Al-Risala · December 1990

تعمیر کی طاقت

Al-Risala, December 1990, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

مئی ۱۹۹۰ء کا واقعہ ہے۔ کراچی کی ایک سڑک پر دونوں طرف سے گولیاں چل رہی ہیں۔ کے دونوں طرف لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔ لاشیں زمین پر پڑی ہوئی نظر آتی ہیں، کلاشنکوف (kalashnikov) کے ذریعہ مہاجروں اور سندھیوں میں فائرنگ کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ کے افراد بھی خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

اتنے میں سائرن کی آواز آتی ہے ۔ جلد ہی ایک ایمبولنس گاڑی سڑک پر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔ جیسے ہی ایمبولنس سامنے آتی ہے، دونوں طرف کے لوگ اپنی اپنی فائرنگ روک دیتے ہیں ۔ ایمبولنس کھڑی ہوتی ہے، اس کے آدمی مردہ لاشوں کو اور زخمیوں کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھتے ہیں۔ اس پوری کارروائی کے دوران لڑائی بند رہتی ہے ۔ جب ایمبولنس چلی جاتی ہے تو دوبارہ وہی لوگ اس طرح لڑنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں ۔

یہ کراچی کے عبدالستار ایدھی (۶۱ سال) ہیں ۔ انھوں نے اپنی ۳۰ سال کی بے غرضانہ خدمت سے لوگوں کے اندر اتنا احترام پیدا کیا ہے کہ جہاں وہ پہنچ جائیں، وہاں لوگوں کے سر ان کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، خواہ وہ فسادی اور دہشت گرد کیوں نہ ہوں ۔ عبدالستار ایدھی کی تعلیم صرف چھٹے درجہ تک ہو سکی تھی ۔ ۱۹۴۷ء میں وہ جونا گڑھ سے نقل وطن کر کے پاکستان چلے گئے ۔ وہاں وہ حصول معاش کے لیے معمولی کام کرتے رہے ۔ انھوں نے دیکھا کہ پاکستان میں ایمبولنس سروس بہت کمزور ہے ۔ ان کے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوا ۔ انھوں نے قرض اور چندہ کی مدد سے ایک پرانا ٹرک خریدا اور اس کے اوپر پردہ لگا کر اس کو ایمبولنس گاڑی کے طور پر استعمال کرنے لگے ۔ زخمیوں اور مریضوں کو اسپتال لے جانا، لاوارث لاش کو قبرستان پہنچانا، اس قسم کے رفاہی کاموں میں وہ سرگرم ہو گئے ۔ ان کے خلوص اور محنت کو دیکھ کر لوگوں نے تعاون کرنا شروع کیا ۔ انھوں نے مزید ایمبولنس گاڑیاں خریدیں ۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس ۳۵۰

گاڑیوں کا دستہ ہے جو سب کی سب سائرن ، وائر لیس ، گیس سلنڈر وغیرہ سے لیس ہیں ۔ علاوہ انہوں نے دو ہیلی کاپٹر خریدے ہیں تاکہ دور تک کے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کر سکیں ۔

اسی کے ساتھ انہوں نے اسپتال ، زچہ گھر ، یتیم خانے اور مختلف قسم کے رفاہی مراکز قائم کر رکھے ہیں ، اب انھوں نے گیارہ ایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے ۔ یہاں وہ اپنے تمام شعبے قائم کریں گے ۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر ہیلی کاپٹر کو ٹھہرانے اور اتارنے کا میدان بھی بنایا جائے گا ۔

۳۰ سال پہلے عبدالستار ایدھی کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ماں بیمار ہوئی تو نہ ان کے پاس دوالانے کے پیسے تھے اور نہ ماں کو اسپتال لے جانے کا سادھن ۔ ان کی ماں نہایت تکلیف کی حالت میں مرگئی ۔ مگر ماں کی موت نے ان کو ایک نئی زندگی دے دی۔ ان کو سخت جھٹکا لگا ۔ انہوں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے غریب ہوں گے جو تکلیف میں تڑپتے ہوں گے ، مگر کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خدمت خلق کا ایک ادارہ قائم کریں گے ۔ ۳۰ سال پہلے یہ ادارہ انہوں نے نہایت معمولی حالت سے شروع کیا تھا ۔ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کا سالانہ بجٹ بارہ کروڑ روپیہ ہے ۔ جس شخص کا حال یہ تھا کہ مرض الموت میں مبتلا اپنی ماں کی دوا خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے ، وہ آج اپنے مرکز میں ۷۵ ، ۷ آدمیوں کے لیے کھانا اور کپڑا فراہم کر رہا ہے ۔

عبدالستار ایدھی کو عالمی انعام (Magsayay Award) دیا گیا ہے ۔ کثیرالاشاعت ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ ( جون ۱۹۸۹ء) نے ان کے بارہ میں ایک تعریفی مضمون شائع کیا تھا جس کا خلاصہ الرسالہ ( فروری ۱۹۹۰ء) میں آچکا ہے ۔ نئی دہلی کے انڈیا ٹوڈے (۳۰ جون ۱۹۹۰ء) نے سات صفحہ کی ایک با تصویر رپورٹ شائع کی ہے ۔ ان کا عنوان یہ ہے پاکستان کا فادر ٹریسا :

Printed page