے لئے موجودہ حالت میں ناممکن ہے۔
ان تجربات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں آدمی نے سائنس کے بارے میں اپنے یقین کو کمیونسٹ دنیا کا مسئلہ اگر جبر تھا، تو آزاد مغربی دنیا کا مسئلہ ذہنی گھمنڈ (intellectual arrogance) تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو سائنس کی محدودیت (Limitations) بتا کر ان کے علمی گھمنڈ کو چور چور کر دیا۔
یہاں میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کا ایک پیراگراف نقل کروں گا۔ "ہسٹری آف سائنس" کے آرٹیکل کے تحت لکھا ہے کہ ابھی حال تک ، سائنس کی تاریخ کامیابی کی تاریخ سائنس کی کامیابیاں بڑھتے ہوئے علم ، اور جہالت اور تو ہم پرستی پر فتح کی نمائندگی کر رہی سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا تھا جو انسانی زندگی کو ترقی دینے والا تھا۔ مگر حال میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دوچار ہے۔ لا محدود تکنیکل ترقیوں سے پیدا ہونے والے خطرات نے مورخین کو مجبور کیا ہے کہ وہ سائنس کے بارے میں اپنے ابتدائی سادہ خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں :
Until recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and superstition; and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within sci- ence, of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple faith. (16/366) دوسری دنیا (کمیونسٹ دنیا) میں اسلامی دعوت کے لئے کام کرنے کے مواقع مسدود ہو گئے
اب وہاں اسلامی دعوت کے مواقع دوبارہ کھل گئے ہیں۔ جہاں تک پہلی دنیا آزاد دنیا) کا تعلق ہے، وہاں کام کے مواقع پہلے سے موجود تھے۔ اب نئے حالات نے ان مواقع میں صرف مزید اضافہ
ان حالات میں ہماری ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اب ہمیں مزید طاقت اور سرگرمی کے ساتھ ان مواقع دعوت کو استعمال کرنے میں لگ جانا چاہئے۔
اسلام کا احیاء اور مسلمانوں کی ترقی تمام تر دعوت کے عمل سے وابستہ ہے۔ اور موجودہ زمانہ میں دعوت کے مواقع آخری حد تک کھول دئے گئے ہیں۔ اب تاریخ منتظر ہے کہ کچھ لوگ اٹھیں اور ان مواقع کو استعمال کر کے اسلام کی دعوت کو تمام بندگان خدا تک پہنچا دیں۔
موجودہ زمانہ میں ایک طرف ہر قسم کے دعوتی مواقع کے دروازے کھل گئے ہیں۔ وسائل اعلام (communication) کے جدید ذرائع نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ خدا کی دعوت سارے عالم میں پہنچائی جاسکے ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشین گوئی پوری ہو جائے جس میں آپ نے فرمایا کہ زمین کے اوپر کوئی بھی مکان یا خیمہ نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔ تاریخ ہمیں یہ عظیم کریڈٹ دینے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ ہم ان ضروری شرائط کو پورا کر دیں جس کے بعد کسی کو اس قسم کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر آخر میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ خاص اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے۔ اس کمیٹی میں اہل علم اور باخبر افراد شریک ہوں۔ یہ لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ اور غور و فکر کریں۔ اور پھر دعوتی عمل کا ایک مکمل منصوبہ بنائیں۔ اس کے بعد منظم انداز میں اس پر عمل شروع کر دیا جائے۔ مذکورہ نوعیت کی ایک کمیٹی کا قیام اس معاملہ میں صحیح اور موثر آغاز کی ضمانت ہو گا ۔