Al-Risala · February 1990

روشن پہلو

Al-Risala, February 1990, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

مدراس میں ۷۰ ولیج روڈ پر ایک مسجد بنائی گئی ہے۔ یہ مسجد مسلم ویلفیر ایسوسی ایشن کے زیر انتظام اس مسجد پر اذان کے لیے لاوڈ اسپیکر لگایا گیا تو علاقے کے کچھ ہندوؤں کو اس پر اعتراض ہوا۔ نے پولیس سے شکایت کی کہ لاوڈ اسپیکر پر اذان سے ہمارے گھروں اور ہمارے مندروں کے سکون میں خلل واقع ہوتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو لاوڈ اسپیکر پر اذان دینے سے روکا جائے ۔ پولیس نے اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس کے بعد ایک مقامی ہندو نے مدراس ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اور عدالت سے درخواست کی کہ لاوڈ اسپیکر کی اذان مقامی ہندوؤں کے لیے تکلیف (Nuisance) کا باعث ہے، اس لیے اس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا جائے ۔

جسٹس بک تھاوت سولم نے دونوں فریقوں کے بیانات سننے کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۸۹ کو اپنا انھوں نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عدالت کو مداخلت کرنی چاہیے ۔ مدعی کے دلائل میری نظر میں تشفی بخش نہیں ہیں ۔ ایک جمہوری ملک میں ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرے ۔ اس طرح کے معاملات میں ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل اور رواداری (Tolerance) ہو ، خاص طور پر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب پر عمل کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ اس بنا پر میں نہیں سمجھتا کہ مدعی کی درخواست قابل لحاظ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسجد میں لاوڈ اسپیکر کا استعمال عین قانون کے مطابق ہے ۔ اظہار خیال کے ساتھ مدعی کی درخواست خارج کی جاتی ہے :

With these observations, the writ petition will stand dismissed. مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ مکمل اور اصلی صورت میں الرسالہ انگریزی (دسمبر ۱۹۸۹) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں اگر کچھ لوگ متعصب اور فرقہ پرست ہیں تو یہاں ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جو بے تعصب اور انصاف پسند ہیں۔ مزید یہ کہ یہ دوسرے لوگ اس حد تک طاقت ور ہیں کہ وہ پہلے گروہ کے ارادے کو عملی میں آنے سے روک دیں ۔

Printed page