پیشگی جانچ
Al-Risala, December 1990, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعات کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل جب اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے تو ابراہیم نے اسماعیل سے کہا کہ اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ پس تم سوچ لو کہ تمہاری رائے کیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ اے میرے باپ ، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس کو کر ڈالئے، انشاء اللہ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں پائیں گے (الصافات ۱۰۲)
اس آیت میں ” صبر “ کا لفظ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے جب اپنے بیٹے اسماعیل کو لٹایا اور اپنے خواب کے مطابق ، ان کی گردن پر چھری چلائی تو اس فعل سے اللہ کا مقصود اسماعیل کو ذبح کرنا نہ تھا بلکہ ان کے صبر کا امتحان لینا تھا۔ کیونکہ خدائی منصوبہ کے مطابق، ان کو عرب کے بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا تھا۔ وہاں مستقل مزاجی کے ساتھ آباد ہونے کے لیے صبر کی غیر معمولی صفت درکار تھی، حضرت اسماعیلؑ نے پیشگی آزمائش کے مطابق یہ ثابت کر دیا کہ یہ ضروری صفت ان کے اندر مکمل طور پر موجود ہے۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ انہیں صحراے عرب میں چھوڑ کر چلے گئے۔
اس واقعہ سے پیغمبرانہ طریق کار کا ایک اہم نکتہ معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ جب کسی شخص یا کسی گروہ کو کسی بڑی مہم میں لگانا ہو تو سب سے پہلے مناسب امتحان کے ذریعہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا اس شخص یا اس گروہ میں وہ مطلوبہ صفت اطمینان بخش مقدار میں موجود ہے یا نہیں جو مہم میں کامیابی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہوگی ۔
بنی اسرائیل کے رہنما نے یہی اصول اپنی قوم کے ساتھ اختیار کیا تھا جب انھوں نے دریا پار کرتے ہوئے اپنی فوج کو حکم دیا کہ کوئی شخص اس سے پانی نہ پئے (البقرہ ۲۴۹) موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا ہر اقدام ناکامی سے دوچار ہوا ہے ۔ اور اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی اہلیت کے بارہ میں کبھی کوئی جانچ نہیں کی۔ انھوں نے پرجوش تقریروں کے ذریعہ قوم کو اکسایا اور اس کے بعد اس کو صحراؤں اور سمندروں میں دوڑا دیا۔