Pakistan's Father Teresa,
Al-Risala, December 1990, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیری کام اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے ۔ اگر آپ واقعی معنوں میں کسی تعمیری کام کا نمونہ پیش کر دیں تو تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ، حتی کہ آپ کے کٹر مخالفین بھی ۔ عبدالستار ایدھی کے لیے ایک نمونہ وہ تھا جو سطحی لیڈروں نے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ پیش کیا ہے ۔ یعنی ’’ نظام‘‘ کے خلاف نعرہ اور جھنڈا کی سیاست لے کر کھڑا ہو جانا ۔ درجہ کا ایک اخبار نکالتے اور موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ عوام کی مصیبت کی داستانیں چھاپنا شروع کر دیتے ۔ وہ حکومتی اداروں سے مطالبات کی مہم چلاتے ۔ وہ غصہ میں بھرے ہوئے نوجوانوں کی ایک بھیڑ جمع کرتے جو احتجاج کے نام پر بسیں جلاتا اور ہسپتالوں میں آگ لگاتا ۔ اسی طرح عبد الستار ایدھی کے لیے ایک نمونہ وہ تھا جو نام نہاد اسلام پسندوں نے پیش کیا ہے ۔ وہ ’’ اسلامی نظام قائم کرو‘‘ کے نعرہ کے ساتھ سڑکوں پر نکل پڑتے ۔ وہ عوام اور حکومت کے درمیان وہی نفرت اور کشاکش کا ماحول بناتے جو موجودہ اسلام پسندوں نے مجرمانہ طور پر ہر جگہ بنا رکھا ہے ۔
عبدالستار ایدھی اگر اس قسم کے طریقے اختیار کرتے تو وہ اپنے ملک کے مسائل کو حل کرنے کے نام پر صرف اس کے مسائل میں اضافہ کرتے ۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود اس مسئلہ کو حل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ ان کا کام خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو ، مگر وہ خود اپنے آپ سے عمل کا آغاز کریں گے ۔
عبدالستار ایدھی کے اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۴۰ برس بعد انہوں نے پاکستان میں ایک ایسی تعمیری تاریخ بنائی جس کا ہندوستان سے لے کر امریکہ تک اعتراف کیا جا رہا ہے ۔ اسی مدت میں اسی ملک کے دوسرے رہنما بربادی اور تخریب کے سوا کوئی اور تاریخ نہ بنا سکے ۔ از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۳۶۰ ۴۵ روپیہ