Karl Marx makes room for Muhammad
Al-Risala, December 1990, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
جمہوریت اور آزادی کے انقلاب کے نتیجہ میں مذہبی اشاعت کی مکمل آزادی، سوویت روس میں میخائیل گورباچیف کی لائی ہوئی تبدیلیوں کے بعد مذہب کے لئے آزادانہ مواقع کھلنا، جدید وسائل اعلام کے ذریعہ یہ ممکن ہو جانا کہ ساری دنیا کے تمام لوگوں تک اسلام کا پیغام حق پہنچایا جا سکے، یہ واقعات واضح طور پر یہ اشارہ کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانہ کے لئے اسلام کی عمومی
اشاعت کی جو پیش گوئی فرمائی تھی، اس کا وقت پوری طرح آچکا ہے۔
خدا نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اب اہل ایمان کو اپنے حصہ کا کام کرنا ہے۔ خدا اپنے منصوبہ کے مطابق ضروری مواقع مہیا فرماتا ہے۔ اس کے بعد خدا کے مومن بندے اٹھتے ہیں اور ان مواقع کو استعمال کر کے اس منصوبہ کی تکمیل کرتے ہیں۔
ساتویں صدی میں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ختم شرک کے منصوبہ کے لئے تمام ضروری مواقع جمع کر دیے رسول اور اصحاب رسول نے ان مواقع کو استعمال کر کے خدا کے منصوبہ کو عملی واقعہ بنایا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی عمومی اشاعت کے لئے اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے ، اس کے تمام ضروری اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں۔ خدا نے دوبارہ اپنا کام کر دیا ہے۔ اب خدا کے بندوں کو اٹھنا ہے اور پیدا شدہ مواقع اور اسباب کو استعمال کر کے دوبارہ خدا کے منصوبہ کو عملی طور پر مکمل کر دینا ہے۔ خدا کا دین قرآن کی زبان میں آواز دے رہا ہے کہ مَنْ اَنصاری الی اللہ ۔ اہل ایمان کو اس کے جواب میں کہنا ہے کہ نَحْنُ اَنصَارُ اللہ ۔ یہ تاریخ کا نازک ترین لمحہ ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس لمحہ کو پہچانیں اور اپنا سب کچھ اس کی بجا آوری میں لگا دیں۔