Al-Risala · December 1990

محتسب اقوام یا خیر خواہ اقوام

Al-Risala, December 1990, pp. 40–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلم رہنما نے لکھا ہے کہ مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے محتسب اقوام ہیں۔ ایک اور رہنما نے لکھا ہے کہ مسلمان تمام قوموں کے اوپر خدائی فوجدار ہیں۔ تقریباً ایک صدی سے یہی بات ایک یا دوسرے لفظ میں کہی جارہی ہے ۔ شاعر اور خطیب اور انشا پرداز قسم کے لیڈر اس بات کو نہایت جذباتی انداز میں بیان کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب موجودہ مسلم نسل کا یہی عام ذہن بن گیا ہے۔ طور پر مسلمانوں کا نوجوان طبقہ ہر جگہ اسی احساس حاکمیت سے سرشار نظر آتا ہے۔ اور یہی وہ خاص نفسیات ہے جس کے تحت مسلم نوجوان ساری دنیا میں ان سرگرمیوں میں مشغول ہیں جن کو وہ بطور خود انقلابی سرگرمی کہتے ہیں اور دوسرے لوگوں نے جس کو توڑ پھوڑ اور دہشت گردی کا نام دیا ہے۔ مگر مسلمان کی شخصیت کے بارہ میں یہ حاکمانہ نظریہ سراسر لغو ہے۔ اس کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمان کی حیثیت اس دنیا میں محتسب اقوام کی نہیں ہے، بلکہ خیر خواہ اقوام کی ہے۔ مسلمان کو دعوت کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ مسلمان دوسری قوموں کے سامنے خدا کے دین کا داعی ہے۔ داعی روحانی ڈاکٹر ہوتا ہے۔ جس طرح ایک سچا ڈاکٹر خیر خواہی کی حد تک اپنے مریض کا خدمت گار ہوتا ہے۔ اسی طرح سچا داعی وہ ہے جو خیر خواہی کی حد تک لوگوں کی ہدایت کا حریص بن جائے۔

داعی کے لیے قرآن میں ناصح (خیر خواہ) اور امین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ داعی بیک وقت دو شدید احساس کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے دین کا امانت دار یہ احساس اس کے اندر آخری تک ذمہ داری کا جذبہ ابھار دیتا ہے۔ وہ اس ڈر سے کانپتا رہتا ہے کہ امانت کی ادائیگی میں اگر ذرا بھی کوتاہی ہوئی تو وہ خدا کے یہاں پکڑا جائے گا۔ بندوں کے ساتھ خیر خواہی کا احساس اس) کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر تلخی کو اپنی ذات پر سہتے ہوئے مدعو کو خدا کی رحمتوں کے سایہ میں لانے کی کوشش کرے۔

اس طرح جو انسان بنے وہ خیر خواہ اقوام ہو گا نہ کہ محتسب اقوام۔ وہ لوگوں کی نجات کے لیے تڑپے گا نہ کہ لوگوں کے اوپر حاکمانه اختیار استعمال کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے۔

از مولانا محمد منظور نعمانی قرآن پاک کی ایک ہدایت ہے کہ جب کوئی تم سے برسر پیکور ہو اور تمہارے ساتھ برے طریقے سے پیش آئے تو تم اس کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرو اور خوب صورت طریقے پر اس کی بات کا جواب دو، اگر تم نے ایسا کیا تو جلد ہی دیکھ لو گے کہ دشمن تمہارا دلی دوست بن جائے گا۔

آگے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے اس کی توفیق صرف ان خوش نصیبوں کو ہو گی جو برداشت کی صفت یعنی اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوں گے۔

یہ قرآن مجید کی آیت کا حاصل اور گویا لفظی ترجمہ ہے یقین ہے کہ جس کسی بندے نے بھی اس کی ہدایت پر عمل کیا ہو گا اس کو ضرور اس نتیجہ کا بھی تجربہ ہوا ہو گا جو قرآن مجید نے بتلایا ہے۔ ناچیز راقم سطور کا اعتراف ہے کہ اپنے مزاج کی فطری حدت یعنی تیزی اور نفس پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی اس زریں ہدایت و تعلیم پر عمل کی توفیق بہت ہی کم نصیب ہوئی ہے لیکن جب کبھی اللہ کی توفیق سے اس پر عمل نصیب ہو گیا تو اسی وقت کھلی آنکھوں وہ نتیجہ دیکھ لیا جس کا وعدہ قرآن پاک کی اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ کا اپنا ایک تجربہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اگست ۱۷۴۵ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ یاد رہے کہ رمضان المبارک کی ۱۸ تاریخ تھی۔ ناچیز راقم سطور کو ۱۴- ۱۵ ساتھیوں کے ساتھ لکھنو سے دلی جانا تھا۔

یہاں یہ بات بھی یاد کر لی جائے کہ یہ وقت وہ تھا جب کہ ہندوستان میں ہندو مسلم کشیدگی آخری حد تک پہنچ چکی تھی۔ کلکتہ نواکھالی اور بہار وغیرہ میں بڑے بڑےمہیب فساد ہو چکے تھے۔ اور بس ایک ہفتہ کے بعد ۱۵ اگست کو ملک کی باقاعدہ تقسیم عمل میں آنے والی تھی۔ اب تو ماشاء اللہ لکھنو اور دہلی کے درمیان براہ راست ۳، ۴ ٹرینیں چلتی ہیں اس وقت ایک ٹرین بھی لکھنو سے دہلی براہ راست نہیں جاتی تھی۔ کانپور، مراد آباد تبدیل کرنی پڑتی تھی۔ ہم نے براہ مراد آباد وغیرہ ایکسپریں سے سفر طے کیا۔ لکھنو سے اس کی روانگی کا وقت اس وقت بھی وہی تھا جو آج ہے یعنی تقریباً ۹ بجے شام۔ اپنے سفری تجربہ کی بنا پر مجھے سب سے آگے والے ڈبہ میں جگہ ملنے کی زیادہ امید تھی۔ اس لئے ہم لوگ وہاں کھڑے ہو گئے جہاں اس ڈبہ کے پہنچنے کی توقع تھی۔

اور ساتھیوں میں سے چند کو مقرر کر دیا کہ ٹرین جیسے ہی آکر رکے وہ مستعدی سے ڈبہ میں گھسنے کی کوشش کریں۔ اور جو جگہ بھی خالی نظر آئے اس کو ساتھیوں کے لئے گھیر لیں۔ اس کی تاکید کر دی گئی کہ کسی کو اید ان پہنے اور جھگڑا ٹرین آکر رکی۔ جیسا کہ میرا اندازہ تھا اگلے ڈبہ سے مسافروں کی خاصی تعداد اتری اور کافی جگہ خالی ہوئی ۔ ہمارے وہ چند ساتھی قرار داد کے مطابق پھرتی سے ڈبے کے اندر پہنچ گئے اور خالی شدہ سیٹوں پر اپنے کپڑے بچھا کر جگہ محفوظ کر لی اور دوسرے ساتھی بھی اندر داخل ہو گئے ۔ میں بھی پہنچ گیا ۔ ایک سیٹ پر ایک ساتھی نے کپڑا بچھا دیا تھا۔ میں اسی کپڑے پر جا کر بیٹھ گیا۔ میرے برابر میں ایک اور ساتھی بیٹھ گئے۔ ایک پنڈت جی جو اسی ٹرین میں صوبہ بہار کے کسی مقام سے آرہے تھے، اوپر بیٹھے ہوئے تھے. غالباً کسی ضرورت سے نیچے آئے وہ اندر آئے۔ زبان سے کوئی بات کہنے کے بجائے انھوں نے انتہائی اشتعال انگیز طریقہ پر ایک ہاتھ سے میرا بازو پورے زور سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے میرے دوسرے ساتھی کا۔ اس جگہ سے ہمیں اٹھانا چاہا۔ انھیں غالباً یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہم لوگ اتنی تعداد جیسے ہی انھوں نے یہ حرکت شروع کی میرے بعض ساتھیوں نے بڑھ کر انھیں پکڑ لینے کا ارادہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے ڈانٹ کر کہا کہ ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھے اور بالکل خاموش بیٹھے ۔ کچھ بات کرنے کی ضرورت ہوگی تو میں خود کر لوں گا۔ اس کے بعد میں نے ان پنڈت جی سے نرمی سے کہا کہ آپ زبان سے فرمائیے کہ کیا بات ہے اور آپ کیا چاہتے ہیں۔ انھوں نے نہایت غصے کے ساتھ کہا آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہیں، یہ میری جگہ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی یہ بات تو آپ سہولیت سے بھی کہہ سکتے تھے ۔ آپ نیچے اتر گئے تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے یہ جگہ خالی دیکھی تو انھوں نے کپڑا بچھا دیا اور میں آکر یہاں بیٹھ گیا۔ اگر آپ سیدھے طریقے سے یہ فرما دیتے کہ یہ جگہ آپ کی ہے، یہاں آپ بیٹھے تھے تو یہ آپ ہی کی جگہ ہے۔ آپ یہاں بیٹھ جائیے۔ میں نے یہ کہہ کر وہ جگہ خالی کر دی ۔ پنڈت جی کے اس رویے پر میرے بعض ساتھیوں کو پھر گرمی آنے لگی۔ تو میں نے ان سے کہا۔

آپ لوگوں میں سے کسی کو بولنے کا حق نہیں۔ جب یہ اس جگہ پر پہلے سے بیٹھے تھے تو انہیں کی جگہ بات ختم ہو گئی اور میں نے پنڈت جی کا ہاتھ پکڑ کر اس جگہ پر ان کو بٹھا دیا ۔ اور ساتھیوں کے ذہن کو دوسری طرف موڑنے کے لئے بحیثیت امیر قافلہ سفر کے اصول و آداب اور دعا اور وغیرہ کے بارے میں کچھ ہدایتیں دینا شروع کر دیں۔

ہم سب روزے سے تھے ٹرین کی روانگی کے صرف پانچ سات منٹ کے بعد افطار کا وقت ہونے والا تھا۔ ایک دوست جو ہم لوگوں کو صرف رخصت کرنے اسٹیشن آئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ اگر اسٹیشن پر برف مل جائے تو ایک سیر آپ لا دیجئے ۔ وہ دوست برف تلاش کرنے کے لئے چلے گئے۔ ہمارے وہ مہربان پنڈت جی بھی خاموشی کے ساتھ ڈبے سے اترے۔ ہمارے جو دوست برف تلاش کرنے کے لئے گئے تھے وہ ابھی واپس نہ آئے تھے کہ پنڈت جی پانچ سیر برف کہیں سے خرید لائے اور خاموشی کے ساتھ میرے سامنے رکھ دیا۔ میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھ میں شرافت کی چمک اور ندامت کے آنسو تھے۔ انھوں نے اصرار کیا کہ قبول کر لو۔ میں نے کہا کہ سر آنکھوں پر، لیکن یہ بہت زیادہ ہے۔ آپ اس کی قیمت لے لیں مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ بالآخر میں نے قبول کر لیا۔ اب ٹرین لکھنو سے روانہ میں پنڈت جی سے ذرا فاصلے پر اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھ گیا۔

پنڈت جی خود اٹھ کر آئے اور مجھ سے کہا کہ بہت غلطی ہوئی ، آپ وہاں بیٹھے جہاں پہلے بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آرام سے بیٹھا ہوں آپ بلا تکلف اپنی جگہ بیٹھیں ۔ وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور کہا کہ اگر آپ وہاں چل کر نہیں بیٹھیں گے تو میں بھی نہیں بیٹھوں گا ۔ بالآخر میں اسی جگہ جا کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد جب آفتاب غروب ہو گیا تو ہم لوگوں نے روزہ افطار کیا اور ٹرین ہی میں مغرب کی نماز با جماعت پڑھی ۔ پنڈت جی ادب کے ساتھ نماز ختم ہونے تک کھڑے رہے، اپنی جگہ پر بیٹھے بھی نہیں۔ پھیرنے کے بعد جب انھیں اس حالت میں دیکھا تو اصرار کر کے بیٹھا یا پھر بھی وہ اس وقت تک ادب سے بیٹھے رہے جب تک ہم سنتوں اور نفلوں سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے کھانا کھایا۔ پھر کچھ دیر کے بعد عشاء کا وقت آگیا ہم لوگوں نے جماعت سے عشاء کی نماز اور جماعت ہی سے تراویح بیس رکعت پڑھی۔ پورے وقت میں پنڈت جی اس ادب سے بیٹھے رہے گو یا وہ بھی دل سے ہمارے ساتھ نماز میں شریک رہے۔ ڈبے میں اتنی جگہ نہ تھی کہ ہم میں سے کوئی شمش سو سکے اور اوپر والی سیٹوں پر ان حضرات کے بستر لگے ہوئے تھے جو پہلے سے اس ٹرین پر سفر کر رہے تھے۔ ان میں نے ایک بستر پنڈت جی کا بھی تھا۔ ان کے علاوہ جن لوگوں کے بستر تھے سب جا کر لیٹ گئے۔ پنڈت جی نے اوپر کے ایک بستر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بستر میرا ہے اس پر آپ آرام کر لیں، میں نے کہا کہ پنڈت جی یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اپنے بستر پر آپ خود آرام کریں پنڈت جی نے کہا یا تو اس پر آپ سوئیں گے ورنہ میں بھی نہیں سوؤں گا اور یہ رات بھر خالی پڑا

جب میں نے پنڈت جی کا اصرار دیکھا اور اندازہ کر لیا کہ واقعتا وہ ایسا ہی کریں گے تو میں نے کہا کہ آپ مجھے اختیار دے دیجئے، خواہ میں خود سوؤں یا کسی دوسرے کو سلاؤں تو انھوں نے مجھے اختیار

ہمارے ساتھیوں میں ایک بھائی نصیر الدین تھے جن کی صحت ایسی ڈسٹرب کی وجہ سے بہت خراب ہو گئی تھی گو یا ہمیشہ مریض ہی رہتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ بھائی نصیر تم سو جاؤ۔ پہلے انھوں نے معذرت کی پھر میں نے ان سے کہا کہ اچھا میں امیر قافلہ کی حیثیت سے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ اس پر سو جائیں۔ چنانچہ وہی سوئے۔

مراد آباد میں ہمیں ٹرین تبدیل کرنی تھی۔ رات کے دو بجے کے قریب جب مراد آباد آیا تو ہم لوگوں کو پنڈت جی نے اس طرح رخصت کیا جس طرح وہ اپنے عزیز ترین رشتہ داروں یا دوستوں کو رخصت میرے دل پر آج تک پنڈت جی کے رویہ کا گہرا اثر ہے۔

قرآن مجید کی جس ہدایت و تعلیم کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اگر اس پر عمل کرنے کی توفیق قرآن والوں کو ہو جائے تو روز ایسے ہی تجربے ہوں اور دین و دنیا کے کتنے ہی بند دروازے ہمارے لئے کھل جائیں ۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ ۲۶ جولائی ۱۹۹۰)

تجدید دین ( اضافه شده )

صفحات ۸۸ ۱۵ روپیہ عقليات اسلام ( اضافه شده )

Printed page