Al-Risala · December 1990

My faith was in the crew.

Al-Risala, December 1990, pp. 29–33

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک جہاز کے دو آدمی ایک طرح کے حالات میں پہنچ کر بالکل دو قسم کے تاثر کا اظہار کرتے ایک اپنے خدا کی طرف دیکھتا ہے، دوسرا، جہاز چلانے والے انسانوں کی طرف۔ یہ مشہور حدیث کے مطابق، غالباً تربیت کے فرق کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں "مسیح“ کی اہمیت بٹھائی تھی، اس کے ذہن نے اس کو مسیح کی یاد دلائی، اور جس آدمی کی تربیت نے اس کے ذہن میں " عملہ “ کی اہمیت بٹھا رکھی تھی ، اس کے ذہن نے اسے بتایا کہ اس کو اس نازک موقع پر اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ جہاز کا عملہ ہے۔

ظہر اور عصر کی نماز جنیوا ائیر پورٹ پر پڑھی ۔ اس وقت میں ایئر پورٹ کے گیٹ نمبر ۲۴ پر اگلے جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہو ہوں۔ میرے سامنے کھلے ہوئے میدان میں مختلف ہوائی کمپنیوں کے جہاز کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ تھوڑی تھوڑی دیر پر گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جہاز ایئر پورٹ پر اترا ، یا کوئی جہاز یہاں سے روانہ ہوا۔ اسی طرح دنیا میں ہر وقت کوئی انسان آ رہا ہے ، اور کوئی یہاں سے رخصت ہورہا ہے۔ دنیا آنے اور جانے کی جگہ ہے ۔ بسنے اور آباد ہونے کی جگہ صرف وہ ہے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کے لئے سوئس ایئر ہم ۴۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں سوئس ایئر کا میگزین (Swissair Gazette) مئی ۱۹۹۰ کا شمارہ دیکھا۔ اس شمارہ میں مصر اور دریائے نیل کے بارہ میں ایک مفصل مضمون شامل تھا۔ قدیم مصر میں بتوں کی پرستش ہوتی تھی ، ان میں سے کچھ بتوں کی تصویریں اس میں دی گئی تھیں۔ ان تصویروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قدیم مصر کے لوگوں نے بت تراشی میں غیر معمولی کمال حاصل کیا تھا۔

ایک بت کی تصویر کے نیچے با معنی طور پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ــــ فرعون کے زمانہ میں وہ پوجے جاتے تھے ۔ آج وہ ثقافتی ورثہ کا ایک حصہ ہیں :

In pharaonic times they were worshipped, today they are part of a cultural patrimony.

ان الفاظ کی پوری معنویت اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتی جب تک اس میں یہ اضافہ نہ کیا جائے کہ قدیم زمانہ میں شرک ساری دنیا میں تہذیبی طاقت بن کر چھایا ہوا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب نے اس مشرکانہ غلبہ کو ختم کر دیا۔ اگر یہ مشرکانہ غلبہ ختم نہ کیا جاتا تو دنیا میں کبھی وہ دور نہیں آ سکتا تھا جس کو آج سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے ( ملاحظہ ہو: اسلام دورِ جدید کا خالق )

فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر حفاظتی ہدایت (security advice) کے عنوان کے تحت دیواروں پر لکھا ہوا تھا کہ اپنے سامان کو رکھوالی کے بغیر نہ چھوڑیں: Do not leave your baggage unattended. اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی معاملہ آدمی کو خود اپنے نفس کے ساتھ کرنا ہے۔ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں بنا رہے۔ ورنہ اس کا نفس اس کو تباہی کے راستہ پر ڈال دے گا اور پھر کوئی چیز اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہ بن سکے گی۔ ۱۲ مئی کی شام کو فرینکفرٹ پہنچا۔ یہاں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ نصرت کا خصوصی معاملہ فرمایا۔ میرا اندازہ تھا کہ فرینکفرٹ میں چند گھنٹہ انتظار کے بعد مجھے اگلی فلائٹ دہلی کے لئے مل مگر یہ میرے اندازہ کی غلطی تھی۔ یہاں در اصل مجھے پندرہ گھنٹہ انتظار کرنا تھا۔ کے کاؤنٹر پر گیا کہ آپ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ کے پاس جرمنی کا ویزا میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ جرمنی کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ کے پاس ویزا ہوتا تو ہم شہر کے کسی ہوٹل میں آپ کے لئے ٹھہرنے کا انتظام کر دیتے۔ میں نے کہا کہ آپ میری مدد کریں کہ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔

کاؤنٹر پر بیٹھی ہوئی خاتون نے ٹیلی فون پر کسی سے بات کی۔ بات کرنے کے بعد کہا کہ آپ یہاں ٹھہرئیے ۔ ابھی ایک لیڈی آ رہی ہیں وہ آپ کو بتائیں گی۔ چند منٹ کے بعد ایک جرمن خاتون آگئیں ۔ ان کے ایک ہاتھ میں کمبل تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹرے جس میں کھانے پینے کا سامان تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپ شہر میں تو داخل نہیں ہو سکتے۔ یہاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں ٹھہرئیے ۔

کے لئے کھانے کا سامان ہے، اور یہ آپ کے اوڑھنے کے لئے کمبل ہے۔

میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رات گزرنے کے بعد اگلی صبح کو یہ مل میں کس کو واپس کروں ۔ انھوں نے کہا کہ اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ آپ ہی کا ہے۔ یہ پوری گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی۔

پھیلے ہوئے لاؤنج میں ہر قسم کی عمدہ کرسیاں سیکڑوں کی تعداد میں تھیں۔ بیٹھنے کے لئے بھی اور سونے کے لئے بھی۔ رات نہایت آرام اور سکون کے ساتھ گزری۔

اس واقعہ کے بعد مجھے ایک صاحب کا قصہ یاد آیا جو انھوں نے مجھے بتایا تھا۔ کے ایک مشہور اسلامی ادارہ میں تین سال تک رہا ہوں۔ 1966 میں جب کہ میں اپنے وطن گیا ہوا تھا، وہ مجھ سے ملنے کے لئے مذکورہ ادارہ میں آئے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ اس وقت میں یہاں موجود نہیں ہوں تو انھوں نے سوچا کہ اب کیا کرنا چاہئے ۔ یہ مغرب بعد کا وقت تھا۔ طے کیا کہ رات وہاں کی مسجد میں گزار لیں اور صبح کو واپس چلے جائیں۔ چنانچہ عشاء کی نماز کے بعد وہ مسجد میں ایک طرف لیٹ گئے۔

کچھ دیر کے بعد ادارہ کا چوکی دار آیا۔ اس نے کہا کہ مسجد میں سونا منع ہے، اس لئے آپ یہاں نہیں سو سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اچھا، میں بیٹھ کر رات گزار لوں گا۔ چنانچہ وہ دیوار کی ٹیک لگا کر کچھ دیر کے بعد چوکی دار دوبارہ آیا۔ اس نے کہا کہ آپ مسجد میں بیٹھ کر بھی نہیں رہ سکتے۔ اس لئے آپ باہر جائیں۔ وہ باہر نکل کر ایک چبوترہ پر لیٹ گئے ۔ چوکی دار پھر آیا۔ اس نے کہا کہ اجنبی آدمی کو ادارہ کے اندر ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے آپ یہاں سے چلے جائیں۔ انھوں نے چوکی دار سے کہا کہ تم مجھ کو یہاں کے ذمہ دار کے پاس لے چلو، میں ان سے بات اس کے بعد چوکی دار انھیں ایک کمرہ میں لے گیا۔ یہاں ادارہ کے اساتذہ رات کی چائے پی رہے تھے۔ وہ دروازہ پر کھڑے ہو گئے ۔ نہ کسی نے ان کو بیٹھنے کے لئے کہا اور نہ چائے کی پیش کش کی۔ دروازہ پر کھڑے کھڑے انھیں حکم دے دیا گیا کہ آپ اس طرح ادارہ کے اندر رات نہیں گزار سکتے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما مغرب کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اس کے مطابق، مغرب کی برتری کاراز اس کی ”دسیہ کاری “ ہے۔ اس نے سازشی تدبیروں کے ذریعہ دنیا کے اوپر اپنا غلبہ قائم

کر رکھا ہے۔ یہ بلا شبہ ایک لغو بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب اپنی اخلاقی طاقت کے بل پر اس کے برعکس مسلمان اپنے اخلاقی زوال کی بنا پر موجودہ زمانہ میں اپنی جگہ حاصل نہ کر سکے۔ قوموں کے عروج و زوال میں جو چیز فیصلہ کن ہے وہ اخلاق ہے نہ کہ سازش اور دسیسہ کاری۔ سفر میرے لئے تجرباتی مطالعہ کے ہم معنی ہے۔ ہر سفر میں کچھ نئی باتیں دریافت ہوتی ہیں۔ موجودہ سفر میں جو نئی باتیں سمجھ میں آئیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مغربی قوموں کی اخلاقیات کا راز کیا ہے۔ یہ سوال بہت عرصہ سے کیا جاتا رہا ہے کہ مشرقی قوموں کے مقابلہ میں مغربی قوموں میں جو بلند اخلاقی پائی جاتی ہے ، اس کا راز کیا ہے۔

اس کا راز نہایت سادہ ہے اور وہ تجارت ہے۔ مثلاً مذکورہ واقعہ میں لفتھانسا ہوائی کمپنی اور اسلامی تعلیمی ادارہ میں اخلاقیات کا فرق کیوں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ لفتھانا ایک تجارتی ادارہ ہے اور مذکورہ اسلامی ادارہ (دوسرے تمام اسلامی اداروں کی طرح) ایک ایسا ادارہ جو چندہ اور تبرعات پر چلتا ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تجارت سے کردار پیدا ہوتا ہے اور چندہ سے بے کرداری۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان بحیثیت قوم تجارت میں داخل نہ ہو سکے۔ اس لئے ان کے اندر وہ کردار بھی پیدا نہ ہو سکا جو ایک تاجر کے اندر لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ فرق چھوٹے پیمانہ پر ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ ہندو ایک تاجر قوم کی حیثیت جب کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں تاجر قوم نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں میں نسبتاً کردار ہے ، جب کہ مسلمان ان کے مقابلہ میں کردار سے خالی ہیں۔

یہ فرق یورپ میں بہت زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہندو صرف ابتدائی درجہ کے اس لئے ان میں ابتدائی درجہ کی اخلاقیات پائی جاتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مغربی قو میں (اور جاپان) زیادہ بڑے درجہ کے تاجر ہیں۔ تجارت میں وہ تمام قوموں سے بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔ اس لئے ان میں کردار کی طاقت بہت بڑے پیمانہ پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں میں کردار پیدا کرنے کے لئے ان کا ایمان کافی تھا۔ مگر موجودہ مسلمان ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ ان کے اندر وہ زندگی نہیں جو جاندار قوموں میں ہوتی ہے۔

لئے ان کا ایمان ایک بے روح ایمان بن کر رہ گیا۔ اور بے روح ایمان اسی طرح اخلاقیات کو پیدا کرنے سے عاجز رہتا ہے جس طرح بنجر زمین، لہلہاتی ہوئی فصل اگانے سے۔

ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں میری کرسی کے قریب دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ شخص امریکی لہجے میں بول رہا تھا۔ دوسرا کسی اور لہجے میں۔ امریکی مسافر کسی تعلیمی ادارہ میں تھا اور بتا رہا تھا کہ میں اکثر کانفرنسوں میں جاتا رہتا ہوں۔ اس سلسلہ میں اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں کارروائیاں کرتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو میرے پاس کانفرنسوں کے دعوت نامے نہیں آئیں پھر میں کیا کروں گا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کے بعد تو میرے پاس کرنے کا کوئی کام ہی نہ ہوگا :

Printed page