صفحات ۱۷۰ ۳۰ روپیہ
Al-Risala, December 1990, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
کلیم الدین صاحب نیو یارک میں رہتے ہیں۔ وہاں وہ رسالہ کے مشن کو پھیلانے کا کام موثر اند از میں کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے مرکز کی تین کتابیں فوٹو کاپی کے ذریعہ چھاپی ہیں تاکہ ان کو بڑے پیمانہ پر پھیلائیں۔ وہ کتا بیں یہ ہیں : اسلام پندرہویں صدی میں۔ (انگریزی)، اپنے آپ کو پہچان (انگریزی)
لاس اینجلیز (امریکہ ) کی اسلامک سوسائٹی کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے امریکہ کا سفر کیا۔ وہاں ان کے مختلف خطابات ہوئے ۔ یہ سفر نومبر ۱۹۹۰ کے نصف ثانی میں ہوا۔ اس کی مفصل رپورٹ انشاء اللہ سفر نامہ میں شائع کر دی جائے گی۔
بحرین کی وزارة العدل والشئون الاسلامية کے تحت ایک عربی ماہنامہ الھدایۃ نکلتا ہے ۔ اس کے شمارہ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ میں مرکز کی عربی کتاب " تجدید الدین " پر ۹ صفحہ کا مفصل تعارف شائع ہوا ہے ۔ تبصرہ نگار دکتور کارم السید غنیم نے آخر میں لکھا ہے کہ : فانہانری الکتاب الحالی من الاهمية بمکان عظيـم ويتوجـب علىٰ كل مسلم غيور ان يتعرف علىٰ ماجاء فيه (صفحہ ۷۱) ۴۔
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب جو یورپ میں رہتے ہیں ، وہ الرسالہ مشن سے متاثر ہو کر اس کو یورپ میں پھیلا رہے ہیں ۔ الرسالہ انگریزی اور دوسری انگریزی مطبوعات منگا کر وہاں لوگوں کو پڑھنے کے لئے دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ الرسالہ انگریزی کے خاص مضامین فوٹو کاپی کر کے بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان تقسیم کر رہے ہیں۔ اس قسم کے پمفلٹوں کے نیچے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوتے ہیں:
مامون ابراہيم صاحب نیو یارک میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ انگریزی کے ذریعہ نیو یارک میں اسلام کی دعوت پہنچا رہے ہیں۔ بعض عیسائیوں نے ان کی کوشش سے اسلام قبول کر لیا ہے۔
۶ نواب خاں صاحب (غازی پور) نے بتایا کہ غازی پور نے علاقہ کم سارو بار جس میں تقریباً ۲۰ بستیاں ہیں، وہاں شادی بیاہ میں لوگ بہت اسراف کرتے تھے۔ الر سالہ کا فکر اس علاقہ اس کے نتیجہ میں وہاں شادی بیاہ کا طریقہ بدل گیا ہے اور بالکل سادہ انداز میں شادیاں ہونے لگی ہیں۔ الرساله سے متاثر لوگ اصلاحی کمیٹی بنا کر یہ کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح دوسرے مقامات کے لوگوں کو کرنا چاہئے۔
۷ ملک رام ایم اے ہندوستان کے مشہور دانشور ہیں۔ وہ الرساله بہت پابندی کے ساتھ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک مجلس میں الرسالہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا: الرسالہ آج کی دنیا میں بہت بڑا کام کر رہا ہے۔ اس نے قوم کی پوری فکر کوری اور رینیٹیٹ (re-orientate) کر دیا ہے۔
۸ دارالسلام (تننزانیہ) کے مدرسة الثقافة الاسلاميّة کے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انھیں اسلامی مرکز کا انگریزی الرساله ملا اور وہ انھیں بہت پسند آیا۔ اب انھوں نے درخواست کی ہے کہ ان کے مدرسہ کو ہم اپنی میلنگ لسٹ میں شامل کر لیں اور انھیں اعزازی طور پر انگریزی الرسالہ برابر روانہ کریں ( نطلب منكم ان تدرجو ا المدرسة في قائمة المشتركين في المجلة بالمجان وذالك لقلة امكاناتها المالية)، اس طرح کے خطوط ہمیں ملتے رہتے ہیں۔ مگر مرکز کی طرف سے تمام لوگوں کو اعزازی طور پر الرسالہ بھیجنا ممکن نہیں۔ اگر کچھ لوگ تبلیغی جذبہ کے تحت اپنی طرف سے بدل اشتراک ادا کر کے جاری کرائیں تو مناسب ہوگا۔
۹ مالیگاؤں میں ایک روز نامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام " شام نامہ " ہے۔ اس اخبار کے صفحات میں اکثر الرسالہ کے مضامین نقل کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اکثر مقامی اخبار اور رسالے الرسالہ کے مضامین چھاپ رہے ہیں۔
۱۰ جمیل احمد انصاری ( مالیگاؤں ) نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ بمبئی میں ایک فرم میں ان کا انٹرویو تھا۔ انٹرویو لینے والے سب کے سب ہندو لوگ تھے ۔ انھوں نے ایک سوال کیا کہ آپ کون سا میگزین پڑھتے ہیں۔ جمیل احمد انصاری صاحب نے کہا کہ "الرسالہ
منتقلی انٹرویو لینے والوں نے کہا کہ یہ کون سا میگزین ہے، اس کا تو ہم نے نام بھی نہیں سنا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعمیری پرچہ ہے۔ اسی نے میرا ذہن بدل دیا۔ اس کی وجہ سے مجھے یہ حوصلہ ملا کہ آج میں یہاں انٹرویو دینے کے لئے آیا ہوں۔ یہ واقعہ رفیق لقمان انصاری صاحب (رابیگاؤں) نے بتایا۔
مراکش کے ایک خط سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں ایک عرب اسکالر مرکز کے علمی منہج پر ریسرچ کر رہے ہیں اور اس پر اپنا مقالہ تیار کر رہے ہیں۔ ان کے عربی مقالہ کا موضوع (عنوان البحث) یہ ہے: الدراسة والمنهج لفكر وحيد الدين خان من خلال كتابه الاسلام يتحدى۔
الرسالہ کے ہندی ایڈیشن کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انشاء اللہ جلد ہی ہندی الرساله شائع ہونا شروع ہو جائے گا۔ ترجمہ کا کام مسٹر صغیر کرمانی (ایم اے ہندی) انجام دے رہے ہیں۔ عرب حضرات کے اصرار پر تذکیر القرآن کے عربی ترجمہ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ کئی پارہ تک ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ کام مولانا انیس لقمان ندوی مرکز کے تحت انجام دے رہے ہیں۔
امراوتی سے ایک ہفت روزہ اخبار ” باغبان “ کے نام سے نکلتا ہے۔ وہ مستقل طور پر ہر اشاعت میں الرسالہ کے مضامین شائع کر رہا ہے۔ اسی طرح مختلف اخبارات و رسائل کبھی حوالہ کے ساتھ اور کبھی بغیر حوالہ الرسالہ کے مضامین نقل کرتے ہیں۔
دہلی سے انگریزی میں ایک دو ماہی پرچہ نکلتا ہے۔ اس کا نام لو کاین بلیٹن ہے۔ اس کے شمارہ نومبر- دسمبر ۱۹۸۹ میں الرسالہ انگریزی کا ایک آرٹیکل مفصل نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس طرح مختلف پرچے الرسالہ کے مضامین چھاپتے رہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے الرسالہ کا پیغام مختلف حلقوں میں پہنچ رہا ہے۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات میں ” اللہ اکبر“ اور ” عظمت قرآن“ کے نسخے کافی عرصہ سے ختم ہو چکے تھے۔ دونوں کتابیں دوبارہ چھپ کر آ گئی ہیں۔ اسی طرح ” تجدید دین “ اور ” عقلیات اسلام “ کے نئے اضافہ شدہ ایڈیشن تیار کیے گئے ہیں جن کی ضخامت پہلے کے مقابلہ میں تقریبا دوگنی ہوگئی ہے