Al-Risala · December 1990

English language material on Islamic studies.

Al-Risala, December 1990, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے ۱۹۱۰ سے لے کر اب تک انگریزی کی اسلامی مطبوعات کا جائزہ لیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ۸۰ ہزار چھپی ہوئی چیزوں (references) کے اعداد و شمار جمع کئے ۔ انھوں نے پایا کہ اسلام پر انگریزی کی کتابیں اور مقالے موجودہ زمانہ میں اتنے زیادہ چھپے ہیں کہ ان کو ایک عظیم انفجار (tremendous explosion) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اس زمانہ میں انگریزی اسلامی کتابوں کے اضافہ کی شرح یہ رہی ہے :

۲۵ فی صد ۷۵ فی صد گویا بیسویں صدی کے نصف اول میں اضافہ ۲۵ فی صد تھا ، جب کہ اس صدی کے نصف ثانی میں یہ اضافہ ۷۵ فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ واقعہ بے حد سبق آموز ہے۔

اسلام کی اس تیز رفتار ترقی کا راز کیا ہے. اس کا راز یہ ہے کہ اسلام خدا کا آخری دین ہے۔ کو اللہ تعالی نے اس طرح کامل اور مستحکم کر دیا ہے کہ کوئی اس کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے ۔ وہ بڑھتا ہی رہے، یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جس کی پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ زمین کی سطح پر کوئی پکا یا کچا گھر نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوگیا ہو (لا يبقى على ظهر الارض بيت مدر ولا وبر الا ادخله الله كلمة الاسلام)

انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں مسلمانوں کے تمام معروف لیڈر انگریزوں اور فرانسیسیوں سے لفظی یا عملی لڑائی لڑنے میں مشغول تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مغربی استعمار کو اگر ختم نہ کیا گیا تو وہ اسلام کو مٹا ڈالے گا۔ اس لیے سب سے پہلا کام اس سے لڑنا کہ مسلم دنیا پر اس

کے غلبہ کو ختم کرنا ہے۔ مسلم رہنماؤں کی لڑائی کا تو یک طرفہ جانی و مالی نقصان کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلا۔ البتہ دوسری عالمی جنگ نے ان مغربی قوموں کو اتنا کمزور کر دیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ سے اپنی فوجوں کو

اب مسلم ممالک مغرب کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہو گئے۔ اس کے بعد ان ملکوں میں مقامی حکومتیں قائم ہو گئیں ۔ ان حکومتوں کے تمام ذمہ دارانہ مناصب پر وہ مسلمان قابض تھے جنہوں نے مغربی ملکوں میں تعلیم پائی تھی اور مغربی کلچر کو اپنا رکھا تھا ۔ اب دوبارہ مسلم رہنما خود اپنے حکما رانوں سے لڑا گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ "مغرب زدہ" مسلمان ہمارے لیے سابق مغربی حکمراں سے بھی زیادہ برے ہیں۔ ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان کو اقتدار کی کرسیوں سے ہٹایا جائے۔ ورنہ یہ لوگ اسلام کا خاتمہ کر دیں گے اور آئندہ اسلام کے لئے کام کرنے کے مواقع باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ناکام جنگ تادم تحریر کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ بھی ملک میں وہ تبدیلی اقتدار کے مرحلہ تک نہیں پہنچی۔

اسلامی رہنماؤں کی اس سیاسی ناکامی کے باوجود اسلام کا نظریاتی قافلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف ثانی میں ہمیشہ سے زیادہ اسلامی لٹریچر شائع ہوا ہمیشہ سے زیادہ اسلامی ادارے ساری دنیا میں قائم ہوئے ہیں ۔ ہمیشہ سے زیادہ تعداد میں لوگ اسلام قبول کر کے اسلام کے حلقہ میں شامل ہو رہے ہیں ۔ اس قسم کے بے شمار واقعات بتاتے ہیں کہ سیاسی حالات خواہ کچھ ہوں، اسلام کا سفر مسلسل جاری اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقت دے دی ہے جو کسی بھی خارجی سبب سے ختم ہونے والی نہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خارجی حالات کی مساعدت یا نامساعدت سے بے پروا ہو کر اسلامی دعوت کے میدان میں سرگرم رہیں، وہ سیاسی دفاع کے بجائے ہمیشہ نظریاتی اقدام کے میدان میں اپنا جہاد

میسور کے سلطان ٹیپو انگریزوں سے لڑتے ہوئے ۱۷۹۹ء میں شہید ہو گئے۔ اقبال کے نزدیک یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ انھوں نے لکھا کہ ٹیپو ہماری ترکش کا آخری تیر تھا، جواب ہمارے پاس نہیں رہا: ترکش مرا خدنگ آخریں

بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثماںی خلافت ٹوٹنے لگی تو تمام مسلمان گھبرا اٹھے۔ کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی شبلی نعمانی کے اس شعر میں ملتی ہے: زوال دولت عثمان زوال شرع و ملت ہے عزیز و ونکه فرزند و عیال و خانماں کب تک مگر یہ مسلمانوں کے بکنے اور بولنے والوں کی کوتاہی تھی۔ انھوں نے اپنی کوتاہ فکری کی بنا پر اسلام کی طاقت کا کم تر اندازہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو کسی سلطان یاکسی سلطنت کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنی طاقت سے زندہ رہتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ کسی کی موت یا کسی حکومت کا زوال اس کاراستہ روکنے والا

Printed page