خدمت کا کرشمہ
Al-Risala, February 1990, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
ریڈرس ڈائجسٹ (جون ۱۹۸۹) میں ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ایک ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر اشوک مہادیون ہیں۔ سے کراچی گیے اور وہاں قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنی مفصل رپورٹ مرتب کی جو مذکورہ ریڈرس ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ہے۔
یہ کراچی کے ایک شخص کی کہانی ہے۔ اس کا نام عبد الستار ایدھی ہے۔ اس نے اپنی ۴۰ سالہ خدمات کے نتیجہ میں اپنے ماحول کے اندر غیر معمولی عزت اور گرویدگی حاصل کی ہے۔ مسٹر مہادیون کے الفاظ میں ، کراچی کے مجرم لوگ بھی ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں ۔ ایک بار ان کو معلوم ہوا کہ کراچی کے مضافات میں پولیس اور ڈاکوؤں کے گروہ کے درمیان گولی چل رہی ہے ۔ وہ فوراً ایک ایمبولنس لے کر مقام واردات کی طرف روانہ ہوگئے۔ جیسے ہی وہ وہاں پہنچے ، ڈاکوؤں نے ان کو دیکھ کر فائرنگ روک دی ۔ ایدھی اس میں کامیاب ہوگئے کہ وہ ایک سب انسپکٹر کی لاش کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھ سکیں ۔ ڈاکو اس دوران بے تابی کے ساتھ ایدھی کے جانے کا انتظار کرتے رہے اور ہاتھ کے اشارے سے انہیں واپس جانے کے لیے کہتے رہے۔ جیسے ہی وہ وہاں سے روانہ ہوئے ، ڈاکوؤں نے دوبارہ پولیس کے اوپر فائرنگ شروع کردی :
Such feelings are shared even by Karachi's criminals. Once, hearing that the police and a gang of dacoits were engaged in a shoot-out in a city suburb, Edhi drove to the scene in an ambulance. As soon as he arrived, the dacoits stopped firing, and Edhi was able to carry the body of a dead-inspector into his vehicle. The dacoits then impatiently waved Edhi away, and as he left, began shooting at the police again (pp. 116-17). ایک شخص کو یہ درجہ کیسے ملا کہ اس کو دیکھ کر ڈاکو بھی اپنی بندوقیں نیچی کرلیں ۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ اس کا نام عبد الستار ہے۔ اور نہ اس کا سبب احتجاج اور مطالبہ یا جلسہ اور تقریر کے ہنگامے تھے ۔ اس کا سبب خود پرستار اور پروانہ وار خدمت ہے۔ عبد الستار نے اپنے ہم سالہ پر جوش خدمت
عبدالستار ایدھی (عمر ۵۵ سال) ایک پاکستانی مہاجر ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں وہ گجرات کو چھوڑ کر کراچی چلے گئے ۔ ابتدا ء انھوں نے کپڑے اور دوا کی دکان پر ملازمت کی ۔ ان پر کئی ایسے تجربے گزرے جب کہ ایک مریض یا حادثہ کا شکار آدمی کو اسپتال پہنچانے کے لیے فوری طور پرا یمبولینس کار کی مگر وقت پر ایمبولینس نہ پہنچنے کی وجہ سے آدمی تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ ان کے دل میں آیا کہ وہ ایمبولنس سروس کا ایک رفاہی ادارہ قائم کریں گے ۔
۱۹۵۰ء میں انھوں نے عطیات کی رقم سے ایک سیکنڈ ہینڈ ٹرک خریدا اور اس کو ایک معمولی قسم کے ایمبولنس میں تبدیل کر کے مریضوں اور زخمیوں کی خدمت شروع کی ۔ یہ کام بڑھا ۔ یہاں تک کہ اب ان کے پاس ۲۴۵ ایمبولنس کا دستہ ہے۔ وہ کراچی کے اندر اور کراچی کے باہر غریبوں اور معذوروں کی مفت خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کا سماجی خدمت کا ادارہ ہر روز ہزاروں پاکستانیوں کی خدمت کرتا ہے ۔ ایمبولنس کے دستہ کے علاوہ ان کے تحت زچہ خانے ، بلڈ بینک ، اکسرے کلینک ، لیبارٹری، نرسنگ اسکول، یتیم خانے ، معذور خانے وغیرہ چل رہے ہیں۔ انھوں نے ایتھوپیا (۵۳ ہزار ڈالر) فلسطین (۶۶ ہزار ڈالر)، بنگلہ دیش (۱۰ ہزار ڈالر) اور اسی طرح بعض دوسرے ملکوں کے مصیبت زدگان کی خدمت کی ہے ۔ اب وہ ایر ایمبولنس سروس اور دوسرے بڑے بڑے ادارے قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ مثلاً جدید طرز کا اسپتال، حیوانات کا اسپتال وغیرہ۔ ان کا سالانہ بجٹ تقریباً ۱۰ کروڑ روپیہ ہے۔ اور یہ سب عوامی چندوں سے حاصل ہوتا ہے۔ سابق صدر ضیاء الحق نے ایک بار انھیں پانچ لاکھ روپیہ کا چیک بھیجا ۔ مگر عبدالستار ایدھی نے اس کو واپس انھوں نے کہا کہ یہ کام عوام کے لیے ہے اور عوام ہی کو اس کی قیمت دینا چاہیے ۔ سادہ طور پر دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں ۔ لوگوں کو ان کے اوپر اتنا زیادہ اعتماد ہے کہ بغیر طلب انھیں بڑی بڑی رقم دیتے رہتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے جو رقم ان کو دی جائے گی وہ ضرور صحیح طور پر استعمال ہوگی ۔
۱۹۸۶ میں ان کو خدمت خلق (Public Service) کے لیے (Ramon Magsaysay Award)
صرف مدر ٹریسا کو شہرت حاصل تھی۔ اگر چہ مدر ٹریسا کا کام بہت بڑا ہے۔ ان کو نوبیل انعام بھی مل چکا ہے۔ تا ہم عبد الستار ایدھی غالباً مسلمانوں میں پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس میدان میں نمایاں خدمت کا ایسا ثبوت دیا ہے کہ عالمی سطح پر ان کا اعتراف کیا گیا۔
اس طرح کا کام پیشہ ورانہ طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے خدا کی خلقت سے گہری شفقت کا تعلق ہونا ضروری ہے۔ اور یہ چیز مدر ٹریسا اور عبد الستار ایدھی میں مشترک ہے۔ مدر ٹریسا کا کہنا ہے کہ میں ہر انسان کے اندر خدا کو دیکھتی ہوں :