Many Arab governments are tolerating independent
Al-Risala, December 1990, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
political activity to an extent unknown in recent years. مغرب کے دانشور آج کل اپنے آپ کو ایک نئے یقین کی حالت میں پا رہے ہیں ۔ یونین میں کمیونسٹ نظام کی ناکامی اور جمہوری نظام کی طرف جھکاؤ نے ان کو یہ یقین دیا ہے کہ ان کا نظام زیادہ بہتر ہے۔ اب مسلم ملکوں میں جمہوریت کی طرف رجحان ان کے یقین میں مزید اضافہ کر رہا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام نظام خاتم ہو کر مغربی جمہوریت کے نظام کے لئے جگہ خالی کر دیں گے۔
اسلام نے انسانی تاریخ میں پہلی بار جمہوریت کے دور کا آغاز کیا تھا۔ مگر بعد کے دور میں مسلم حکمرانوں کے غیر جمہوری عمل نے غیر ضروری طور پر مغرب کو اس فخر کا موقع دے دیا کہ ان کے نظام کو (اسلام سمیت) تمام دوسرے نظاموں پر برتری حاصل ہے۔
اگر آپ جغرافی نقشہ کو اپنے سامنے رکھیں تو کاغذی نقشہ کے اعتبار سے میرے لئے سیدھی روٹ یہ نظر آئے گی : دکار ۔ نیجر - جدہ ۔ یعنی افریقی علاقہ میں سفر کرتے ہوئے ایشیا میں داخل
مگریں نے ڈکار۔ دہلی کا راستہ اختیار کیا۔ یعنی میں افریقہ سے یورپ گیا، اور یورپ سے لوٹ کر ایشیا کی طرف آیا۔
اس کی وجہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا صنعتی پچھڑتا پن ہے۔ آج کا زمانہ مواصلات کا زمانہ ہے۔ مگر مواصلات کے جدید ذرائع زیادہ تر مغربی ملکوں میں (communications) مہیا ہوتے ہیں۔ اس لئے ایشیا اور افریقہ کے درمیان روابطِ مغرب ہی کے واسطہ سے قائم ہوتے
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما آخری جو چیز جانتے تھے، وہ صرف سیاست تھی۔ ذہن کی بنا پر انھوں نے سیاست ہی کو سب کچھ سمجھا۔ وہ سیاست کے میدان میں مغرب سے ٹکراؤ وہ سائنس کی اہمیت سے بالکل بے بہرہ تھے۔ چنانچہ سیاست کے علاوہ باتوں کو وہ سمجھ نہ سکے اور نہ ان باتوں میں انھوں نے مسلمانوں کو بروقت رہنمائی دی۔ موجودہ زمانہ کی پوری مسلم تاریخ میں کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں جس کے اقوال و اعمال سے ثابت ہو کہ وہ سائنسی ذہن رکھتا تھا یا سائنس کی اہمیت سے واقف تھا۔
اسی غفلت کا یہ نتیجہ ہے کہ سیاسی زنجیروں سے رہائی کے باوجود تمام مسلم ممالک مغرب کی غیر سیاسی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنے پچھڑے پن کی وجہ سے وہ تمام جدید شعبوں میں مغرب کی مدد لینے پر مجبور ہیں۔
۱۳ مئی ۱۹۹۰ کو دہلی پہنچا۔ ایئر پورٹ پر امیگریشن سے فارغ ہو کر آگے بڑھا تو کسٹم کے مقام پر لوگوں کی دار و گیر ہو رہی تھی۔ ہر آدمی اپنا سامان لئے ہوئے کسٹم والوں کی پکڑ میں تھا۔ اور سامان کھول کھول کر ہر ایک کی جانچ کی جا رہی تھی۔ میں وہاں ایک لمحہ کے لئے ٹھہرا۔ فوراُ ہی کسٹم کا ایک آدمی میری طرف متوجہ ہوا اور کہا: آپ جائیے، آپ جائیے۔ گیٹ کے باہر آیا تو وہاں ایک صاحب گاڑی کے ساتھ مجھے لے جانے کے لئے موجود تھے۔
میں نے سوچا تو یہ پورا معاملہ میرے ذہن میں قیامت کے واقعہ کی صورت میں ڈھل گیا۔ محسوس ہوا جیسے میں دنیا سے نکل کر قیامت کے میدان میں داخل ہوا ہوں۔ احتساب کے فرشتوں کو دیکھ کر رک جاتا ہوں۔ اچانک احکم الحاکمین کی طرف سے آواز آتی ہے کہ تم جاؤ، تم جاؤ۔ آگے بڑھتا ہوں
تو رحمت کے فرشتے استقبال کے لئے آجاتے ہیں تاکہ مجھ کو اپنے ساتھ لے جا کر ” دار الخلد “ میں پہنچا دیں حدیث قدسی میں آیا ہے کہ انا عند ظن عبدی بی (میں بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ اپنے عاجز بندے کے اس گمان کو پورا کر دے اور ائیر پورٹ کے دنیوی تجربے کو میرے لئے آخرت کے معاملے کی پیشگی خبر بنا دے۔ الرسالہ اور اسلامی مرکز کی مطبوعات مندرجہ ذیل پتوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں: Kusisum Mitab Ghar 9, Jama Masjid Maulana Baba Lane