Al-Risala · December 1990

غلط فہمی

Al-Risala, December 1990, pp. 24–28

By Maulana Wahiduddin Khan

گرم علاقوں میں ایک خاص قسم کا پتنگا پایا جاتا ہے۔ اس کو عام طور پر عبادت گز ار مینٹس (preying mantis) کہا جاتا ہے۔ زیادہ صحیح طور پر اس کا نام شکاری مینٹس (preying mantis) کیونکہ وہ کیڑوں مکوڑوں کا شکار کرکے ان سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ مینٹس کی دنیا بھر میں ایک ہزار قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ وہ ایک انچ سے سات انچ تک لمبا ہوتا ہے۔ اپنے ماحول کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً بھورا ، لال اور ہرا۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس کھلی زمین میں اپنا کچن گارڈن (kitchen garden) چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں دھنیا ، مرچا ، بینگن ، ٹماٹر وغیرہ کی کاشت کی۔ جب پودے بڑھے اور خوب سر سبز ہو گئے تو ایک روز اس نے دیکھا کہ اس کی کیاری کے اندر بڑے بڑے دو ہرے رنگ کے کیڑے اس کو اندیشہ ہوا کہ یہ میری سبزیوں کو کھائیں گے اور ان کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس نے فوراً ان دونوں کیڑوں کو پکڑا ! اور انھیں مار ڈالا۔

شام کو اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لئے آیا۔ وہ مقامی کالج میں علم نباتات (botany) کا استاد تھا۔ اس نے اپنے دوست سے فاتحانہ انداز میں کہا کہ آج میرے کچن گارڈن میں دو بڑے کیڑے وہ میری سبزیوں کو کھانا چاہتے تھے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ میری سبزیوں کو نقصان پہنچائیں، میں نے انھیں مار کر ختم کر دیا۔

اس واقعہ کو اس نے کچھ ایسے انداز سے بیان کیا کہ دوست کو خیال آیا کہ وہ نئے کیڑے کون سے اس نے پوچھا کہ وہ مرے ہوئے کیڑے کیا اب بھی موجود ہیں کہ میں انہیں دیکھوں ۔ اس کے بعد آدمی نے اپنے دوست کو دونوں کیڑے دکھائے ۔ دوست نے کہا کہ تم نے تو بڑی نادانی کی ۔ تم جانتے نہیں ، یہ تو مینٹس ہے ، اور منٹس سبزی خور کیڑا (herbivorous) نہیں ، وہ تو سلہ طور پر ایک گوشت خور کیڑا ۔ (carnivorous) ہے ۔ وہ یہاں قدرت کی طرف سے تمہاری مدد کے لئے آیا تھا ۔ اس کی فطرت کے خلاف تھا کہ وہ کسی سبزی کو کھائے ۔ وہ تمہاری سبزیوں کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچاتا ۔ وہ صرف ان کیڑوں کو کھاتا جو سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، اور جن کو ختم کرنا تمہارے لئے سخت مشکل ہے ۔ تم بھی کیسے نادان نکلے کہ تم اپنے فائدہ اور نقصان کو نہ سمجھ سکے ۔ تم نے اپنے ایک قیمتی چوکیدار کو مار ڈالا ۔ دوست کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی آدمی کی زبان بند ہوگئی ۔ اس کو اپنے کئے پر بے حد افسوس یہاں تک کہ وہ بیمار پڑ گیا اور کئی دن تک کام کرنے کے قابل نہ رہا ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کسی آدمی کو کتنی بڑی بڑی کوتاہیوں میں مبتلا کر سکتی حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص شدید غلط فہمی میں پڑ کر دوسرے شخص کی جان مار ڈالے ، حالاں کہ یہ دوسرا شخص بالکل بے قصور ہو ۔ وہ ایک آدمی کو بے عزت کرنے پر تل جائے ، حالاں کہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ ایسا آدمی ہو کہ اس کے ساتھ نہایت عزت و احترام کا سلوک کیا جائے ۔ اسی لئے شریعت میں یہ حکم ہے کہ رائے قائم کرنے یا کسی کے خلاف اقدام کرنے سے پہلے اس کے معاملہ کی پوری تحقیق کرو ۔ ایسا ہر گز مت کرو کہ کسی کے خلاف ایک خبر سنو اور فوراً اس کو مان لو ، اور اس کے خلاف ایک بُرا اقدام کر بیٹھو ۔ عین ممکن ہے کہ تحقیق کے بعد تم کو معلوم ہو کہ جو خبر تم کو پہنچی تھی ، وہ خبر سراسر غلط اور بے بنیاد تھی :

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس ایک خبر لائے تو تم اس خبر کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے (الحجرات ۶)

غلط خبر کو سن کر اس کے انجام سے بچنے کی تدبیر نہایت آسان ہے ۔ وہ یہ کہ کسی بات کو سننے کے بعد اس وقت تک اسے نہ مانا جائے جب تک براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق نہ کرلی جائے ۔

نے خطبہ شروع کیا۔

خطبہ حسب معمول مقفّیٰ انداز میں تھا۔ اس کا قافیہ "" تھا۔ امام نے اپنی جیب سے ایک کاغذنکالا اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اس میں قافیہ کے مطابق اس طرح کے الفاظ تھے مثلاً سراً وعلناً ، ما بَعْدُ و ما دَتٰی۔

نماز کے بعد باہر نکلے تو مانگنے والوں کی قطار تھی۔ بھیک مانگنے کا رواج ہندوستان ہی کی طرح سینیگال میں بھی پایا جاتا ہے۔ تاہم ہندوستان کے مقابلہ میں غالباً کم ہے۔ ۱۲ مئی کی صبح مجھے دکار سے واپس روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں اپنے کمرہ کی کھڑکی کھول کر باہر کی طرف دیکھا تو سمندر اور آسمان اور اڑتی ہوئی چڑیوں اور سورج کی ہلکی روشنی کے مناظر تھے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے سمندر اپنی مسلسل اٹھتی ہوئی موجوں کے ساتھ اذ اذكر اللہ وجلت قلوبہم کی کیفیت تمثیل کر رہا ہے۔ چڑیاں حمدِ خداوندی کےنغمےبکھیرتی ہوئی فضا میں اڑ رہی ہیں۔ آفاقی ٹارچ جلا رہا ہے تاکہ خدا کی نشانیوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئے ۔ ٹھنڈی ہواؤں میں ہلتے ہوئے درخت زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدا کے کرشموں (آلاء ) کو دیکھ کر تمہارے اندر تموج (thrill) پید انہیں ہوتا تو تم نے اس دنیا میں نہ کچھ دیکھا اور نہ اس دنیا میں کچھ پایا۔

اس دنیا کی ہر چیز حمدِ خداوندی کی تسبیح میں مشغول ہے۔ مسبحین کے اس عظیم اجتماع میں صرف ایک انسان ہے جورب العالمین کا تسبیح خواں نہ بن سکا۔ جو پتھر کی طرح سخت دل ثابت ہوا ، بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت۔

ہوٹل کے اس کمرہ میں میں ایک ہفتہ سے زیادہ مقیم رہا۔ آج جب اس کو چھوڑ کر باہر نکلتا تو خیال آیا کہ اسی طرح مجھے ایک روز موجودہ دنیا کو چھوڑنا نا ہو گا۔ آج میں منتظمین کا نفرنس کی مقرر کی ہوئی تاریخ کے تحت ہوٹل کا کمرہ چھوڑ رہا ہوں، کل خدا کی مقرر کی ہوئی تاریخ کی بنا پر مجھے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف جانا ہوگا۔ کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آچکا ، اور کیسا عجیب ہوگا وہ وقت جو آنے والا ہے۔

دکار سے جنیوا جاتے ہوئے راستہ میں لندن کا انگریزی اخبار ٹیلی گراف

(The Daily Telegraph) ١١ مئی ١٩٩٠ء پڑھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ درج تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانیہ کے متمدن شہر ۴۸ قسم کی آوازوں کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ مثلاً سوتے وقت لوگوں کا خراٹے لینا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مشہور گن فائٹر جان وسلی (John Wesley) ایک بار ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ملے ہوئے کمرہ سے خراٹے کی آواز اس سے وہ اتنا بدحواس (upset) ہو اک وہ دیوار توڑ کر دوسرے کمرہ میں داخل ہوا اور اس آدمی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ہیلتھ سروسز سٹاف کے ایک ذمہ دار پیٹر پیلیٹ (Peter pallot) نے لکھا ہے کہ ہماری آبادیوں میں روزانہ برپا ہونے والے ۴۸ قسم کے شور جو لوگوں کو پاگل بنا رہے ہیں، ان میں سب سے زیادہ برا شور کتوں کا بھونکنا ہے :

The sound of dogs barking is the worst of 48 everyday noises that drive people mad. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہذب ممالک اپنی ظاہری رونقوں کے باوجود کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ تاہم مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ اس قسم کی باتوں کو لے کر یہ کہا جائے کہ اس کا حل اسلامی نظام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک یا دوسری قسم کے مسائل باقی خواہ یہاں اسلامی نظام ہو یا غیر اسلامی نظام۔ مسائل اور مصائب سے خالی دنیا صرف آخرت میں ممکن ہے۔ اور ہم کو اسی کی طرف دعوت دینا چاہئے ۔

اسلامی قانون کا نفاذ حقیقتاً کسی معاشرہ کی اجتماعی اطاعت ہے، جس طرح عبادت ایک فرد کی انفرادی اطاعت ہوتی ہے۔ اسلامی قانون کے نفاذ کو مسائل سے آزاد دنیا کی تعمیر کا نام دینا صرف سطحییت ہے۔ مزید یہ کہ اس میں یہ اندیشہ ہے کہ کسی ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ کے باوجود جب مسائل کا خاتمہ نہ ہو تو لوگ خود اسلام سے مایوس ہو جائیں یا اس کے بارے میں بری رائے قائم کرنے لگیں۔ مسائل کے حل کی بات جزئی طور پر صحیح ہوسکتی ہے۔ مگر وہ کلی طور پر درست نہیں۔

دکار سے جنیوا جاتے ہوئے جہاز میں میرے قریب ایک صاحب تھے۔ تعارف کے بعد

معلوم ہوا کہ وہ امریکی ہیں۔ ان کا نام کانریڈ (Conrad) تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کمیونی کیشن انجینئر ہیں اور واشنگٹن میں رہتے ہیں۔

کھانے کے وقت انھوں نے "ریڈ وائن" کا آرڈر دیا۔ یہاں سے گفتگو شروع ہوئی۔ پوچھا کہ آپ شراب کیوں پیتے ہیں۔ تفریح کے لئے یا غذا کے لئے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں کے میں نے کہا کہ کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شراب صحت کے لئے مضر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہرچیز کی زیادتی (excess) مضر ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ شراب ایک عادت ہے، اور جب کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو آدمی ایسا نہیں کر پاتا کہ وہ ایک حد سے زیادہ اس کو استعمال نہ کرسکے۔ اس کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ خدا اور مذاہب میں یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا نہیں۔ وجہ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ مذہب لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے۔ میں نے کہا کہ لڑائی کا تعلق مذہب سے نہیں۔ انھوں نے کہا:

Printed page