Al-Risala · November 1990

سفر نامہ - ۳

Al-Risala, November 1990, pp. 36–47

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ مشترک صفت ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے شاکی رہتے ہیں۔ یہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاکر نہایت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ مثلاً پاکستان اور ہندوستان کے لوگ اپنے اپنے ملکوں میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہاں ظلم اور فساد ہے۔ مگر یہی لوگ مغرب میں یا خلیج کے ملکوں میں پہنچتے ہی ایک کامیاب زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔ اسی طرح مصر اور شام کے اسلام پسند اپنے ملکوں میں اپنی حکومت سے ٹکراؤ کے سوا کوئی اور کام نہیں جانتے۔ مگر یہی لوگ سعودی عرب اور کویت میں آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔

اس کا راز ایک لفظ میں ایڈجسٹمنٹ ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں ایڈجسٹمنٹ نہیں کرتے، اس لئے وہ اپنے ملک میں ناکام رہتے ہیں۔ اور دوسرے ملک میں ، مجبوراً نہ طور پر نہ شعوری طور پر، ایڈجسٹمنٹ کرلیتے ہیں۔ اس لئے وہ وہاں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں" مجاہد " ہیں اور دوسرے ملکوں میں" بزدل "۔ اگر وہ اپنے ملکوں میں اسی طرح " بزدل " بن جائیں جس طرح وہ باہر کے ملکوں میں بنے ہوئے ہیں تو وہ خود اپنے ملک میں بھی وہ ساری کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں جو وہ باہر کے ملک میں حاصل کر رہے ہیں۔

اس صورت حال کا اصل نقصان عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ یہ باہر جانے والے ذہین لوگ اپنی زبان سے یہ اعلان نہیں کرتے کہ تجربہ کے بعد ہم نے اپنی پالیسی بدل لی ہے ، اسی طرح تم بھی بدل لو۔ چنانچہ عملاً یہ ہو رہا ہے کہ ان تمام نام نہاد مجاہدین کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ کی بنا پر ان کے ملکوں کے لوگ برابر مصیبتیں اٹھا رہے ہیں۔ اور وہ خود باہر کے ملک میں اپنے الفاظ کو عملاً ترک کر کے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی برائی ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جاری ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس برائی کو جاری کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو بے خبر عوام نے برائی مٹانے کا کریڈٹ دے رکھا ہے۔ ایک صاحب کے سوال پر میں نے یہ بات کہی۔

ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسلامی دنیا کو ہمارے دشمنوں نے پارہ پارہ کر دیا ہے (ان العالم الإسلا مِیُّ مَزّقَهُ اعداؤنا)

. امتی کی شام کو موقع ختم ہوگئی۔ اس کے بعد پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں سینیگال کے

اخباری نمائندے جمع ہوئے اور سوال و جواب کے انداز میں گفتگو ہوئی۔

مگر پریس کے نمائندوں نے جو سوالات کئے، وہ زیادہ تر سطحی نوعیت کے تھے۔ نے یہ سوال کیا کہ کانفرنس نے سلمان رشدی کے بارے میں کوئی تجویز پاس نہیں کی۔ اس کی وجہ کیا اس سوال و جواب کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ اس وقت پوری ملت اسلام قول بلا فعل کی سطح پر ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہر مسلمان اس بات کو ثابت کرنے پر اپنے آخری الفاظ خرچ کر دینا چاہتا ہے کہ سلمان رشدی واجب القتل ہے۔ حتی کہ وہ اس قابل ہے کہ کوئی بھی شخص اس پر قابو حاصل کرکے اس کو قتل کر دے۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ہر شخص قتل کی بات کرتا ہے مگر کوئی شخص قتل کرنے کے لئے نہیں حتی کہ ایران کی حکومت نے ایک سال پہلے اعلان کیا تھا کہ سلمان رشدی کے قتل کے لئے ایک اسکواپیڈ روانہ کر دیا گیا ہے۔ مگر آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ وہ اسکوا پیڈ کہاں گیا۔ پاکستان یا کسی بھی ملک کے کسی مسلم دانشور یا عالم نے ایسا نہیں کیا کہ وہ خود انگلینڈ جائے یا اپنے صاحبزادے کو وہاں بھیجے اور پھر وہ یا تو سلمان رشدی کو مارنے میں کامیاب ہو یا اسی راہ میں اپنی

حقیقت یہ ہے کہ سلمان رشدی کے واقعے نے سلمان رشدی سے زیادہ خود موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب نے اگر سلمان رشدی کو شتم رسول کا مجرم ثابت کیا ہے تو مسلم لکھنے اور بولنے والوں کو قول بلا فعل کا مجرم ثابت کیا ہے۔ اور دوسرا جرم یقیناً پہلے جرم سے کسی طرح کم نہیں۔

اس سفر کے دوران مجھے ایک عرب ملک کی مطبوعہ رپورٹ (۱۹۸۹) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں نام بنام دکھایا گیا تھا کہ کس ملک کو کس مد میں کتنی رقم دی گئی۔ ہندوستان کے عنوان کے تحت اس رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ درج تھے :

الهند : لجنة تعمير المساجد، لاصلاح المساجد المتضررة من الزلازل 20,000$ اس اندراج کے مطابق، ہندوستان میں تعمیر مساجد کے لئے ایک ادارہ اس نے ۳۰ ہزار ڈالر ان مساجد کی مرمت کے لئے حاصل کیا ہے جن کو زلزلوں سے نقصان

یہ پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی ۔ "لجنة تعمیر المساجد" کے نام سے کوئی معروف ادارہ ہندوستان میں موجود نہیں۔ اور اگر بالفرض "سٹیپ اور لیٹر پیڈ" کی سطح پر ایسا کوئی ادارہ کہیں موجود ہو تو یہ یقینی ہے کہ ۱۹۸۹ میں یا اس سے پہلے کے قریبی سال میں ہندوستان میں کوئی زلزلہ نہیں آیا جس میں مسجدوں کو نقصان پہنچا ہو اور اس کی ضرورت پیش آئی ہو کہ باہر سے رقم لا کر ان کی مرمت کرائی جائے ۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کا "بارش طبقہ" کتنے برے انداز میں عرب ملکوں کے جذبہ انفاق کا استحصال کر رہا ہے ۔

عبد المغنی شمس الدین (عمر ۴۶ سال) کوالالمپور (مالیزیا سے آئے تھے۔ وہ اخوانی تحریک سے متاثر ہیں ۔ جامعہ ازہر کے پڑھے ہوئے ہیں، اس لئے عربی روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ کے دوران میں نے کہا کہ الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں، وہ آغاز سے اپنے عمل کی ابتدا کرنا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ وہ لفظی شور وغل اور بے فائدہ ٹکراؤ کے سوا امت کو کوئی اور چیز نہیں دے سکے۔ وہ ہر جگہ "نظام" کو توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں کے مزاج اور طرز فکر کو بدلا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مگر فکر بدلنے کے تمام بڑے بڑے ذرائع (اسکول ، ریڈیو، ٹیلیویژن، اخبارات وغیرہ) سب حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ پھر حکومت کو بدلے بغیر طرز فکر کو بدلنے کا کام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک زبردست مغالطہ ہے جس میں موجودہ مسلم مفکرین پچھلی نصف صدی سے مبتلا ہیں۔ حالانکہ واقعات نے اس کا بے معنی ہونا آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔

میں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں مکمل اقتدار ملا ۔ اور سید ابو الاعلیٰ مودودی سمیت تمام اسلام پسند لوگوں نے ان کی تائید کی۔ ضیاء الحق صاحب ساڑھے گیارہ سال تک، آپ کے الفاظ میں، فکر بنانے والے تمام اداروں پر مکمل قبضہ کر کے اس کو افکار بدلنے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ حتی کہ انھوں نے جماعت اسلامی کے افراد کو ان شعبوں کا چارج دیدیا۔

مگر ساڑھے گیارہ سال کی کوشش کے باوجود دادنی درجے میں بھی لوگوں کی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج پاکستان کا ذہن پہلے سے بھی زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ضیاء الحق صاحب کی موت کے فوراً بعد جو عوامی الیکشن ہوا، اس میں پاکستان کے عوام نے ضیاء الحق کے دور کے تمام افراد کے خلاف ووٹ دے کر انہیں ہرا دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دورِ اول کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ بنایا۔ اس کا نام ذہن کی تبدیلی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینے کے لوگ عبداللہ بن ابی جیسے کسی شخص کو اپنا حکمران بنا لیتے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک وہاں کے لوگوں کے ذہن کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورتِ ضیاء الحق صاحب کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیش آئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تعمیرِ فکر کا کام ایک خالص غیر سیاسی کام ہے۔ وہ حکومت واقتدار کے باہر انجام دیا جاتا ہے نہ کہ حکومت واقتدار کے اندر۔

امنی کی صبح کو ہمارا قافلہ تو با (Touba) کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں سینیگال کے سب سے بڑے صوفی رہتے ہیں۔ ان کا نام شیخ عبد القادر مباقی (M'Backe) ہے۔ وہ طائفہ مرید یہ کے پیر اس حلقہ کو احمد بامبا نے قائم کیا تھا۔ ان کی رہائش گاہ کے دروازہ پر مسکن الشیخ الخدیم لکھا

بزرگ اپنے لباس اور حلیہ کے اعتبار سے اسی روایتی انداز میں تھے جو ہندوستان کے بزرگوں کا انداز ہے۔ مگر ان کا وسیع مرکز پورے معنوں میں ”ماڈرن“ تھا۔ میز، قالین صوفہ سٹ، ٹیلی فون، غرض ہر چیز موجود تھی۔ مجھے حمام (ٹائلٹ) میں جانے کا اتفاق ہوا۔ حمام خالص مغربی طرز کا بنا ہوا تھا۔ جتنی دیر ہم لوگ شیخ کے پاس رہے، ٹیلی وژن کا عملہ مسلسل ہر چیز کو ریکارڈ کرتا رہا۔ وسیع کمرہ ملاقات ٹیک لکڑی کا منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ ایک بڑی کرسی بزرگ کے لئے تھی جن کو یہاں الشیخ الاکبر کہا جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آئے۔ ایک بات نے خاص طور پر مجھے سوچنے کا موقع دیا۔ وہ یہ کہ شیخ اپنی شخصیت (پرسنلٹی) کے اعتبار سے نہایت غیر جاذب تھے۔

میں نے سوچا کہ اس کا راز کیا ہے کہ سینیگال کے لاکھوں لوگ ان پر فدا ہیں اور صدر ریاست ان کو خصوصی سلام بھیجو آتے ہیں۔ اس کا راز کئی سو سال کی تاریخ ہے۔

پہلے شیخ جو اپنے کو خادم رسول اللہ کہتے تھے، وہ اس مقام (توبا) میں آئے۔ خدمت اور تقدس کی تاریخ بنائی۔ اس کے بعد مختلف بزرگ اس تاریخ میں اضافہ کرتے رہے۔ اس طرح تقدس کی ایک لمبی تاریخ ہے جس کے اوپر موجودہ بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ تمام "شیوخ" کا حال بھی یہی ہے ۔ ہر ایک کسی قدیم ادارہ یا قدیم تحریک کی بنائی ہوئی تاریخی روایات کی زمین پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایک ہے خود ایک تاریخ بنانا، اور دوسری چیز ہے سابقہ تاریخ کو استعمال کرنا۔ بعد کو آنے والا زمین کے اوپر جگہ پاتا ہے، مگر تاریخ بنانے والے کے حصہ میں جو چیز آتی ہے، وہ یہ کہ وہ زمین کے نیچے دفن ہو کر رہ جائے ۔ طوبی میں ایک افریقی احمد بکی میرے قریب آئے۔ انھوں نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں۔ نے ہتا یا کہ ہند سے۔ وہ عربی میں کلام کر رہے تھے۔ انھوں نے الاسلام تجد دی کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ کیا آپ اس کتاب کے مصنف کو جانتے ہیں۔ کیا وہ زندہ ہیں (هل تعرف مولف هَذَا الكتاب، ا ھوجی)، میں خاموش رہا۔ انھوں نے کہا آپ عربی نہیں سمجھتے ہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ میں ہی اس کا مصنف ہوں ۔ وہ بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیتے رہے۔

اس قسم کے واقعات میرے ساتھ ہر سفر میں پیش آتے ہیں۔ یہاں مکتبۃ الشیخ“ میں جانا ہوا۔ اس کے لائبریرین ہم لوگوں کو لائبریری کا ایک حصہ دکھا رہے تھے۔ وہ ایک الماری کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ہمارے پاس ہر موضوع کی کتابیں ہیں ۔ یہ کہہ کر انھوں نے چند کتابیں نکال کر دکھائیں۔ نے ایک کتاب نکالی اور دکھاتے ہوئے کہا: هذا الاسلام يتحدى للمفكر الاسلامي الكبير وحيد الدین خان ۔ لائبریرین کے اس جملہ کو سن کر میرے ساتھی ہنس پڑے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مصنف یہ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔

اس لائبریری کے ایک حصہ میں شیخ کی تالیفات مجلد کر کے رکھی ہوئی ہیں۔ کچھ مطبوعہ اور بیشتر یہ تالیفات عقائد اور تصوف و غیرہ موضوعات پر ہیں۔ ایک کتاب میں نے دیکھی ۔ اس میں تصوف اور صوفی پر بحث تھی۔ صوفی کی تعریف یہ کی گئی تھی کہ صوفی وہ ہے جو انسانوں سے منقطع ہو کر اللہ سے متصل ہو جائے ۔

(عربی الفاظ یاد نبیں)

امنی کی شام کو کھانے کی میز پر دو افریقی نوجوان تھے۔ ایک کا نام شیخ احمد تیجانی کو تا تھا۔ نام میں نہ پوچھ سکا۔ دوسرے ساتھی سے میں نے پوچھا کہ آپ تیجانیے سے تعلق رکھتے ہیں یا مرید یہ سے۔ نے مسکرا کر کہا کہ دونوں میں سے کسی سے بھی نہیں۔ اس کی بعد انھوں نے کہا کہ اس وقت سینیگال کے گھروں کا یہ حال ہے کہ ماں اور باپ تو ان دو میں سے کسی ایک طائفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر سینیگال کی نئی نسل ان باتوں میں یقین نہیں رکھتی۔ نوجوان نسل دونوں سے کٹتی جارہی ہے۔

میں طوبی کی مسجد کو دیکھ رہا تھا کہ ایک صاحب مجمع سے نکل کر میری طرف آئے۔ وہ میرا نام وغیرہ میں نے کہا کیا آپ نے میری عربی کتا ہیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کو میرے بارہ میں پوچھنے کا خیال کیوں یا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں جب میں نے مجمع کو دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ کو منتخب کر لیا۔ کیوں کہ آپ کے چہرہ میں مجھے اسلامی عظمت دکھائی دی (لماً رأيت الوجوه فقد اخترت وجهكم لِمَا تُوْحِيْ من العظمة الاسلامية)

امنی کی صبح کو جزیرہ گورے (Goree) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ دکار سے پانچ کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جدید طرز کی مشینی کشتی جب ہم لوگوں کو لے کر سمندر کی موجوں کے اوپر تیزی سے چلنے لگی تو بے اختیار میری زبان پر یہ آیت آگئی: ولقد کرمنا بني آدم وحملناهم فی البر والبحر (۷۱ / ۷۰)

جانور اپنے پیروں کے ذریعہ زمین پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالی نے انسان کو گھوڑے کے پیٹھ پر سوار کر کے خشکی کا سفر کرایا۔ مچھلیاں اپنی جسمانی محنت سے سمندر میں تیرتی ہیں، اللہ تعالی نے انسان کو کشتیوں پر بٹھا کر سمندر کی سطح پر رواں دواں کیا۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ فضا میں اڑتی ہیں۔ نے انسان کے لئے ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضا میں اڑنے کا انتظام کیا۔ یہ کیسا عجیب "کرمنا" کا معاملہ ہے جو انسان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں کے لئے حقیقی طور پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوں۔ شکر یہ ہے کہ آلاء اللہ کو سوچ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور پھر زبان سے نکلے کہ خدا آیا تیرا شکر ہے محض شک رکود دہرانے کا نام شکر نہیں۔

جزیرہ میں کار وغیرہ نہیں ہوتی۔ یہاں لوگ پیدل چلتے ہیں۔ اس لئے یہاں فضائی کثافت کا وجود نہیں ہے۔ پورا جزیرہ نہایت پرسکون اور خوشگوار ہے۔ اس جزیرہ کے تمام مکانات قدیم یورپی طرز کے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں لوگوں نے سب سے پہلے اس جزیرہ کو آباد کیا تھا۔ سب سے پہلے ۱۶۴۲ء میں ہالینڈ کے لوگ اس جزیرہ میں آئے۔ پھر پرتگالی اور فرانسیسی آئے۔ سب سے آخر میں انگریز آئے۔ انگریزوں نے جزیرہ گورے پر قبضہ کر لیا۔ فرانس کا قبضہ گامبیا پر تھا۔ دونوں میں تبادلہ ہوا۔ گامبیا کو فرانس نے انگریزوں کے لئے چھوڑ دیا۔ اور اس کے بدلے میں انگریزوں نے جزیرہ گورے کو فرانس کے حوالہ کر دیا۔ آجکل اس جزیرہ میں کل دو ہزار آدمی رہتے ہیں۔ جزیرہ گورے میں جو چیزیں دیکھیں، ان میں ایک وہ مکان (سلیو ہاؤس) تھا، جو غلاموں کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس میں نیچے کے حصہ میں نہایت تنگ قسم کی کوٹھڑیاں تھیں جن میں غلام پکڑ کر بند رکھے جاتے تھے اور سمندر کے راستہ سے روانہ کئے جاتے تھے۔ اور مکان کے اوپر کے حصہ میں کشادہ اور آرام دہ یہاں یورپ کے سفید لوگ ٹھہرتے تھے جو غلاموں کی خرید و فروخت کے کاروبار کے لئے یہاں آتے تھے۔

غلاموں کی کوٹھری کو میں نے ناپ کر دیکھا تو کوئی تین متقدم چوڑی اور چار قدم لمبی تھی اور کوئی چار قدم چوڑی اور آٹھ قدم لمبی۔ ان چھوٹی کوٹھریوں میں ایک سو اور دوسو آدمی جانوروں سے بدتر انداز میں بھر دئے جاتے تھے۔ انھیں دن میں صرف ایک بار قضائے حاجت کے لئے نکالا جاتا تھا۔ زمانہ کے بہت سے سامان اب بھی موجود ہیں۔ مثلاً لوہے کی وہ ہتھکڑی جس میں انھیں باندھ دیا جاتا تھا۔ اس قسم کی بہت سی وحشیانہ چیزیں تھیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔

غلاموں کا یہ گھر پندرھویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ اس زمانہ میں امریکہ کی دریافت نے غلاموں کی تجارت (Slave trade) بہت بڑھا دی۔ امریکہ میں زرخیز زمین بہت تھی۔ کام کے لئے آدمی نہیں تھے۔ چنانچہ یورپی قوموں نے افریقہ سے غلاموں کو پکڑ کر وہاں بھیجنا شروع کیا تاکہ وہ زرعی مزدور کے طور پر استعمال کئے جا سکیں۔ یہ لوگ کالے انسانوں کو ایک قسم کا حیوان سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ افریقہ آکر اس طرح ان کو پکڑتے تھے، جیسے جنگلوں میں جانور پکڑے جاتے ہیں۔ نہایت وحشیانہ اور بے دردانہ انداز میں ان کو سمندری جہازوں میں بھر کر امریکہ لے جا کر نہیں

اس غیر انسانی تجارت میں ڈچ ، پرتگالی ، فرانسیسی ، انگریز سب شریک تھے۔ جزیرہ گورے میں قدیم طرز کی مگر صاف ستھری خوب صورت مسجد ہے۔ اس میں کوئی گنبد مسجد کے ایک طرف پہاڑی ہے اور دوسری طرف سمندر ۔ یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد اور پھر امام سے ملاقات کی۔ امام صاحب نے بتایا کہ یہ مسجد افریقہ کی چند قدیم مسجدوں میں سے ایک ہے۔

نئی دہلی میں سینیگال کے سفارت خانہ کی طرف سے کچھ تعارفی لٹر یچر دیا گیا تھا۔ پمفلٹ میں جزیرہ گورے کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ یہاں غلام گھر ہے جس کا دروازہ سمندر کی طرف کھلتا ہے۔ یہ انسان کے اوپر انسان کے ظلم کی ایک دہشت ناک یاد دہانی ہے : The slaves house with its door opened on the ocean is a terrible reminder of the cruelty of men towards men. ان الفاظ کو پڑھ کر صرف یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جزیرہ گورے میں کوئی عمارت ہے جس کو " غلام گھر " کہا جاتا ہے ۔ مگر جب میں نے وہاں جا کر غلام گھر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور زنجیریں اور دوسری چیزیں دیکھیں تو اندازہ ہوا کہ واقعی سیاہ فام لوگوں کے ساتھ کتنا زیادہ ظلم کیا جاتا رہا ہے تاہم یہ مشاہدہ بھی آخری نہیں ۔ اس سے زیادہ دہشت ناک مشاہدہ وہ ہو گا جب کہ آدمی اس وقت وہاں موجود ہو جب کہ یہ انسانیت سوز واقعہ ہو رہا تھا ۔ وہ اپنی آنکھوں سے سیاہ فام لوگوں کے ساتھ عملاً حیوانی سلوک ہوتے ہوئے دیکھے۔ موجودہ زمانہ میں اہل مغرب نے " نیگرو " اور دوسرے ناموں سے کچھ فلمیں بنائی ہیں۔ ان میں ایکٹنگ کے ذریعہ وہ تمام قدیم مناظر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مگر یہ دیکھنا بھی آخری نہیں دیکھنا نہیں۔ اس سے بڑا اور آخری مشاہدہ وہ ہے جب کہ کوئی شخص دونوں کی اندرونی حالت کو دیکھ سکے ۔ ایک طرف وہ سفید فام لوگوں کے اندرون کو دیکھے کہ کس شقاوت کے ساتھ وہ اس فعل کو انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ سیاہ فام مظلوموں کے دلوں کی حالت جان سکے کہ کس طرح ذلت اور ظلم کی اس ناقابل برداشت صورت کو وہ برداشت کر رہے ہیں۔

یہ آخری حقیقت صرف خدا دیکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے سوا کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ انسانوں کا عادلاً نہ حساب کر سکے۔

الٹی کو جمعہ کا دن تھا۔ نماز کے لئے ہم لوگ دکار کی جامع مسجد میں لے جائے گئے۔ یہ مسجد جامع قرویین کے طرز پر بنی ہوئی تھی، اس کا ہر جزو، دہلی کی مساجد سے مختلف تھا۔ اندر داخل ہوا تو وسیع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ گیٹ پر عمومی اعلان ہو رہا تھا کہ جوتا اپنے ہاتھ میں میں بھی جوتا اپنے ہاتھ میں لے کر اندر داخل ہوا۔

میزبانوں کی رہنمائی میں ہم لوگ آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک پہلی صف میں پہنچ گئے۔ میں ایک افریقی بزرگ نے جوتا میرے ہاتھ سے لے لیا۔ میں اس قسم کے تکلف سے گھبراتا ہوں ۔ کیوں کہ نماز کے بعد اگر وہ صاحب مجھے نہ ملیں تو دوسرے کے رکھے ہوئے سامان کو تلاش کرنا میرے لئے سخت مشکل ہو جائے گا۔ مگر جب میں نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو مذکورہ افریقی میرا جوتا لئے ہوئے میرے پیچھے موجود تھے۔

میں اگلی صف میں امام کے قریب تھا۔ سنت پڑھ کر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک گڑ گڑاہٹ کی آواز ہوئی ۔ میں نے سمجھا کہ مسجد کی چھت کے اوپر سے شاید کوئی ہیلی کاپٹر گزر رہا ہے۔ دیکھا تو "دیوار" کے اندر سے ایک بہت بڑا لکڑی کا ڈھانچہ برآمد ہو رہا تھا۔ یہ منبر تھا۔ بھاری بھاری موٹی لکڑیوں سے منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ وہ ریل کے ڈبے کی طرح لکڑی کے پہیہ پر ہوتا ہے۔ اس کو دیوار کے پیچھے ایک مخصوص کمرہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور خطبہ کے وقت کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو اس سے پہلے میں نے جامع قرویین میں

امام صاحب منبر پر بیٹھے تو حسب معمول مسجد کے اندر موذن نے کھڑے ہو کر دوسری اذان اذان ختم ہوئی ۔ میں آغاز خطبہ کا منتظر تھا۔ مگر میں نے دیکھا کہ امام صاحب بدستور بیٹھے ہوئے اتنے میں مسجد کے ایک گوشہ سے "اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی ۔ میں متحیر تھا کہ یہ کیا ہے میرے ساتھی نے اپنے ہاتھ کی تین انگلیاں اٹھا کر اشارہ کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہاں خطبہ سے پہلے تین اذانیں دی جاتی ہیں۔ چنانچہ ایک کے بعد ایک تین اذانیں ہوئیں۔ اس کے بعد امام

سوویت روس کی حکومت کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سوویت روس کا سفر کیا۔ یہ سفر ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء کو شروع ہوا۔ اس سلسلہ میں وہ ماسکو اور تاشقند گئے۔ اس کی تفصیلی رو داد انشا اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

دہلی کے ہندی اخبار جن ستہ کے نمائندہ مسٹر ایس کرمانی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو جن ستہ کے شمارہ ۳ جولائی ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ہے۔ جن ستہ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کا ہندی ایڈیشن ہے۔

نئی دہلی میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی پر ایک آل انڈ یاسیمینار ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کے منتظمین کی دعوت پر ۵ اگست ۱۹۹۰ء کو اس کی ایک نشست میں شرکت کی اور مولانا حفظ الرحمن اور علماء ہند کے کارناموں کی بابت ایک تقریر کی۔ خاص طور پر یہ بتایا کہ موجودہ ہندوستان میں ان علماء کے رول کی اہمیت کیا ہے۔

اردو اکادمی نے دہلی کی ۲۷ لائبریریوں میں اپنی طرف سے الرساله اردو جاری کرایا ہے۔ بہت بڑا تعاون ہے۔ اس کے لئے ہم اردو اکیڈمی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ اس کے ذریعہ سے سیکڑوں نئے لوگ الرسالہ سے استفادہ کر سکیں گے۔

احمد آباد سے ایک گجراتی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام چھپا پلیٹن ہے۔ اس پر چہ میں ایک مستقل کالم ہے جس کا عنوان ہوتا ہے" میری آواز سنو"۔ اس عنوان کے تحت ہر مہینہ الرسالہ کا کوئی مضمون گجراتی میں ترجمہ کر کے شائع کیا جاتا ہے۔ ماہنامہ اشاعت کا یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔ یہ بات پروفیسر فرید محمد محمود جی بلو والانے ۱۷ جون ۱۹۹۰ء کی ملاقات میں بتائی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہمارے قارئین سب سے پہلے اسی کالم کو پڑھتے ہیں۔

لئیق محمد خاں صاحب ( بنگلور ) نے بتایا کہ بنگلور میں انھوں نے قارئین الرسالہ کا ایک حلقہ بنایا اس کے تعاون سے وہ لوگ مختلف دعوتی کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً وہ الرسالہ اردو اور انگریزی کے منتخب مضامین کی فوٹو کاپیاں تیار کرتے ہیں اور ہاکر کے ذریعہ ان کاپیوں کو اخبارات میں ڈال کر لوگوں کے گھروں میں پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح اور دوسرے طریقہ سے الرسالہ مشن کو

لوگوں تک پہنچارہے ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے ۲۰ جون ۱۹۹۰ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا جو ایکسٹرنل سروسز سے نشر کیا گیا۔ یہ انٹرویو ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ انٹرویو آل انڈیا ریڈیو کے مسٹر مجیب صدیقی سوالات زیادہ تر برصغیر ہند کے مسلمانوں کے موجودہ مسائل سے متعلق تھے۔ کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے۔

جناب حبیب بھائی (حیدر آباد) نے بتایا کہ ایک روز وہ الرسالہ ہاتھ میں لئے ہوئے اس کو پڑھ ایک صاحب نے دیکھ کر پوچھا کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ الرسالہ کیا ہے۔ حبیب بھائی نے کہا کہ ”یہ مارل بلڈر ہے“ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کے قارئین الرسالہ کو کیا حیثیت دیتے ہیں۔

محمد ریاض الحنفی (نیو جرسی) ایک امریکی مسلمان ہیں۔ ان کی مادری زبان انگریزی ہے۔ نے اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں پڑھی ہیں اور انگریزی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم ایک ورلڈ آف لاجک میں رہ رہے ہیں۔ اور اسلامی مرکز کی مطبوعات اسی آج کی زبان میں اسلام کی دعوت کو پیش کرتی ہیں۔ مغربی دنیا کو آج ایسی ہی کتابوں کی ضرورت ”گاڈار اینڈ زہ“ کے بارہ میں انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: Before reading this book I knew that Islam was correct, but after reading I now know why Islam is correct. مولانا محمد شعیب کوٹی سعودی عرب سے لکھتے ہیں : میں کئی سال سے شرورہ میں ہوں۔ عرب میں یمن کی سرحد پر واقع ایک شہر ہے۔ میں اپنے ذرائع سے الرسالہ کے اردو اور انگلش دونوں ایڈیشن حاصل کرتا ہوں ۔ یہاں شرورہ میں الرسالہ کے پڑھنے والوں کا حلقہ خاصا وقیع اور وسیع ہے۔ اس سے پہلے میں تبوک میں تھا تو وہاں بھی کئی حضرات سے الرسالہ کا تعارف میں کوشش میں ہوں کہ پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ اپنے ساتھ کام کرنے والے فلپینو حضرات کو مطالعہ کراؤں۔ اس سے پہلے وہ لوگ الرسالہ انگریزی کے کئی شماروں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔

اسلامی مرکز کی مطبوعات ہدیہ ارسال کرنے کے لیے ہمیں دینی درسگاہوں، اردو لائبریریوں، اسکولوں اور کالجوں کے پتے مطلوب ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے علاقے میں واقع دینی مدارس اور دوسرے علمی اداروں کے پتے مختصر تعارف کے ساتھ ارسال فرمائیں۔ اگر اداروں کے ذمہ دار حضرات کو اس پہلو پر توجہ دلاکر ان کا مطبوعہ تعارف نامہ روانہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ مئی ۱۹۹۰ ہماری بستی کے قاری دلشاد احمد رحیمی لے کر آئے جو بیت العلوم پپلی مزرعہ) میں مدرس ہیں۔ موصوف نے مسجد میں تمام مقتدیوں کو کئی روز تک بعد نماز سنایا۔ اس کے مضامین سے دل بے چین ہوا اور سمجھا کہ الرسالہ سے وابستگی ایک دینی حمیت اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انشاء اللہ میں اس کو ضرور اپنے حلقہ احباب میں پہنچاؤں گا (عطاء الرحمن پر دھان، بیہٹ)، اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ کا صرف ایک شمارہ دیکھ کر اس سے متاثر ہو گئے اور اس کو پڑھنے اور پڑھانے میں لگ گئے۔ مولانا خلیل احمد امین (ترکیسر) کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ وہ الرسالہ کے صبر و اعراض کے اصول سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں مسلسل لوگوں کو اس کی نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جو الرسالہ سے متفق ہو کر ان باتوں کو عوام کے اندر پھیلا رہے ہیں۔ والحمد للہ علی ذالک ۱۴ محمد نور عالم صاحب (سمستی پور) نے بتایا کہ وہ ایجنسی کے طور پر الرسالہ کی پانچ کاپی منگاتے ہیں ایک پرچہ اپنے پاس رکھ کر بقیہ چار پرچے لوگوں کو تقسیم کر دیتے ہیں، خواہ وہ قیمت دیں یا بہت سے دوسرے لوگ بھی اسی طرح کر رہے ہیں۔

۱۵ ڈاکٹر عمر خالدی بوسطن (امریکہ) کی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ آجکل وہ " ہندوستانی مسلمان اور سیاست" کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ ۸ اگست ۱۹۹۰ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔

Printed page