اسلام کا سیلاب
Al-Risala, December 1990, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ میں ایک ٹی وی تنظیم ہے جس کا نام اے بی سی ہے۔ وہ ہر روز شام کو ” ورلڈ نیوز ٹونائٹ“ عنوان کے تحت اس دن کی اہم عالمی خبریں نشر کرتی ہے۔ ۱۶ فروری ۱۹۸۹ء کو اس نے ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کو جو خبریں بتائیں، ان میں سے ایک اہم خبر یہ تھی کہ ریسرچ کرنے والوں کی ایک ٹیم نے رپورٹ دی ہے کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار مذہب ہے۔ ان کے جائزہ کے مطابق ۲۰۲۵ تک دنیا کی آبادی میں ہر چار آدمی میں سے ایک آدمی مسلمان ہوگا۔ پچھلے سال عیسائی تنظیموں کی دور پورٹوں میں بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ اسلام کرہ ارض پر سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ امریکہ (پلین فیلڈ) سے ایک انگریزی ماہنامہ شائع ہوتا ہے جس کا نام اسلامک ہو رائزن (Islamic Horizons) ہے۔ اس نے اپنے شمارہ مارچ ۔ اپریل ۱۹۸۹ میں اس رپورٹ کا خلاصہ شائع کیا ہے۔ وہ اس کے الفاظ میں یہ ہے:
ABC's "World News Tonight" reported in its February 16, 1989 newscast that a new reliable study showed that Islam is the fastest growing religion in the world. According to researchers, one out of every four people in the world will be Muslim by the year 2025, about one generation from now. At least two reports from Christian organisa- tions last year marked Islam as not only the fastest blooming religion on the planet but in the United States, as well (p.21). نیو یارک میں دسمبر ۱۹۸۸ میں ”مسلم ورلڈ ڈے“ کے نام سے ایک اجتماع ہوا۔ کی کارروائیاں نیو یارک کے پنٹا ہوٹل (Penta Hotel) میں انجام پائیں۔ اس موقع پر امریکہ کی کئی مشہور شخصیتیں بھی شریک ہوئیں ۔ ان میں سے ایک امریکہ کے ممتاز بیرسٹر ولیم کنسٹلر (William Kunstler) بھی تھے۔
ولیم کنسٹلر کی تقریر نیویارک کے انگریزی ہفت روزہ دی مینارٹ (The Minaret) میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں موصوف نے اسلام کی غیر معمولی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں بعد اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔ کل وہ دنیا کی آبادی کا چالیس فی صد حصہ ہو جائے گا اور اگلے پچاس برسوں میں وہ دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد حصہ ہوگا:
Someday it will be the major religion of the world. Two-fifth tomorrow and three-fifth in the next 50 years. ۱۰ ستمبر ۱۹۸۹ کو ڈاکٹر محمد طاہر صاحب (حیدر آباد) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے لائبریری سائنس میں ماسٹر ڈگری لی ہے۔ اور انگریزی زبان میں چھپنے والی کتابوں اور مقالات پر ریسرچ کیا ہے۔ ریسرچ کا عنوان تھا: