Al-Risala · January 1990

دے کر پانا

Al-Risala, January 1990, pp. 101–5

By Maulana Wahiduddin Khan

ا - خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ کا واقعہ ہے ۔ ایک عیسائی تاجر اپنے تجارتی گھوڑے کولے کر دریائے فرات کے پاس سے اسلامی سرحد میں داخل ہوا۔ زیاد بن حدیر نے اس سے محصول طلب اس نے محصول ادا کر دیا۔ واپسی میں وہ دوبارہ اسی راستہ سے گزرا تو زیاد نے اس کے غیر فروخت شدہ گھوڑوں سے دوبارہ محصول طلب کیا۔ تاجر کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس نے اپنے غیر فروخت شدہ گھوڑے اپنے غلاموں کی نگرانی میں وہیں چھوڑ دیے اور خود چل کر مدینہ پہنچا تاکہ خلیفہ سے شکایت کرے۔ اس نے مدینہ پہنچ کر حضرت عمر فاروق سے اپنا قصہ بیان کیا۔ اور کہا کہ مجھ سے میرے گھوڑوں پر دوبارہ محصول طلب کیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اس کی بات سن کر مختصر طور پر صرف اتنا کہا کہ کیفیت در است انتظام کر دیا گیا ہے )

تاجر نے سمجھا کہ خلیفہ نے اس کی شکایت کو کچھ اہمیت نہ دی ۔ وہ مایوسی کی حالت میں دریائے فرات کی چوکی پر واپس آیا اور زیاد کے مطالبہ کے مطابق محصول کی رقم ادا کرنے لگا۔ مگر زیاد نے اس سے دوبارہ رقم نہ لی اور کہا کہ خلیفہ کی طرف سے یہ حکم آگیا ہے کہ تم سے دوبارہ محصول نہ لیا جائے ۔ عیسائی تاجر اس بات سے بے حد متاثر ہوا کہ خلیفہ نے اتنی تیز کارروائی کی کہ میرا انصاف مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گیا ۔ اس نے کہا کہ اے زیاد، میں مسیحیت کو چھوڑتا ہوں ، اور میں اس آدمی کے دین کو اختیار کرتا ہوں جس نے تمہارے پاس یہ فرمان بھیجا ہے (یا زیاد انی بری من النصرانية وانی علی دين الرجل الذي كتب اليك هذا الكتاب، كتاب الخراج)

۲ - حضرت علی بن ابی طالب چوتھے خلیفہ راشد تھے ۔ ایک بار ان کی زرہ چوری ہو گئی۔ علی کو معلوم ہوا کہ وہ فلاں یہودی کے پاس ہے۔ انھوں نے کوفہ کے قاضی شریح کی عدالت میں دعویٰ حضرت علی نے اپنے دعویٰ کے حق میں دو گواہ پیش کیے ۔ ایک اپنے غلام قنبر کو ، اور دوسرے اپنے لڑکے حسن کو ۔ قاضی شریح نے کہا کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں مقبول نہیں ہے اور صرف ایک گواہ دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ۔ چنانچہ قاضی شریح نے مقدمہ خارج کر دیا۔ بدستور یہودی کے پاس باقی رہی ۔

کے بعد یہودی نے اسلام قبول کر لیا اور زرہ یہ کہہ کر حضرت علیؓ کو دے دی کہ یہ آپ ہی کی ہے، پ کا دعوی بالکل درست تھا (کنز العمال)

بنوامیہ کے زمانہ میں دمشق کی جامع مسجد بنائی گئی ۔ مسجد کے ایک طرف ایک قدیم گرجا مسلمانوں نے چاہا کہ گرجا کا ایک حصہ مسجد میں شامل کر لیا جائے۔ مگر عیسائی اس کے لیے راضی نہ خلیفہ عبد الملک نے اس کے لیے عیسائیوں کو ایک معقول رقم کی پیش کش کی پھر بھی وہ راضی نہ ہوئے۔ چنانچہ ابتدائی تعمیر میں مسجد کا ایک گوشہ ناقص رہا۔

اس کے بعد ولید بن عبد الملک کا زمانہ آیا تو اس نے بھی مسجد کی تکمیل کے لیے عیسائیوں کو راضی کرنا چاہا مگر عیسائی دوبارہ راضی نہیں ہوئے۔ ولید بن عبد الملک نے اس زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا اور اس کو مسجد میں شامل کرکے اس کی تعمیر مکمل کر دی ۔ اس کے کئی سال بعد حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے ۔ ان کے عدل وانصاف کی شہرت پھیلی تو عیسائیوں نے دوبارہ ان سے مل کر اپنی سابقہ شکایت کو پیش کیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کو سن کر حکم دے دیا کہ گرجا کی زمین کا جو حصہ مسجد میں شامل کیا گیا ہے اس کو توڑ کر عیسائیوں کے حوالہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کو یہ بات بے حد شاق گزری۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم اپنی مسجد کو گرا دیں، حالاں کہ ہم اس میں اذانیں دی ہیں اور نمازیں ادا کی ہیں : (نھدم مسجدنا اذ نافيه وصلینا) حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو، یہ زمین اگر مسیحی عبادت خانہ کی تھی تو وہ مسیحیوں کو واپس کی جائے گی ۔

مسیحیوں نے جب خلیفہ کے اس فیصلہ کو سنا تو وہ بے حد متاثر ہوئے ۔ اب ان کا ذہن بدل انھوں نے کہا کہ ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا ، ہم کو اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ اب ہم اس زمین کو اپنی طرف سے بطور ہدیہ مسجد کو دیتے ہیں (تاریخ بلاذری)

اس دنیا میں دینے والا پاتا ہے ۔ اور جو شخص صرف پانا چاہے ، وہ کھوتا ہے ۔ کا اٹل قانون ہے ۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔

Printed page