سبب یہاں ہے
Al-Risala, December 1990, pp. 9–13
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۷ مارچ ۱۹۹۰ کو میں دہلی سے ایک بیرونی سفر پر روانہ ہوا۔ اردن ائیر لائنز پر سفر کرتے ہوئے اس کا انفلائٹ میگزین الاجنہحۃ (مارچ ۱۹۹۰) پڑھنے کو ملا۔ اس کے صفحہ ۵۸ پر ایک عرب خاتون یما نبیل کا مضمون چھپا ہوا تھا۔
مذکورہ عرب خاتون اسپین (غرناطہ) گئیں۔ وہاں انھوں نے عرب دور کے آثار دیکھے۔ عظمتِ آثار کو دیکھ کر وہ رو پڑیں۔ یہاں انھوں نے تاریخ النصر العربی کو بھی دیکھا اور تاریخ الذل العربی انھوں نے کہا کہ کبھی عرب کی عظمت یہاں تھی، اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع وہ اپنے دل سے پوچھتی رہیں کہ عرب کی یہ رات کب تک باقی رہے گی (إلَى متی سسٹم ھذا
سفر سے واپس آیا تو ڈاک میں دہلی کا سہ روزہ دعوت (۲۸ مارچ ۱۹۹۰) موجود تھا۔ اس کے پہلے صفحہ کے مضمون کی سرخی ان الفاظ میں چھپی ہوئی تھی: اسلامی دنیا آخر اتنی بے سہارا ، بے وقعت اور بے وزن کیوں بن کر رہ گئی ہے۔
اس قسم کے مضامین آج مسلم دنیا کے کسی بھی پرچہ اور کسی بھی میگزین میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ حال سے متاثر ہوکر مشہور عرب ہفتہ وار الدعوۃ نے اپنے شمارہ ۱۲ ذی القعدہ ۱۴۰۵ھ (۲۹ جولائی ۱۹۸۵) میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس میں موجودہ حالات کا ذکر تھا۔ اس مضمون کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا گیا تھا: آلیس للـدين رب يحيمه (کیا اس دین کا کوئی رب نہیں جو اس کی مدد کرے) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ پست اور حقیر اور مغلوب قوم بن گئے ہیں۔ ان کا یہ حال صرف ان ملکوں میں نہیں ہے جہاں وہ اقلیت کی حیثیت سے آباد ہیں۔ ان کا یہی حال ان ملکوں میں بھی ہو رہا ہے جہاں وہ اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں اور جہاں بنطا ہر ان کی آزاد حکومتیں قائم ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کی کس کمی کی بنا پر ان کا یہ حال ہو رہا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو آج مسلمانوں کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ بظاہر ان کے پاس دین اور دنیا دونوں ہمیشہ سے زیادہ
مقدار میں موجود ہیں ۔
آج دنیا میں مسلمانوں کے ۵۶ با اختیار ممالک ہیں ۔ مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ایک ارب ہے۔ یہ تعداد ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے مسلمانوں کے درمیان آج ہمیشہ سے زیادہ مسجدیں اور مدرسے ہیں ۔ ۱۹۲۵ میں حج کا فریضہ ادا کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم (90,622) تھی ۔ ۱۹۹۰ میں جن مسلمانوں نے حج ادا کیا ، ان کی تعداد پندرہ لاکھ (1,500,000) ہے ، جب کہ اس سال ایرانی مسلمان حج کے لئے نہیں آئے تھے ۔
قرآن اور حدیث اور دوسری اسلامی کتابیں آج اتنی زیادہ مقدار میں ہیں کہ ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خدا اور رسول کے نام پر آج جتنے جلسے اور سیمینار اور کانفرنسیں ہو رہی ہیں ان کی تعداد ساری انسانی تاریخ میں ہونے والے تمام جلسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے ۔ ایسے اسلامی اجتماعات منعقد کر رہے ہیں جن میں ۲۵ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی بیک وقت جمع ہوتے ہیں ، جب کہ رسول اللہ کے آخری اجتماع (حجتہ الوداع ، میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی کل تعداد بمشکل سوا لاکھ تھی۔ آج اسلامی نظام قائم کرنے کے نام پر اتنے ہنگامے جاری ہیں کہ اگر تمام انبیاء کی مجموعی آوازیں اکٹھا کی جائیں تو ان کی آوازیں اس کے مقابلہ میں دب کر رہ جائیں گی ۔ آج مسلمانوں نے اتنے بڑے بڑے اکابر پیدا کر رکھے ہیں جن میں سے کوئی ” عہد آفریں شخصیت کا حامل ہے اور کسی کے متعلق اس کے معتقدین یہ اعلان کر رہے ہیں کہ :
ہمارے حضرت والا کے فیض سے یارو تمام عالم اسلام جگمگا رہا ہے یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے پاس وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ اس کے باوجود وہ ساری دنیا میں پست اور حقیر ہو رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سب کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جو مسلمانوں کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچاتی ہے ، اور وہی چیز آج ان کے پاس موجود نہیں ۔
اگر آپ اسلام کی مطلوبہ چیزوں کی فہرست بنا کر اس معاملہ پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں اگر چہ تمام چیزیں موجود ہیں ، مگر ایک چیز ان کے درمیان سے مکمل طور پر غائب ہے ، اور وہ دعوت ہے ۔ بدقسمتی سے جو چیز حذف ہوئی وہی اس معاملہ میں اصل اہمیت رکھتی تھی : یہاں ورق کہ سیہ گشته مدعا این جا است
آج مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر دعوت ہی ایک ایسا کام ہے جس کا ان کے یہاں سرے سے کوئی وجود نہیں۔ اس معاملہ میں ان کی دوری کا یہ حال ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کام کرتے ہیں اور اس پر دعوت کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کی اصلاح کے کام کو دعوت بتا رہا ہے کوئی اپنے قومی فخر کے اظہار کو دعوت کا نام دئے ہوئے ہے۔ کوئی دوسری قوموں سے قومی اور مادی جنگ لڑتا ہے اور اس کو دعوت کا عمل قرار دیتا ہے۔ کوئی شاعری اور خطابت کے مظاہرے کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ دعوت کا کام انجام دے رہا ہے۔ دعوت در اصل دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ یعنی اقوامِ عالم کو خدا کی مرضی سے آگاہ کرنا۔ انھیں آنے والے دن سے باخبر کرنا۔ کے اُس منصوبہ کی اطلاع دینا جو خدا نے زندگی اور موت کے بارہ میں مقرر فرمایا ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ خدا کے بندوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستہ پر لگانے کی کوشش کا نام دعوت ہے۔ دعوت کا یہ عمل ہمیشہ محبت کی زمین پر اگتا ہے۔ دعوت کا کام وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو انسانوں کے انجامِ آخرت کو سوچ کر تڑپ اٹھے ہوں اور انھیں خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے دیوانہ وار نکل پڑیں۔ مدعو کو محبوب بنائے بغیر کبھی دعوت کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے ذلت اور ہزیمت کا تجربہ ہوا۔ تجربے نے مسلمانوں کے دلوں میں دوسری قوموں کے لئے نفرت پیدا کر دی۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن یا حریف کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے لئے محبت کا موضوع نہ رہیں، وہ صرف نفرت کا موضوع بن کر رہ گئیں۔ یہی وہ اصل سبب ہے جس نے مسلمانوں سے داعیانہ جذبہ کو چھین لیا۔ اور ان کے درمیان دعوتی عمل کو زندہ ہونے نہیں دیا۔
دینِ رحمت کی پیغام رسانی کے لئے داعی کے اندر محبت و شفقت کا جذبہ ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ کوئی شخص ایسے لوگوں کے اوپر دعوت کے فرائض انجام نہیں دے سکتا جو اس کی نظر میں مبغوض بنے ہوئے ہوں۔ مسلمانوں نے دوسری قوموں سے نفرت کر کے اپنے اندر داعیانہ صلاحیت کھودی ہے۔ میں ان کا دعوت کا نام لینا صرف ایک مذاق ہے، وہ کسی سنجیدہ ارادہ کا اظہار نہیں۔ دعوت الی اللہ کی لازمی شرط صبر ہے۔ مسلمانوں کو داعی بننے کے لئے سب سے پہلے صابر بننا پڑے گا۔
دوسری قوموں سے خواہ انہیں کتنی زیادہ ناخوشگواریکا تجربہ ہو۔ دوسری قوموں کی طرف سے انھیں خواہ کتنا ہی زیادہ مادی نقصان پہنچایا جائے۔ دوسری قوموں کی جانب سے خواہ انھیں کتنا ہی زیادہ اشتعال انگیزی کا تجربہ ہو، ان سب کے با وجود انھیں دوسری قوموں کا خیر خواہ بنے رہنا ہے۔ انھیں یک طرفہ طور پر تمام ناخوش گوار باتوں کو صبر کے خا میں ڈال دینا ہے۔
یک طرفہ صبر دعوت کے عمل کو انجام دینے کی لازمی شرط ہے۔ اس یک طرفہ صبر کے بغیر مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں پر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرسکیں۔ اور جب تک مسلمان اپنی دعوتی ذمہ داری کو انجام نہ دیں، ان کے حالات کبھی بدلنے والے نہیں۔ کوئی دوسرا عمل خواہ کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے، وہ ان کے احوال کو بدلنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
دعوت الی اللہ کی ذمہ داری اتنی سنگین ہے کہ اس میں معمولی کو تاہی بھی اللہ تعالی کے یہاں ناقابل قبول ہے، کجا کہ اس کو مستقل طور پر ترک کر دیا جائے۔
یہ معاملہ سید نا یونس علیہ السلام کی مثال سے بخوبی طور پر واضح ہے۔ حضرت یونس قدیم عراق (نینوا) میں دعوت توحید کے لئے بھیجے گئے۔ انھوں نے اہل نینوا کو دعوت دی۔ مگر ابھی دعوت کا عمل اپنی تکمیل (اتمام) حجت) تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ قوم کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اللہ تعالی کو ان کی یہ روش پسند نہیں آئی۔ ان کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا گیا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اگر وہ اپنی کو تاہی کا اقرار کر کے دوبارہ اپنی مخاطب قوم کی طرف جانے کے لئے تیار نہ ہوتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہتے (الصافات ۱۴۴) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ اس سے کہیں نہ زیادہ سنگین ہے۔ انھوں نے اپنی مدعو اقوام پر دعوت کا عمل سرے سے انجام نہیں دیا۔ بلکہ اپنی نفرت بڑھانے والی سرگرمیوں کے ذریعہ اس کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس غفلت کے نتیجہ میں وہ خدا کی گرفت میں آگئے ہیں۔ وہ آج خدا کے عتاب کی زد میں ہیں۔ وہ تمام زیاد تیاں جن کا تجربہ انھیں دوسری قوموں کی طرف سے ہو رہا ہے اور جس کو وہ دوسری قوموں سے منسوب کرکے ان کے خلاف احتجاج یا ٹکر اؤ کر رہے ہیں، وہ سب یقینی طور پر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ خدا کی تنبیہ ہے نہ کہ دوسری قوموں کا ظلم یا سازش۔
معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ کیوں کہ ایک معاملہ جو خدا کی طرف سے ہو، اس کو آپ انسان کی طرف سے سمجھ لیں تو آپ اس سے خلاصی کی تدبیر کو بھی صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی آخری صورت میں عین وہی ہے جو اپنی ابتدائی صورت میں بلا تشبیہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آج دنیا بھر کے مسلمان "مسائل کے پیٹ" ان کو مسائل کی عظیم مچھلی نے نگل رکھا ہے۔ ان کو فالقمہ الحوت کا تجربہ کرایا جا رہا ہے۔ مسلمان اس پیٹ سے ہرگز نکل نہیں سکتے جب تک وہ دعوت الی اللہ کے معاملہ میں اپنی کوتاہی کی تلافی نہ کریں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اس خدائی کام کے لئے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیں۔ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک اقوام عالم پر خدا کی حجت پوری نہ
اگر مسلمانوں نے اپنی اس کوتاہی کی تلافی نہ کی تو وہ قیامت تک مسائل کے بطن (پیٹ) میں پڑے کوئی دوسرا عمل ، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی اچھا ہو اور کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے ، انہیں اس گرفتاری سے نجات دینے والا نہیں۔ جب گرفتاری کے اس معاملہ کا سبب دعوتی کوتاہی ہے تو دوسرا عمل کیوں کر انہیں اس گرفتاری سے نکالنے والا بن سکتا ہے۔ دوڑنے والوں کو خدا کی طرف دوڑنا چاہئے۔ اگر وہ انسانوں کی طرف دوڑتے رہے تو وہ انسانوں کو بھی کھودیں گے ، اور خدا کو تو وہ پہلے ہی سے کھوئے ہوئے ہیں۔
از: مولانا وحید الدین خاں حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے۔ تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں۔ جب کہ حج خود اللہ تعالی تک پہنچ جانا ہے۔ اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت
(صفحات ۱۱۳ قیمت ۳۰ روپیہ ، مختصر صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ)