Please call us... We will come to accompany you.
Al-Risala, December 1990, pp. 33–36
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دیکھ کر خیال آیا کہ کاش اسی طرح اسلامی دعوت کے مراکز جگہ جگہ قائم ہوتے اور ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا جاتا کہ ــــــــ آپ ہم کو مطلع کریں ، ہمارے آدمی آپ کو اپنے ساتھ مرکز میں تاکہ آپ یہاں آکر اسلام کا مطالعہ کر سکیں۔
فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر فنانشیل ٹائمر (۱۲ مئی (۱۹۹۰) پڑھا۔ اس میں ایک رپورٹ ٹیکس کی
ادائیگی کے بارے میں تھی۔ اس کا عنوان تھا : جب شادی مفید ہوتی ہے (When marriage pays)۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ افراد عام طور پر یہ چاہتے ہیں کہ انھیں سرکاری ٹیکس کم سے کم ادا کرنا پڑے۔ موجودہ قوانین کے تحت اس کی ایک صورت نکاح ہے۔ ایک مستحکم اور پر مسرت ازدواجی زندگی کم سے کم ٹیکس ادا کرنے کی ایک پیشگی شرط ہے :
A stable and happy marriage may be a prerequisite for paying the smallest amount of income and capital gains tax. مغرب میں غیر شادی شدہ ازدواجی زندگی گزارنے کا عام رواج ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بے شمار سماجی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ اب مغرب کے دانشور اپنے لوگوں کو اقتصادی محرک بتا کر انہیں ازدواجی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں تجربات نے ثابت کیا ہے کہ مذہبی طرز زندگی ہی صحیح طرز زندگی ہے۔ مگر اس کے باوجود ابھی تک مذہب کی عظمت جدید دور میں قائم نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ مذہبی لوگوں کا داخلی زوال ہے۔ اہل مذاہب کے اخلاقی اور عملی زوال نے مذہب کی نظریاتی صداقت کی نفی کر رکھی ہے۔ اہل مذاہب کی عملی زبوں حالی مذہب کی نظریاتی عظمت کے اوپر ایک قسم کا پردہ بن گئی ہے۔
فرینکفرٹ سے دہلی کے لئے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر ۷۰۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ساڑھے سات گھنٹہ کی پرواز تھی۔ میں نے اپنے دہلی پہنچنے کا پیغام اگر چہ فیکس کے ذریعہ پہلے بھیج تاہم مزید احتیاط کے لئے آج میں نے جہاز کے عملہ کو ایک پیغام لکھ کر دیا کہ اس کو دہلی کے ٹیلیفون نمبر پر منتقل کر دیں۔ انھوں نے فورا أمیر ا کا غند لے لیا اور کہا کہ یہ پیغام ہم اپنے دہلی کے آفس کو دوران پرواز بھیج دیتے ہیں۔ وہ دہلی میں آپ کے آفس کے ٹیلیفون نمبر پر مطلع کر دیں گے۔
یہ ہوائی کمپنیوں کا عام دستور ہے۔ مسافر کی منزل پر اگر ہوائی کمپنی کا دفتر ہے تو وہ پرواز سے پہلے یا دوران پرواز مسافر کا پیغام بھیج دیتے ہیں۔ یہ سہولت صرف اس وقت ہے جب کہ منزل کے مقامی ٹیلیفون نمبر پر مطلع کرنا ہو۔ مثلاً وہ میرا پیغام دہلی کے ٹیلیفون نمبر پر بھیج سکتے ہیں۔ مگر وہ اس
کو بنارس کے ٹیلی فون نمبر پر نہیں بھیجیں گے۔ یہ سہولت لوکل کال کے لئے ہے۔ ٹرنک کال کے لئے نہیں ۔
جہاز کے اندر لفتھانسا میگزین (Lufthansa Bordbuch) کا تازہ شمارہ مئی۔ اس کے صفحہ ۶۵ پر بتایا گیا تھا کہ لفتھانسا نے امریکہ کے لئے نان اسموکنگ پروازیں (non-smoking flights) حال میں شروع کی ہیں۔ اس میں مزید بتایا گیا تھا کہ امریکی حکومت نے حال میں اندرونی پروازوں پر تمبا کو نوشی پر پابندی لگا دی ہے : The U.S. Administration recently introduced a general ban on smoking on domestic routes under six hours. ایک زمانہ تھا کہ تمباکو نوشی فیشن میں داخل ہو گئی۔ بڑے بڑے لوگ سگریٹ اور سگار کا دھواں نکالنے کو اپنی بڑائی کا نشان سمجھنے لگے تھے۔ مگر آج سائنسی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے سخت مضر ہے۔ چنانچہ اب مختلف طریقوں سے سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی
ہمارا جہاز ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا تیزی سے دہلی کی طرف چلا جا رہا ہے۔ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو سورج روشن تھا اور چاروں طرف اجالا دکھائی دے رہا تھا۔ کے بعد اپنی گھڑی پر نظر گئی تو اس میں آٹھ بج رہے تھے۔ گو یا اس وقت جب کہ ہندوستان میں رات کے آٹھ بج چکے تھے، یہاں میں مکمل طور پر اجالے میں اپنا سفر طے کر رہا تھا۔ زمین پر اجالے اور اندھیرے کا یہ فرق سورج کے گرد زمین کی محوری گردش سے پیدا ہوتا اس دنیا میں ہر جگہ ایک ہی وقت میں شام یا ایک ہی وقت میں صبح نہیں ہوتی۔ وقتوں میں ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں مختلف انداز میں اشارے کئے گئے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک رب المشارق والمغارب (۴۰ / ہے ۔ یعنی اس مالکِ کائنات کی قسم، جو زمین پر بے شمار مشرق اور بے شمار مغرب پیدا کرتا ہے۔
سورج کے گرد زمین کی گردش بلاشبہ حیران کن حد تک ایک عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کائنات کا مالک بے پناہ حکمت والا اور بے پناہ قدرت والا
اگر ایسا نہ ہو تو زمین کی یہ حیرت ناک گردش اتنی صحت کے ساتھ مسلسل قائم نہ رہ سکے ۔ جہاز میں نیو یارک کا انگریزی اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون (۱۲- ۱۳ مئی ۱۹۹۰) دیکھا ۔ اس کے صفحہ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : From Kuwait to Algiers, A new political openness مضمون میں دکھایا گیا تھا کہ مسلم ملکوں میں ہر جگہ پروڈیموکریسی موومنٹ ابھر رہی ہے ۔ کے بعد دسمبر ۱۹۸۹ میں اردن میں الیکشن ہوا ۔ امیر کویت نے ۱۹۸۶ میں پارلیمنٹ توڑ دی تھی ، اب کویت میں دوبارہ الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح تیونس اور الجیریا میں جون ۱۹۹۰ میں میونسپل الیکشن کئے جارہے ہیں ۔
اس مضمون کے لکھنے والے مسٹر گولڈ اسٹین (Eric Goldstein) تھے۔ مذکورہ قسم کی مثالیں دیتے ہوئے انھوں نے لکھا تھا کہ اکثر عرب حکومتیں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کو ایک ایسی حد تک گوارا کر رہی ہیں جو پچھلے سالوں تک لا معلوم تھا ؛